عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ: کیا آئندہ بجٹ تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں مستحکم رہ پائیں گی؟

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے اور عالمی منڈی میں اس کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک روسی جارحیت کے پس منظر میں روسی تیل پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جس کے جواب میں روس کا کہنا ہے کہ اگر مغرب نے روس کے تیل پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تو وہ جرمنی کو گیس سپلائی کرنے والی مرکزی پائپ لائن کو بند کر دے گا۔

روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نواک کا کہنا ہے کہ ’روسی تیل پر پابندی کے عالمی منڈی کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔' ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس صورتحال میں تیل کی قیمت ممکنہ طور پر بڑھ کر تین سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ جانے کے امکانات ہیں۔

روس کی جانب سے یوکرین میں زمینی فوج کے داخلے کے بعد جہاں عالمی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تو دوسری جانب تیل اور سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں کے ساتھ بجلی کے نرخوں میں کمی لا کر انھیں اگلے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کر دیا گیا ہے یعنی حکومتی اعلان کے مطابق تیل اور بجلی کی قیمتیں آئندہ بجٹ تک نہیں بڑھائی جائیں گی۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے دیا جانے والا یہ ’ریلیف پیکج‘ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بڑھتے ہوئے مالی خسارے کا سامنا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ملکی محصولات میں 280 ارب سے زائد ہونے والے اضافے کے ذریعے اس ریلیف پیکج کو جاری کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹیکس کے ذریعے مزید آمدن کو بھی عوام کو ریلیف دینے کی مد میں استعمال کیا جائے گا۔

حکومتی اندازوں کے مطابق پٹرول، ڈیزل، بجلی کے نرخوں میں کمی اور کچھ دوسرے ریلیف اقدامات کی صورت میں 237 ارب روپے کے اضافی اخراجات اپنے خزانے سے ادا کرنے پڑیں گے۔

وزیر اعظم کی جانب سے جب گذشتہ ہفتے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا تھا تو اُس وقت تیل کی عالمی منڈی میں قیمت سو ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی تاہم گذشتہ چند روز میں اس میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔

اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ جنم لے رہا ہے کہ کیا حکومت اس ریلیف پیکج کو رواں برس جون، یعنی اگلے بجٹ کے اعلان تک، فنانس کر پائے گی؟

اس کے بارے میں تیل اور معیشت کے شعبے سے وابستہ افراد تشویش کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق جس رفتار سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ایسی صورتحال میں بجٹ سے عالمی اور مقامی قیمتوں میں خسارے کو فنانس کرنا دشوار ہو جائے گا۔

تاہم وزارت خزانہ کے مطابق حکومت اس ریلیف پیکج کو فنانس کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچی آئیں گی۔

تیل کی عالمی قیمت اور مقامی قیمت میں کتنا فرق ہے؟

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں جب حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں کو بجٹ تک منجمد کرنے کا اعلان کیا گیا تو اس وقت تیل کی عالمی قیمتیں سو ڈالر کے لگ بھگ تھیں تاہم سوموار کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

تیل کے شعبے کے ماہر اور ایک ملکی ریفائنری کے چیف ایگزیکٹیو زاہد میر نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا اگر گذشتہ ہفتے کے آخری پانچ روز کو دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت 22 ڈالر فی بیرل اور پٹرول کی قیمت 18 ڈالر فی بیرل تک بڑھ چکی ہے۔ ’پاکستان میں ماہانہ دو ارب لیٹر پٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے اور اگر تخمینہ لگایا جائے تو عالمی اور مقامی قیمتوں میں چالیس ارب کا فرق ہو گا جو حکومت کو پرائس ڈیفرنشل کلیم (پی ڈی سی) کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ حکومت نے ابتدائی طور پر صرف بیس ارب اس مد میں رکھے ہیں۔‘

انھوں نے کہا قیمتوں میں اچانک اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ سارے حکومتی تخمینے غلط ہو گئے اور آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے سبسڈی دینا مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔

انھوں نے کہا ایک سرکاری سمری کے مطابق مارچ کے مہینے میں تیل کی عالمی قیمتوں کا تخمینہ 111 ڈالر فی بیرل رکھا گیا اور اس پر حکومت نے 12 ارب کی سبسڈی دینے کا تخمینہ لگایا، تاہم اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے جس کی وجہ سے سبسڈی کی رقم مزید زیادہ بڑھ جائے گی۔

حکومت نے اس سلسلے میں کیا منصوبہ بنایا تھا؟

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تیل کی قیمتوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک منجمد رکھنے کے لیے حکومت نے جو منصوبہ بنایا ہے اسے وفاقی حکومت کی پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایک سمری کی صورت میں حکومت کو پیش کیا گیا تھا۔

اس کے تحت حکومت تیل کے شعبے کی کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں مہنگا تیل خرید کر مقامی مارکیٹ میں ارزاں نرخوں پر فراہمی کے عوض انھیں سبسڈی دے گی جسے ’پرائس ڈیفرنشل کلیم‘ کہا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب پٹرول کی قیمت 149.86 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت 114.15 فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جو حکومتی اعلان کے مطابق رواں برس جون میں بجٹ پیش ہونے تک اسی سطح پر برقرار رہیں گی۔

