پی ڈی ایم: ’استعفوں کے معاملے پر نظر ثانی کریں، پی ڈی ایم آپ کی بات سننے کو تیار ہے‘

پاکستان میں حزب مخالف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم کے عہدوں سے استعفی دے کر سیاسی ذہانت کا اظہار نہیں کیا تاہم دونوں پارٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ڈی ایم رہنماؤں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کہتے ہیں کہ آپ (پی پی پی، اے این پی) سیاست میں وقار پیدا کریں، اور ہم اس ہی کے منتظر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایک تنظیمی ڈھانچہ ہے اور اس میں شامل جس جماعت یا جماعتوں سے شکایت تھی اُن سے اُن کی عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وضاحت طلب کی گئی تھی مگر اس کے جواب میں دونوں پارٹیوں نے جو رویہ اختیار کیا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے استعفے ان تک پہنچ چکے ہیں مگر پی ڈی ایم انھیں منظور نہیں کر رہی تاکہ یہ جماعتیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ان (پی پی پی، اے این پی) کی عزت نفس کا اس حد تک خیال رکھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے دیے گئے شوکاز نوٹس میں موجود دو لائنیں بھی میڈیا کو نہیں دی گئیں اور یہ نہیں چاہا کہ اختلاف کو چوک چوراہوں میں لے آئیں۔‘

'عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے وضاحت طلب کی گئی۔ دونوں جماعتوں کے قدکاٹھ اور سیاسی تجربے کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو اس وضاحت کا جواب دیں۔ غیر ضروری طور پر اس کو عزت نفس کا مسئلہ بنانا سیاسی تقاضوں کے مطابق نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر سکتی تھیں مگر انھوں نے میڈیا کے ذریعے ہم تک خبریں پہنچانا مناسب سمجھا اور وضاحتی نوٹس کو پھاڑ دیا گیا۔

'میں وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ پی ڈی ایم ایک سنجیدہ اتحاد ہے، ان باتوں کے لیے نہیں کہ ہم کسی عہدے اور منصب پر لڑیں۔ ہم نے بہت سے مشکل مراحل عبور کیے ہیں۔‘

پاکستان کی معیشت اور مہنگائی کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہم نے باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کیے کیونکہ ہمارے سامنے پاکستان کی عوام تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں اور اپنے موقف پر نظر ثانی کریں کیونکہ عوام جس کرب سے گزر رہے ہیں وہاں ہم اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے۔‘

مجھے افسوس ہے کہ پی پی پی اور اے این پی نے اپنے استعفی ہمیں بھیجے مگر ہم اب بھی ان کو کہتے ہیں کہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں، پی ڈی ایم آپ کی بات سننے کو تیار ہے۔

پی ڈی ایم کی تحریک اور اس کے آگے بڑھنے پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی نے حزبِ مخالف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو شو کاز نوٹس بھیجنے پر احتجاجاً ان کی پارٹی پی ڈی ایم کی طرف سے دیے گئے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہو گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ’سی ای سی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ پی ڈی ایم میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام عہدیدارن اپنے اپنے عہدوں سے فی الفور استعفے جمع کروائیں۔‘

بلاول بھٹو کے مطابق ان کی جماعت نے پی ڈی ایم کی طرف سے دیے گئے شوکاز نوٹس کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاست اور بالخصوص اتحاد کی سیاست عزت اور برابری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس شوکاز نوٹس کی کوئی تُک نہیں تھی اور نہ ہی ایسی کوئی روایت ہے کہ شوکاز نوٹس دیے جائیں۔

جو استعفی دینا چاہتے ہیں وہ استعفی دیں مگر اپنا فیصلہ ہم پر مسلط نہ کریں۔

’ہم اے این پی کے ساتھ ہیں اور آئندہ تمام فیصلے باہمی بات چیت سے کریں گے۔ ہمارے دروازے ہر اس پارٹی کے لیے کھلے ہیں جو اس حکومت کو گرانا چاہتی ہے اور حقیقی اپوزیشن کرنا چاہتی ہے۔ ہم حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن کرتے رہیں گے۔‘

شوکاز نوٹس دینے پر انھوں نے پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے غیر مشروط معافی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

’اسعفے نہ دینے کا فیصلہ درست ثابت ہوا‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کو استعفیوں سے نتھی کر کے ایک سازش کے تحت نقصان پہنچایا گیا۔ ’استعفیٰ ٹائم بم ہیں، یہ آخری ہتھیار ہیں اور ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ ہمارا یہ تاریخی موقف درست ثابت ہوا، ضمنی انتخابات میں حکومت کو ایکسپوز کیا گیا دنیا نے دیکھا کہ عوام اپوزیشن کے ساتھ ہے حکومت کے ساتھ نہیں۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت کو نہ پہلے بیٹھنے دیا نہ آئندہ بیٹھنے دیں گے۔ جس کو استعفیٰ دینا ہے دے، مگر کسی دوسری پارٹی کو ڈکٹیٹ نہ کرے۔ پنجاب میں سینیٹ کی پانچ سیٹیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا گیا۔‘

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپوزیشن کے خلاف اپوزیشن کی سیاست نہیں کرنا چاہتے ہیں اور ایسی سیاست کی مخالفت کریں گے۔ دوسری جماعتوں کے کہنے پر اگر الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو پاکستان تحریک انصاف تمام سیٹیں جیت جاتی۔ استعفی، لانگ مارچ کو اپوزیشن کرنے سے مشروط کرنے کا نقصان ہوا۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ن لیگ نے گلگت بلتستان میں اقلیت میں ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی سے اپوزیشن لیڈر کی نشت چھیننے کی کوشش کی۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اصولوں، منشور اور نظریات کے مطابق جمہوریت کی جنگ لڑتی آئی ہے اور کبھی کسی کے خلاف کوئی ذاتی لڑائی نہیں لڑی۔

’پیپلز پارٹی نے اس جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کے عوام کو ایوبی، ضیا اور مشرف کی آمریت سے نجات دلائی ہے اور اب انشاللہ سلیکٹیڈ سے بھی نجات دلائے گی۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سی ای سی نے فیصلہ کیا ہے کہ استعفے نہیں دیے جائیں گے۔ یہ ایٹم بم اور آخری ہتھیار ہونے چائییں۔ ہمارا اب بھی یہی مؤقف رہے گا۔

ان کے مطابق یہ مؤقف صیحح ثابت ہوا۔ ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر پی ڈی ایم نے حکومت کو ایکسپوز کر دیا ہے۔

اگر ہم دوسری جماعتوں کے کہنے پر چلتے اور بائیکاٹ کرتے تو یہ نشستیں تحریک انصاف کو ملتیں جو جمہوری عمل کے لیے اچھا نہ ہوتا۔ ان کے مطابق ہم نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لے کر نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ انھیں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کرنے دی۔

بلاول بھٹو کے مطابق حکومتی امیدوار کو وزیر اعظم کے حلقے سے ہروایا گیا۔

بلاول بھٹو نے پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے وکیل اعظم نذیر تارڑ کو سینیٹر منتخب کرانے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ سوچ ہی کیسے آئی کہ میری ماں کے قتل میں ملوث افراد کے وکیل کوآپ نے سینیٹر بنوایا اور پھر اسے اپوزیشن لیڈر کے لیے سامنے لایا۔

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم انھوں نے خود بنائی تھی۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے سے روابط رکھنے ہوں گے۔ کسی صورت میں عزت اور برابری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے تحفظات ازالہ کیا جائے گا۔