نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت، والدین بری جبکہ دو شریک ملزمان کو دس، دس سال قید

نور مقدم

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post

    • مصنف, شہزاد ملک، محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ان کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی ہے۔

ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

سزائے موت کے ساتھ ساتھ عدالت نے نور مقدم کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ظاہر جعفر کو 25 سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانہ، اغوا کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید بھی سُنائی ہے۔ نور مقدم کو حبس بیجا میں رکھنے پر مجرم ظاہر جعفر کو علیحدہ سے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعرات کی دوپہر سُنایا گیا۔

فیصلہ سننے کے لیے تمام ملزمان کے علاوہ مقتولہ کے والد اور مدعی مقدمہ شوکت مقدم بھی عدالت میں موجود تھے۔

فیصلے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ وہ ظاہر جعفر کے والدین کی بریت کے معاملے پر اپنے وکلا سے مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ مجرم ظاہر جعفر کے پاس اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق محفوظ ہے۔

عدالت نے کیس پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں مجرم ظاہر جعفر کو مدعی مقدمہ شوکت مقدم کو پانچ لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

اس مقدمۂ قتل میں مجموعی طور پر 12 ملزمان شامل تفتیش رہے جن میں سے چار ملزمان یعنی مرکزی ملزم ظاہر جعفر، اُن کے والد ذاکر جعفر، سکیورٹی گارڈ افتخار اور مالی جان محمد زیرِ حراست رہے۔

دیگر آٹھ ملزمان کو دورانِ سماعت ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں سے چھ ملزمان تھیراپی ورکس کے ملازمین تھے جبکہ دیگر دو میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ اور اُن کا باورچی جمیل شامل تھے۔

ملزمان پر 14 اکتوبر 2021 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مقدمے کا فیصلہ فرد جرم عائد ہونے کے لگ بھگ 17 ہفتے بعد ہوا ہے۔

عمومی طور پر پاکستانی عدالتوں میں قتل کے مقدمات کا فیصلہ اتنی جلدی نہیں ہوتا تاہم اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ سُنانے کا حکم دیا تھا۔

مقررہ مدت تک مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے مقررہ مدت میں چھ ہفتے کی توسیع کی اور جب اس دوران بھی فیصلہ نہ ہو سکا تو پھر ٹرائل کورٹ کے جج کی درخواست پر اس میں مزید چار ہفتوں کی توسیع کر دی گئی تھی۔

ظاہر جعفر کے والدین کو بری کیوں کیا گیا؟

عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ ظاہر جعفر کے والدین پر کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نور مقدم
،تصویر کا کیپشنوہ گھر جہاں نور مقدم کو قتل کیا گیا

اس کی وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ نور اٹھارہ جولائی کو ظاہر کے گھر اور 20 جولائی تک وہیں رہیں تاہم اس دوران ذاکر جعفر اور عصمت ذاکر گھر پر موجود نہیں تھے۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار شوکت مقدم نے اپنے ضمنی بیانات میں اور درخواست میں ملزم کے والدین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ قتل کے منصوبے سے آگاہ تھے اور انھوں نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

فیصلے کے مطابق ’کال ڈیٹیل ریکارڈ‘ (سی ڈی آر) میں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ والدین کا تھیراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور سے رابطہ ہوا لیکن فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سی ڈی آر میں والدین کے اپنے بیٹے ظاہر جعفر سے رابطے میں کوئی صوتی یا تحریری پیغام نہیں ملا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر اور کال ٹیپنگ میں فرق ہوتا ہے۔

فیصلے کے مطابق ظاہر جعفر کی اپنے والدین سے ہونے والی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ یا ٹیکسٹ میسج موجود نہیں اور محض سی ڈی آر کی بنیاد پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ قتل میں ملوث ہیں اور اپنے بیٹے کی جانب سے کیے جانے والے جرم میں وہ کسی بھی طور پر شامل ہیں۔

مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر
،تصویر کا کیپشنمرکزی مجرم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر

طاہر ظہور اور تھیراپی ورکس کے پانچ ورکرز کو اس الزام سے بری کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شواہد میں یہ تو سامنے آیا ہے کہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کا طاہر ظہور سے رابطہ ہوا تھا اور انھوں نے اپنے پانچ ورکرز کو ایف سیون فور میں ان کے گھر بھجوایا تھا۔ تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طاہر ظہور خود اس گھر میں نہیں گئے تھے اور ان کے متعلق جو بھی شواہد ہیں وہ سی ڈی آر کی بنیاد پر ہیں۔ استغاثہ نے کوئی تحریری یا صوتی پیغام نہیں پیش کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بِنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ طاہر ظہور کو مرکزی مجرم کی طرف سے قتل کے منصوبے کا علم تھا۔

فیصلے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تھیراپی ورکس کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر موجود کسی بھی چیز کو غائب نہیں کیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں میں سے ایک امجد محمود زخمی ہوئے۔ تاہم عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ شاک اور پریشانی میں تھیراپی ورکس کے اہلکار پولیس کو مطلع نہ کر سکے۔ یہ قدرتی امر ہے کہ جب آپ کا ساتھی زخمی ہو گیا تو دوسروں کو اس کی جان بچانی تھی۔

عدالتی فیصلے میں تفتیش کے نقائص اور تفتیشی افسر کی جانب سے کی جانے والی بے ضابطگیوں پر بھی بات کی گئی ہے تاہم عدالت کا کہنا ہے کہ ناقص تفتیش جیسے اعتراضات کی سائنسی شواہد کے سامنے حیثیت نہیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ تفتیش کے ناقص ہونے، پولیس گواہان کے بیانات میں تضاد سے بھی کیس خراب ہوا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر کی جانب سے بے ضابطگیاں ملزم کو فائدہ دینے کے لیے ہوسکتی ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر کے خلاف پولیس اتھارٹی کارروائی کرسکتی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس حکام کو تفتیش کی بہتری کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نور مقدم کا قتل

سنہ 2021 میں عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تہوار کی تیاریاں عروج پر تھیں تو اچانک ٹی وی چینلز پر شہر کے بیچوں بیچ ایک لڑکی کے قتل کی خبر نشر ہوا شروع ہوئی۔

وقت کے ساتھ اس قتل کی افسوسناک تفصیلات سامنے آنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس خبر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

منگل، 20 جولائی کی شب اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کو موصول ہونے والی ایک فون کال سے لے کر سات ماہ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی تک 27 سالہ نور مقدم کا قتل ملک میں خواتین کے خلاف جرائم، ان کے عدم تحفظ اور اس سے منسلک بحث کا مرکز بن گیا۔

جب پولیس اس شب ایف سیون میں موجود مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر پہنچی تو ملزم موقع پر موجود تھا جبکہ نور مقدم کی موت واقع ہو چکی تھی۔

نور مقدم کے والد سابق سفارت کار شوکت مقدم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق 'گھر کے اندر جا کر دیکھا تو میری بیٹی کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے قتل کر کے اس کا سر جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا۔'

سر تن سے جدا کر کے قتل کرنے کی مخصوص تفصیل دل دہلا دینے والی تھی لیکن جوں جوں کیس کی تحقیقات آگے بڑھتی گئیں، نور مقدم کی موت کے حوالے سے مزید کربناک تفصیلات سامنے آتی رہیں۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

جہاں نور مقدم کے قتل کی مذمت کی جا رہی تھیں وہیں اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ایک تصویر بھی شیئر کی جا رہی تھی جس میں وہ زمین پر منھ کے بل لیٹے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون کے نشانات واضح تھے۔

اس وحشیانہ قتل کی تفصیلات وقتاً فوقتاً پولیس کی ابتدائی تفتیش کے ذریعے سامنے آنا شروع ہوئیں تو اکثر افراد کے سنگین خدشات سچ ثابت ہونے لگے۔