حکومت نے اس سلسلے میں ابتدائی طور پر 20 ارب روپے کی رقم بھی مختص کی ہے جو تیل کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو تیل کی قیمت موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے دی جائے گی۔

حکومت نے اس سلسلے میں پٹرولیم لیوی کو ڈیزل پر صفر اور پٹرول پر 1.81 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 111 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر جو تخمینہ لگایا گیا اس کے مطابق مارچ کے پہلے پندرہ روز میں حکومت 12 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی۔

بجلی کے نرخ کم کرنے پر حکومت کو کتنا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا؟

وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق بجلی کے نرخوں میں پانچ روپے فی یونٹ بھی کمی کر دی گئی ہے اور یہ کمی اگلے مالی سال کے بجٹ تک برقرار رہے گی۔

پاکستان میں بجلی کی قیمتیں بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز یعنی بجلی بنانے والے ایندھن کی قیمتوں میں رد و بدل کی بنیاد پر مقرر ہوتی ہیں۔

وزیر اعظم کے ریلیف پیکج کے مطابق پانچ روپے فی یونٹ کمی سے حکومت کو ساڑھے سترہ ارب روپے کی ماہانہ سبسڈی دینا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ پاکستان میں پانی کے ساتھ گیس، کوئلے اور فرنس آئل سے بھی بجلی بنائی جاتی ہے جن کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں اوپر کی سطح پر موجود ہیں۔

پاکستان میں پاور شعبے کے ریگولیٹر نیپرا کے مطابق ملک میں موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں بجلی بنانے کی لاگت 76 فیصد بڑھ چکی ہے۔

گذشتہ ایک ماہ سے کوئلے، گیس اور فرنس تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے بجلی بنانے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے جسے حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی صورت میں صارفین سے وصول کرتی ہے تاہم اب حکومت نے ریلیف پیکج کے ذریعے بجلی کے نرخوں کو موجودہ سطح پر منجمد کر دیا ہے یعنی اب بجلی کی زیادہ لاگت کو صارفین سے بجٹ تک وصول نہیں کیا جائے گا۔

کیا حکومت مالی بوجھ برداشت کر پائے گی؟

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت کے ریلیف پیکج کے تحت بجلی، ڈیزل اور پٹرول کی کم نرخوں پر فراہمی کے سلسلے میں حکومت کو خسارہ ملکی خزانے سے ادا کرنا پڑے گا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ حکومت نے بجٹ تک بجلی، پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ کچھ دوسرے سماجی منصوبوں کے لیے ڈھائی سو ارب روپے مختص کیے ہیں۔

تونائی کے شعبے کے ماہر سید اختر علی کے مطابق جس طرح عالمی سطح پر تیل و ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس صورتحال میں امیر ملکوں کے لیے آنے والے دنوں میں مشکل ہو جائے گا تو پاکستان جیسے ملک کے لیے تو حالات اور بھی زیادہ بدتر ہوں گے۔ انھوں نے کہا اس صورتحال میں حکومت کا ریلیف پیکج لوگوں کو کیسے آسانی فراہم کر پائے گا؟

معاشی تجزیہ کار علی خضر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ 130 ڈالر فی بیرل اوپر تیل کی قیمتوں کے چلے جانے کی وجہ سے حکومت کو سبسڈی کی مد میں 64 ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کہا کہ جب تک قیمت کم نہیں ہوتی تیل کی قیمتوں کو منجمد لینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا اگر قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مشکل ہو جائے گی، تاہم اگر تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو حکومت کا ریلیف پیکج برقرار رہ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو مزید تیل سپلائی کے لیے کہا گیا ہے تو ایران کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات پر کامیابی کی صورت میں ایک ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں آئے گا جو قیمتوں کو استحکام دے گا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم تیل و ایندھن کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کی وجہ سے ریلیف پیکج پر کسی منفی اثر کے امکان کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت نے ڈھائی سو ارب اس پیکج کے لیے مختص کیے ہیں۔

انھوں نے کہا جب حکومت نے یہ ریلیف پیکج دینے کا ارادہ کیا تو تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کا دھیان رکھا گیا تھا، اس لیے تو ڈھائی سو ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی۔

انھوں نے کہا اگر 28 فروری کو قیمتوں پر نظر ثانی سے لے کر آج تک دیکھ لیں تو حکومت کو ابھی تک ایک ارب کا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے تخمینے سے زیادہ خرچ کرے تاہم اس کے لیے حکومت کو مالی طور پر کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔

مزمل اسلم نے کہا حکومت تیل و ایندھن کی بڑھتی ہقئی قیمتوں کی وجہ سے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ‘آج قیمتیں بڑھ رہی ہیں ہو سکتا ہے آنے والے چند دنوں میں ان میں استحکام آ جائے۔‘