آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پی ڈی ایم کا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ، فواد چوہدری کو اپوزیشن کی ناکامی کا یقین
پاکستان کی حزب مخالف کی متعدد جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعے کی شب لاہور میں شہباز شریف کے گھر پر جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس ہوا، جس میں مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ لندن میں موجود سابق وزیراعظم نواز شریف نے آن لائن شرکت کی۔
پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی مائی کے لال میں جرات نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لا سکیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ’پی ڈی ایم جرات کرے اور کل تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں، آپ کو ممبران اسمبلی اور آپ کے اپنے رکن اسمبلی بھی حیران کریں گے۔‘
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول نے لکھا: ’یہ جمہوریت کی فتح ہے کہ اب زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اب وہ پارلیمان کا اعتماد بھی کھو دیں گے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کیا کہا؟
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوا ہے اور اس کے لیے حکومت کی حلیف جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کسی سے بھی انفرادی نہیں بلکہ پارٹی کی سطح پر بات کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ہے کہ ’اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے رہے ہیں، جو حلیف جماعتوں سے رابطہ کرے گی اور ان کو قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔‘
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ سندھ کے علاوہ وفاق سے لے کر صوبوں تک جہاں ہو سکا، عدم اعتماد لائیں گے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے فیصلے کے باوجود 23 مارچ کو لانگ مارچ کا فیصلہ بھی برقرار ہے۔
’ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کا کوئی اشارہ نہیں آیا‘
پی ڈی ایم کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بارے میں سینئیر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی کی ثنا آصف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جب بھی ہو، حکومت کو گھبرانا چاہیے کیونکہ یہ کسی وقت بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’فی الحال یہ اس لیے خطرناک نہیں کیونکہ تحریک انصاف کے اندر سے کوئی بڑا گروپ نہیں ٹوٹا۔ یہ نہیں پتا کہ پارٹی کے اندر جب ووٹنگ ہوگی تو کتنے لوگ ووٹ دیں گے۔ دوسرا یہ کہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کا کوئی اشارہ نہیں آیا۔‘
’اگر یہ دونوں چیزیں ہو گئیں تو تحرک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی۔ ابھی اس پر شکوک کا اظہار اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں نہیں ہوئیں لیکن یہ دونوں چیزیں آخری دنوں میں بھی ہو سکتی ہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پی ڈی ایم حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، سہیل وڑائچ نے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں کچھ نہ کچھ ناراض ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق ان کے گلے شکوے ہوتے ہیں تو اسی طرح ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق کے بھی گلے شکوے ہیں۔
’تو ظاہر ہے کہ اگر حالات یا ماحول ایسا بن گیا کہ حکومت جا رہی ہوئی تو پھر یہ بھی اشارے کی طرف دیکھیں گے۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو پھر سارے اس کشتی میں بیٹھ جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا اور تحریک عدم اعتماد صرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے کی تو پھر یہ جماعتیں اس وقت تک انتظار کریں گی جب تک کوئی بڑا چیلنج نہ پیش آئے۔‘