مقدمے کے آغاز ہی سے ایک بات تو واضح تھی اور وہ یہ کہ یہ مقدمہ جتنا عدالت میں لڑا جانا تھا، اتنی ہی بحث اس پر سوشل میڈیا پر کی جانی تھی۔

ظاہر جعفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس دوران سوشل میڈیا پر 'جسٹس فار نور' کا ٹرینڈ بھی چلنے لگا تھا جس میں ملک بھر سے صارفین انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن دوسری جانب مقتولہ کی کردار کشی اور انھی پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

وفاقی وزرا سے لے کر وزیرِاعظم پاکستان تک ہر کسی نے نور کے قتل کی مذمت کی اور انصاف کی پاسداری کی یقین دہانی کروائی۔

عمران خان کی جانب سے اس قتل کا نوٹس بھی لیا گیا اور پولیس کو سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا کہا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے آئی جی کی جانب سے ایک تفتیشی ٹیم قائم کی گئی جس کا سربراہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن عطا الرحمان کو مقرر کیا گیا۔

اس کے بعد سے اس مقدمے میں 12 ملزمان کو وقت کے ساتھ گرفتار کیا گیا جن میں ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو نور قتل کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا۔

اس کے علاوہ گھر پر موجود تین نوکروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان کے علاوہ تھیراپی ورکس نامی کمپنی کے مالک اور اس کمپنی سے منسلک ایک پانچ رکنی ٹیم کو گرفتار کیا گیا۔ یوں مقدمے کی متعدد گتھیاں وقت کے ساتھ سلجھتی گئیں۔

نور مقدم

،تصویر کا ذریعہSARA MUKADAM

مقتولہ کے ریپ اور ان پر تشدد کی تصدیق

نور مقدم کیس میں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ اور پولیس کی تحقیقات کے دوران مقدمے کے حوالے سے آئے روز نئے انکشافات سامنے آتے رہے۔

ان میں سے بلاشبہ سب سے بڑا انکشاف فرانزک لیب کی ڈی این اے رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کے قتل سے قبل مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے مقتولہ کا ریپ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق جب نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر سے شادی سے انکار کیا تو ملزم نے انھیں زبردستی کمرے میں بند کر دیا اور اپنے چوکیدار سے کہا کہ وہ کسی کو بھی گھر کے اندر نہ آنے دیں۔

اس کے بعد ملزم نے نور پر تشدد بھی کیا اور انھیں قتل کر کے اُن کا سر دھڑ سے الگ کر دیا۔

نور مقدم کیس: کب کیا ہوا؟

Image copyright by Sara Mukadam

سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو قتل کردیا گیا اور اسی روز اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا گیا

وزیراعظم عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیا اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس مقدمے کی سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا حکم دیا۔

ظاہر جعفر کی سپلیمنٹری سٹیٹمنٹ کے بعد ملزم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو بھی اس مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل کر لیا گیا اور پچیس جولائی کو ان دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر
Image caption مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر

اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

Image copyright by Getty Images

سیشن جج کی عدالت نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرد یا۔

Image copyright by EPA

وزارت داخلہ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے تمام ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

اس مقدمے کا چالان پیش کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

Image copyright by Getty Images

ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی اور اسی دوران اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کہا کہ انھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواست عورت ہونے کے ناطے منظور کر لی جبکہ ذاکر جعفر کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی گئی۔

ذاکر جعفر نے اس فرد جرم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو مسترد کر دی گئی۔

پولیس نے حادثے سے جو چاقو برآمد کیا اس پر نور مقدم کے خون کے نشان موجود تھے۔ اس کے علاوہ مقتولہ کے ناخنوں سے ظاہر جعفر کی کھال کے نمونے بھی ملے۔

