پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ: عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک بڑھنے کیوں لگی ہیں؟

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے سنیچر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو ماہ کے دوران چوتھا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے، پیٹرول کی قیمت میں دس روپے 49 پیسے اور مٹی کا تیل دس روپے 95 پیسے مہنگا کیا گیا ہے۔

اس اضافے کے بعد اب پاکستان میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 137 روپے 79 پیسے ہو گئی ہے جبکہ ایک لیٹر مٹی کے تیل کی قیمت 110 روپے 26 پیسے ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 134 روپے 48 پیسے ہو گئی ہے جبکہ ایک لیٹر لائٹ ڈیزل آئل 108 روپے 35 پیسے کا ہو گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 85 ڈالر فی بیرل ہو گئیں ہیں جو اکتوبر 2018 کے بعد سے ریکارڈ قیمت ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ’حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کا سامنا کیا اور صارفین کے لیے 'زیادہ سے زیادہ ریلیف' فراہم کرنے کی کوشش کی۔‘

خیال رہے کہ جب سے عالمی وبا شروع ہوئی ہے، تیل کی قیمتوں کا مسئلہ عوام کی توجہ سے ہٹتا ہوا نظر آیا تھا کیونکہ سنہ 2020 میں وبا کی شروعات کے بعد سے اور سنہ 2021 کے کچھ مہینوں میں تیل کی قیمتیں کم تھیں لہٰذا اس وقت ایندھن کے ٹینک کو بھرنا تشویش کی بات نہیں تھا۔

تاہم اب لاکھوں گاڑیاں چلانے والے پیٹرول اور ڈیزل بھرواتے وقت اپنی جیبوں کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

واضح رہے کہ جب اس ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً آٹھ سال میں پہلی مرتبہ 80 ڈالر امریکی بیرل سے اوپر چلی گئیں تو دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اس مسلسل اضافے کے پیچھے کیا ہے؟

بی بی سی منڈو کے اینجل برمودیز سے بات کرتے ہوئے ماہرین نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس مسلسل اضافے کے پیچھے نہ صرف روایتی عوامل شامل ہیں، جیسا کہ اوپیک ممالک کی کارکردگی وغیرہ یا پھر مشترکہ عوامل جیسا کہ کووڈ 19۔ اس کے علاوہ اس میں تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کی ایک پوری نئی حکمت عملی بھی شامل ہے۔

Presentational grey line

طلب میں دوبارہ اضافہ، رسد متاثر

رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ کے سینٹر فار انرجی سٹڈیز میں توانائی اور تیل کے ماہر محقق مارک فنلے نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا: ’میرے خیال میں وبائی مرض اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان بہت بڑا تعلق ہے۔‘

ان کے مطابق جس طرح 2020 میں کووڈ 19 کے عالمی حملے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے درمیان مضبوط تعلق تھا، اسی طرح اس سال وبائی مرض کے بعد تباہی سے بحالی نے تیل کی طلب اور رسد دونوں کو متاثر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بنیادی وجہ یہی ہے۔

This week, US crude West Texas Intermediate reached its highest price since 2014

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس ہفتے امریکہ کے ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمتیں 2014 کے بعد سے سے زیادہ دیکھی گئی ہیں

طلب کے حوالے سے ہم کووڈ 19 کے اثرات کے بعد معیشت اور نقل و حرکت کو دوبارہ فعال ہوتا دیکھ رہے ہیں، اس لیے تیل کی طلب میں پچھلے سال ریکارڈ کمی کے تجربے کے بعد ہو سکتا ہے کہ ہم اس سال شاید سب سے زیادہ اضافہ دیکھیں۔‘

اوپیک، روس اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک نے آہستہ آہستہ رسد بڑھانے کا معاہدہ کیا ہوا ہے تاکہ وہ سنہ 2020 کی پیداوار میں کمی کی صورتِ حال کو مکمل طور پر قابو کر سکیں جو وبائی مرض کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔

تاہم یہ اضافہ خود سے ہی نہیں ہوا کیونکہ وہ ہر ماہ مارکیٹ کا جائزہ لینے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں کی غیر معمولی حکمتِ عملی

ایک نیا عنصر جس نے خام تیل کی قیمت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ ہے وہ تحمل جو امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے دکھایا ہے۔