پولیس کو تفتیش کے دوران جائے حادثہ سے وہ آہنی مکا بھی ملا جس پر نور مقدم کے خون کے نشانات موجود تھے۔

نور مقدم کے خون کے نمونے ظاہر جعفر کی شرٹ پر بھی پائے گئے جس کی تصدیق فرانزک رپورٹ سے ہوئی۔

لاہور، نور مقدم، احتجاج

نور مقدم کی ظاہر جعفر کے گھر سے بچ نکلنے کی متعدد ناکام کوششیں

پولیس چالان میں درج شواہد میں فرانزک لیب کی رپورٹس بھی شامل تھیں جبکہ 18 سے 20 جولائی کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں گھر میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی۔

ان تفصیلات سے یہ تکلیف دہ معلومات بھی سامنے آئیں کہ نور نے 19 اور 20 جولائی کو ظاہر جعفر کے گھر سے بچ نکلنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

سی سی ٹی وی کی پولیس ٹرانسکرپٹ کے مطابق اٹھارہ جولائی کی رات نور مقدم ظاہر جعفر ہاؤس ایف سیون پہنچیں۔

گھر میں داخلے کے تقریباً ساڑھے چار گھنٹے کے بعد رات دو بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم کو بڑے بیگ لے کر گھر کے مین گیٹ سے باہر نکلتے دیکھا گیا لیکن دو بج کر 40 منٹ پر گھر کے مین گیٹ کے باہر کھڑی ٹیکسی میں سامان رکھ کر دونوں واپس گھر میں داخل ہوتے نظر آئے۔

تشدد

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد نور مقدم بظاہر انتہائی گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں ننگے پاﺅں باہر نکلیں اور گھر کے گیٹ کی طرف بھاگیں جہاں موجود چوکیدار افتخار نے مرکزی گیٹ بند کر دیا۔

اسی دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر گھر سے جلدی میں گیٹ پر آیا اور نور مقدم کو دبوچ لیا۔ نور مقدم ہاتھ جوڑ کر ملزم سے منت سماجت کرتی نظر آئیں لیکن ظاہر جعفر انھیں زبردستی کھینچ کر گھر کے اندر لے گیا۔

اگلے روز، یعنی 20 جولائی کو شام سات بج کر 12 منٹ پر نور مقدم کو گھر کے پہلے فلور سے چھلانگ لگا کر گراﺅنڈ فلور کی گیلری کے ساتھ لگے جنگلے پر گرتے دیکھا گیا۔

اس وقت نور مقدم کے ہاتھ میں موبائل فون موجود تھا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی مین گیٹ پر آئیں۔ تاہم نور مقدم گھر سے باہر جانا چاہتی ہیں لیکن گیٹ پر موجود چوکیدار افتخار اور ایک شخص جسے گھر کا مالی بیان کیا گیا ہے گیٹ بند کرتے نظر آئے۔

اسی اثنا میں ظاہر جعفر نے پہلے فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگائی اور دوڑ کر گیٹ سے نور مقدم کو پکڑا اور نزدیکی کیبن میں بند کر دیا۔ اس کے بعد ظاہر جعفر کو کیبن کا دروازہ کھول کر پہلے موبائل فون چھینتے ہوئے اور پھر نور مقدم کو زبردستی کیبن سے نکال کر گھر کے اندر گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

نور مقدم کے والد

ظاہر جعفر کے والد پر الزامات اور عصمت آدم جی کی ضمانت

پولیس نے اس مقدمے میں ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو اعانت مجرمانہ کی دفعہ 109 کے تحت گرفتار کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے ملزمہ عصمت آدم جی کو خاتون ہونے کی بنا پر یہ کہتے ہوئے ضمانت بعد از گرفتاری دی کہ ضمانت کا یہ حکم ٹرائل کورٹ پر اثرانداز نہیں ہو گا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اگر ذاکر جعفر پولیس کو بروقت اطلاع دے دیتے تو نور مقدم قتل ہونے سے بچ سکتی تھیں۔

پولیس کے مطابق جب یہ وقوعہ ہو رہا تھا تو اس وقت ملزم ذاکر نے پولیس کو ٹیلی فون کرنے کی بجائے ایک ری ہیبلیٹیشن سینٹر یعنی تھراپی ورکس کو فون کیا اور کہا کہ 'وہ ان کے گھر جائیں اور دیکھیں کہ کہیں ان کا بیٹا کسی مشکل میں تو نہیں۔'

پولیس کے مطابق ’اگر ملزم ذاکر جعفر اس واقعہ کی اطلاع ری ہیبلیٹیشن سینٹر کو دینے کی بجائے پولیس کو بھی دے سکتے تھے جس سے اس بات کے امکانات زیادہ تھے کہ نور مقدم کو قتل ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔‘

تاہم عدالت نے ظاہر جعفر کے والدین کو ان تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

ظاہر جعفر

ملزم ظاہر جعفر کی امریکی شہریت کی آڑ لینے کی کوشش

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جب ابتدائی سماعت پر پولیس ڈسٹرکٹ عدالت کی طرف کھینچتی ہوئی لے جا رہی تھی، تب ظاہر نے پہلی مرتبہ بات کی اور ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’میں ایک امریکی شہری ہوں۔‘

جب اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے گئے تو امریکی سفارتخانے نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'امریکی شہری جس ملک میں رہتے ہیں ان پر وہاں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی امریکی شہری کہیں گرفتار ہوتا ہے تو سفارتخانہ ان سے ملاقات کر کے ان کا حال احوال پوچھ سکتا ہے اور انھیں وکلا کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔

’تاہم امریکی سفارتخانہ نہ تو قانونی مشورہ دے سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی مجرم کی رہائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔‘

noor

نور مقدم کی کردار کشی، سوشل میڈیا سے عدالت تک

اس مقدمے کے دوران متاثرہ لڑکی پر ہی الزمات عائد کرنے اور متعدد انکشافات سامنے آنے کے بعد ان کی کردار کشی اس مقدمے کی آخری سماعت تک جاری رہی۔

ابتدا میں جب لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنے بیٹیوں کو رات گھر سے باہر نہ گزارنے کی درخواست کی جانے لگی تو اس حوالے سے صارفین کی جانب سے تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اصول لڑکوں پر بھی عائد کیا جائے اور ان کی تربیت کرنے پر وقت لگایا جائے نہ کہ متاثرہ لڑکیوں پر الزامات عائد کرنے پر۔

اس کے بعد اینکر پرسن عمران ریاض خان کی جانب سے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں تحقیقات کے دوران نور کے ٹیکسٹ میسیجز اور کالز کا حوالہ دیا گیا اسے سوشل میڈیا پر مقتولہ کی 'کردار کشی' قرار دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ اینکر پرسن نے زیِر تفتیش معلومات کو استعمال کرتے ہوئے، مقتولہ کی کردار کشی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کو جائز قرار دینے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ عدالتی سماعتوں کے دوران بھی ایسے کئی مواقع پیش آئے جب مقتولہ کی کردار کشی کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل عثمان ریاض گل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے موکل کا نور مقدم کے ساتھ تعلق مقتولہ کی مرضی سے تھا اسی لیے ڈی این اے میں ان کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔

تاہم کیس میں ڈی این اے کی رپورٹ میں نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے ان سے ریپ ثابت ہوا تھا اور جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے نمونے ظاہر جعفر کے ساتھ میچ کر گئے تھے جس کے بعد پولیس نے قتل کے ساتھ ملزم کے خلاف ریپ کی دفعات کا بھی اضافہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ نور مقدم پر بڑی مقدار میں منشیات ظاہر جعفر کے گھر لانے اور ڈرگ پارٹی منعقد کروانے کا الزام بھی عائد کیا۔