یہ ان کمپنیوں کی ایک غیر معمولی حکمت عملی ہے جو پہلے جب بھی خام تیل کی قیمتیں سازگار ہوتی تھیں تو پیداوار بڑھانے میں لگ جاتی تھیں۔

فنلے کہتے ہیں کہ ’اس سال تیل کی مارکیٹ میں ایک حیران کن کہانی یہ رہی ہے کہ امریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے بہت نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اور انھوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھ کر بہت زیادہ تیل نہیں نکالا۔‘

Oil producers in the United States keep crude extraction limited.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں تیل پیدا کرنے والوں نے پیداوار محدود رکھی ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ’اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کا وبائی مرض سے پہلے والی سطح سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے، جب قیمتیں اب کی نسبت کم بھی تھیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔‘

آئل سروسز کمپنی بیکر ہیوز کے مطابق امریکہ میں گذشتہ ہفتے تقریباً 533 آپریشنل ڈرلز ہوئی ہیں جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں تو زیادہ ہیں لیکن اکتوبر 2014 کے مقابلے میں بہت کم جب ان کی تعداد 1580 تھی۔

امریکہ ’شیل آئل‘ کے ذریعے اپنی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے، جن کے کنویں مختصر وقت میں کام کر سکتے ہیں اور اس کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

یو ایس انرجی ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکی پیداوار کا تقریباً 65 فیصد شیل آئل ہے۔

اگرچہ عام طور پر ہر بار تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے ساتھ شیل مہیا کرنے والوں نے بھی تیل نکالنے میں اضافہ کیا لیکن اس بار انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں؟

مارک فنلے کہتے ہیں کہ ’یہ بنیادی طور پر سرمایہ کاروں کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

’دس برس سے یہ کمپنیاں پھل پھول رہی ہیں لیکن اپنے سرمایہ کاروں کو زیادہ پیسے دیے بغیر جو اب زیادہ محتاط ہو گئے ہیں اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زیادہ کنویں کھولنے اور پیداوار بڑھانے کے لیے منافع استعمال کرنے کی بجائے، کمپنیاں وسائل کو زیادہ ہوشیاری سے استعمال کریں تاکہ وہ منافع لا سکیں۔‘

Many US oil companies suffered heavy losses as crude prices plummeted in 2020.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 2020 میں بہت سی کمپنیوں کو نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا

کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی سست روی نے بہت سی امریکی تیل کمپنیوں کو سخت متاثر کیا تھا، اور اس وقت ڈبلیو ٹی آئی کے خام تیل نے مختصر وقت کے لیے منفی تجارت بھی کی تھی۔

دوسرے لفظوں میں جن کمپنیوں کے پاس تیل تھا انھیں دوسروں کو اس کی دیکھ بھال کے لیے ادائیگی کرنا پڑی اور اس طرح انھیں اسے ذخیرہ نہیں کرنا پڑا۔

فنلے نے کہا کہ ’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور یہ جزوی طور پر (مارکیٹ میں) احتیاط کے لیے ذمہ دار بھی ہے۔ میرے خیال میں اس کا اثر پڑا تھا، یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے اپنا رویہ اس طرح کیوں بدلا۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حکمت عملی کے ساتھ امریکہ میں شیل آئل انڈسٹری شاید اس سال اپنی تاریخ کے بہترین مالیاتی نتائج حاصل کرے۔‘

لہٰذا تیل کی پیداوار میں تحمل اور احتیاط سے نہ صرف اوپیک اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، اس سے امریکہ کمپنیاں بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

افراطِ زر کا دباؤ

وبائی مرض کی وجہ سے سرگرمیوں میں رکاوٹ کے بعد طلب میں تیزی سے بحالی ایک پیچیدہ معاشی صورتحال کا باعث بنی ہے۔

سپلائی چین میں مسائل اور خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے بعض اقسام کی مصنوعات کی نسبتاً قلت پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس میں اب خام تیل کی قیمت میں اضافہ بھی شامل ہو گیا ہے۔

Rising oil prices coincide with problems in global supply chains.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی سپلائی میں مسائل بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے ہیں

ہیوسٹن (ٹیکساس) میں میئر براؤن لا فرم کے وکیل اور تیل کے ماہر ہوزے والیرا کہتے ہیں کہ ’تیل کی قیمت میں اضافہ افراط زر میں اضافے کا باعث ہے کیونکہ تیل بہت سی مصنوعات کے لیے خام مال ہے، اور اس میں بنیادی طور پر پٹرول اور ڈیزل، جو نقل و حمل کے لیے ایک ایندھن تو ہے، لیکن اسے بہت سے معاملات میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘

’اس کے علاوہ، تیل پیٹرو کیمیکل انڈسٹری کے لیے بھی ایک ذریعہ ہے، جہاں اسے پلاسٹک اور دیگر مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے جو آخر کار صارفین کو فروخت کی جاتی ہیں۔‘

امریکہ میں ڈرائیور پہلے ہی پٹرول کی قیمت میں اضافے کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں کیونکہ وہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً فی گیلن 40 فیصد زیادہ ادا کر رہے ہیں۔

والیرا بتاتے ہیں کہ جیسے جیسے تیل کی قیمت بڑھتی ہے، پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ پروڈیوسروں اور ٹرانسپورٹرز کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی جس کی بجلی بالآخر زیادہ قیمتوں کی صورت میں صارفین پر گرتی ہے۔

’پروڈیوسروں اور ٹرانسپورٹروں کو اپنے منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے کے لیے ان زیادہ اخراجات کو واپس وصول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کو مستقل طور پر برقرار رکھ سکیں۔ سو اس طرح تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

والیرا سمجھتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ خام تیل کی قیمت بڑھتی رہے گی یا کم از کم اس کی موجودہ سطح سے بہت زیادہ کم نہیں گرے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’دنیا کے بیشتر ممالک میں کووڈ کے وبائی مرض کے اثرات کے بعد معیشت کی بحالی خود کو کافی حد تک مستحکم نمو کے ساتھ ظاہر کر رہی ہے، جو کہ ہم اب دیکھ رہے ہیں توانائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی کھپت میں نظر آ رہی ہے، جس کا مطلب ہے تیل کی زیادہ مانگ۔ لیکن ضروری نہیں کہ پیداوار اسی شرح سے بڑھے۔‘

موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج

ویلیرا کہتے ہیں کہ اوپیک اور دیگر ممالک کی خام پیداوار کو محدود رکھنے کی حکمت عملی کے علاوہ ایک اور عنصر بھی ہے جو پیداوار کو محدود کر رہا ہے۔ وہ یہ حقیقت ہے کہ بہت سی کمپنیاں تیل میں کم سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ یہ سرمایہ عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ کے ایک حصے کے طور پر قابل تجدید توانائی یا ایندھن کی پیداوار پر لگائیں گی۔

More and more companies are redirecting their investments towards non-fossil energy.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزیادہ سے زیادہ کمپنیاں نان فوسل توانائی پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں

مارک فنلے اپنے طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ایک عالمی رجحان ہے، لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو زیادہ ان یورپی کمپنیوں کو متاثر کرتی ہے جنھیں ان کی سوسائٹیوں کے ذریعے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس منتقلی میں زیادہ تیزی لائیں۔

’میرے خیال میں شیل، ٹوٹل یا بی پی جیسی کمپنیاں توانائی کی نئی صورتوں پر زیادہ وسائل لگانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کچھ امریکی کمپنیاں جیسا کہ شیورون اور ایکسن موبل نے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔‘

فنلے کہتے ہیں کہ خام تیل کی قیمت میں اضافہ کئی جگہوں پر کوئلے اور بجلی کی قیمت میں اضافے کے تناظر میں ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جو کچھ ہوتا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ روایتی توانائی لینڈ سکیپ کی ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے اور یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگرچہ ہم سب فوسل فیول کے کم استعمال کے مستقبل کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن یہ اب بھی دنیا کی توانائی کی طلب کا 85 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔‘

’ایک معاشرے، پالیسی اور کمپنیوں کے طور پر ہمارے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ آپ آج معیشت کو چلانے کے لیے کس طرح قابل اعتماد اور سستی توانائی فراہم کرتے رہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کم فوسل فیول کے مستقبل پر بھی سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کریں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کووڈ۔19 کے تجربے سے ایک چیز واضح تھی۔ پچھلے سال ہم نے تاریخ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سب سے بڑی کمی دیکھی، لیکن کوئی بھی اس تجربے کو دہرانا نہیں چاہتا کیونکہ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی معیشت میں سب سے بڑی کمی کی وجہ سے ہوا تھا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے۔