ظاہرجعفر

ظاہر جعفر کا عدالت میں آنے کے مختلف انداز لیکن طبی معائنے میں 'فٹ' قرار

مقدمے کی سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر عدالت میں اپنے ہیجانی انداز کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔

ملزم ظاہر جعفر کو ایک دن سٹریچر پر عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ اس سے قبل انھوں نے ایک مرتبہ پولیس اہلکار کرسی پر بٹھا کر کمرہ عدالت میں لے کر آئے تھے۔

اس سے قبل ہونے والی مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس اہلکار ملزم ظاہر جعفر کو سہارا دے کر کمرہ عدالت میں لے کر آئے تھے۔

اس وقت اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملزم ظاہر جعفر کو جمعرات کو عدالت میں پیش کرنے سے پہلے بھی ان کا طبی معائنہ کروایا گیا تھا اس کے علاوہ ماہر نفسیات نے بھی ان کا معائنہ کر کے انھیں 'فٹ' قرار دیا تھا۔

پولیس کی جانب سے تحقیقات کے آغاز میں ہی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملزم کو جب وقوعہ سے گرفتار کیا گیا تو اس کی ذہنی حالت مکمل طور پر نارمل تھی اور وہ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں تھا۔

اس کے بعد ایک مقامی عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔

تحریری فیصلے کے مطابق آٹھ دسمبر کو بھی ملزم ظاہر جعفر کا طبی معائنہ ہوا اور اس دوران کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں نیز میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کے ساتھ ظاہر جعفر کا کوئی سابقہ میڈیکل نہیں لگایا گیا جو ظاہر کرتا ہو کہ انھیں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ ہے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تھیراپی ورکس

نور کے قتل کے واقعے سے قبل پولیس کے مطابق ملزم ظاہر کی والدہ عصمت جعفر نے تھیراپی ورکس میں فون کر کے وہاں سے ٹیم کو بلوایا تھا۔

پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق بیس جولائی کو رات آٹھ بج کر چھ منٹ کی پر تھیراپی ورکس کی پانچ افراد پر مشتمل ٹیم گھر کے گیٹ سے اندر آئی جس کے کچھ ہی دیر بعد تھراپی ورکس کی ٹیم ایک زخمی شخص کو گھر سے باہر گیٹ کی طرف لاتی نظر آئی۔

پولیس حکام نے بتایا تھا کہ گھر کے چوکیدار نے واقعے کے دوران ظاہر کے والد کو فون پر صورتحال بتائی گئی مگر انھوں نے اپنی اہلیہ کو بتایا جنھوں نے آگے تھراپی ورکس سے رابطہ کیا۔

ظاہر کی والدہ عصمت جعفر کی لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ خود بھی فیزیو تھراپی اور نیورو لنگوسٹک پروگرامنگ سے منسلک ہیں جس میں سائیکوتھراپی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ظاہر جعفر خود بھی تھراپی ورکس میں کلاسز لیتے تھے۔

انھوں نے اپنی پروفائل میں لکھا ہے کہ وہ تھراپی ورکس سے سنہ 2015 سے منسلک ہیں تاہم تھراپی ورکس کی ویب سائٹ پر موجود فکیلٹی میں ان کا نام درج نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 'ظاہر کی والدہ عصمت نے تھراپی ورکس رابطہ کر کے بتایا کہ ’میرے گھر جا کر دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔‘ جس کے بعد تھراپی ورکس کے اہلکار وہاں گئے۔‘

پولیس کے مطابق ظاہر نے تھراپی ورکس کے ایک ملازم پر بھی حملہ کیا اور وہ شدید زخمی ہوا، اس کا آپریشن بھی ہوا ہے۔

عدالت کی جانب سے ملزمان پر 14 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ جس کے بعد وکلا کی جرح اور عدالتی سماعتیں چار ماہ تک جاری رہیں اور بالآخر اس کیس کا فیصلہ 24 فروری کو سنایا گیا۔