سی پیک: کیا پاکستان کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس معاہدے کے آغاز میں تھی؟

سی پیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے چین کے چار روزہ دورے کے پہلے روز چینی سرمایہ کاروں سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بارے میں بات چیت کے ساتھ ساتھ انھیں یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ پاکستان چین کا ساتھ ’ہر صورت میں دے گا۔‘

اسی دوران وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں ’خوشخبری‘ دی کہ تین چینی کمپنیاں نہ صرف پاکستان کی زراعت کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں بلکہ ٹیکسٹائل میں بھی سرمایہ لگانے کے لیے کئی چینی کمپنیاں تیار ہیں۔‘

ان تمام بیانات سے ایک بار پھر یہ تاثر مل رہا ہے کہ جیسے سی پیک کے تحت منظور شدہ منصوبے اب بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے شروعات میں تھے اور ان پر کام اسی طرح چل رہا ہے جیسے پہلے چل رہا تھا۔

تاہم زمینی حقائق ہمیں اس منصوبے کے بارے میں کیا بتاتے ہیں اور ان منصوبوں کے تحت کتنا کام ہو چکا ہے اور اب کتنا باقی ہے؟ کیا پاکستان کے لیے ان منصوبوں کی آج بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنا کہ اس معاہدے کے طے پانے کے وقت تھی؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملات اب خاصے مختلف ہیں اور اس کی بنیادی وجہ اس حقیقت پسندانہ سوچ کا فقدان تھا جو ان منصوبوں کی شروعات میں حکومتی حلقوں میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جن کا اثر سی پیک کے تحت منصوبوں پر براہِ راست پڑ رہا ہے۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاک چین اقتصادی راہداری کی بنیاد

واضح رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین پاکستان میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس کے تحت سڑکیں، زراعت، بجلی اور پانی کے منصوبوں پر کام ہو گا۔

سی پیک بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے جس کی بنیاد سنہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں رکھی گئی تھی۔

’ون پلس فور‘ کہے جانے والے اس منصوبے میں ون سی پیک کو کہا جاتا ہے اور چار اس کے تحت منصوبے ہیں جن میں گوادر بندرگاہ، توانائی اور مواصلاتی نظام اور صنعتی زونز کو بہتر بنانا شامل ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف نے سنہ 2006 میں چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے جن میں 50 کے قریب منصوبوں پر کام ہونا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے سابق مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بتایا کہ ’یہ منصوبوں سے زیادہ ایک وِش لسٹ (یا خواہشات کی فہرست) تھی۔ جس میں یہ واضح ہے کہ اس ایم او یو کے تحت کام نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ نا ممکن تھا۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند سالوں میں چینی سرمایہ کاری میں بتدریج کمی آئی ہے

’اگر آپ گوادر بندرگاہ کا معاہدہ دیکھیں تو اس میں 91 فیصد ریوینیو شیئر چین کا ہے اور باقی پاکستان کا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ فائدہ کس کو ہو گا اور کس کا مفاد زیادہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں میں ’مسلم لیگ نواز کا بنیادی مقصد پنجاب میں سرمایہ لانا تھا۔ اسی لیے چین نے اورنج ٹرین کے لیے بھی فنڈ دیا اور دو پاور پلانٹ بھی لگوائے۔‘

18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبوں سے متعلق اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے بھیج سکتے ہیں۔

اس دوران سب سے زیادہ تجاویز پنجاب اور سندھ سے پیش ہوئیں اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس کا حصہ دیر سے بنے اور سیاسی چپقلش کی وجہ بھی بنے۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناحسن اقبال کا دعوی ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں سی پیک منصوبوں پر جان بوجھ کر کام کو سست کیا گیا

’پاکستان سمجھتا ہے کہ دوستی ہے اسی لیے سرمایہ لگاتا ہے‘

پاکستان میں سی پیک کی بنیاد ایک ایسے وقت میں رکھی گئی تھی جب پاکستان کو دنیا بھر میں ایک ناکام ملک کا لقب دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود چین نے پاکستان میں 62 ارب ڈالرز کی اقتصادی راہداری کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے بارے میں پاکستان کو یہی تاثر ملا کہ ’چین دوست ہے اس لیے سرمایہ لگاتا ہے۔‘

اس دوران سی پیک کے بارے میں ’گیم چینجر‘، ’فیٹ چینجر‘ جیسے الفاظ کئی بار استعمال کیے گئے لیکن اس کے بارے میں سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمان نے کہا کہ ’سی پیک کو بہت سیاسی بنا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں اس سے کئی زیادہ امیدیں کی جا رہی ہیں اور منصوبوں میں تاخیر کے باعث کہا جاتا ہے کہ سی پیک اس طرح کار آمد ثابت نہیں ہو پا رہا جتنا سوچا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سی پیک کے تحت بننے والے تمام منصوبے بیشک اہم ہیں لیکن یہ کہنا کہ یہ خطے کو بدل دے گا، ایسے بیانات دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ چین اس لیے سرمایہ نہیں کر رہا کیونکہ وہ دوست ہے، وہ پاکستان میں اپنا معاشی مفاد دیکھ رہا ہے۔‘

چین بمقابلہ امریکہ

’کم قرضے والے منصوبوں پر جلدی، دیگر میں تاخیر‘

ایک حکومتی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ان منصوبوں پر جلدی کام کیا جا رہا ہے جن پر قرضہ کم لگے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک عام تاثر یہی ہے کہ سی پیک منصوبے ترقی کے لیے بہت اچھے ہیں لیکن ان سے قرض میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ سڑکوں اور ہائی وے بنانے پر قرض کی شرح نہیں بڑھتی جس کے وجہ سے ان منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ تھر کوئلے کے منصوبہ جس رفتار سے پہلے چل رہے تھے اب بھی ویسے ہی چل رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب توانائی کے شعبے میں قرض کی شرح محدود کرنے کے لیے ان منصوبوں کو روکا جا رہا ہے یا اس رفتار کے ساتھ عمل میں نہیں لایا جا رہا جیسا کہ حکومتی دعوے کیے جا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ کیونکہ ان منصوبوں کو چلانے کے لیے درآمد شدہ ایندھن چاہیے ہوتا ہے اور قرضہ اس لیے بڑھتا ہے کیونکہ ایندھن کا استعمال بیشک کم ہو لیکن پاکستان کو اس کی قیمت پوری ادا کرنی ہوتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے چند کو روکنے کی وجہ سے سی پیک پر کام کی رفتار کم ہو رہی ہے۔

چین منصوبے

’آئی ایم ایف ترقیاتی منصوبوں کو فنڈ نہیں دیتا‘

اسی سلسلے کی ایک کڑی جُڑتی ہے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے۔ اس سے پہلے کئی حکومتوں نے اور خود وزیرِ اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے فنڈ لینے پر تنقید کی ہے تاہم اس کے باوجود موجودہ حکومت کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں میں ایک رکاوٹ آئی ایم ایف کی سفارشات کو بھی مانا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دیتے ہوئے دو اہم شرطیں رکھی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ پاکستان کسی بھی ملک سے کیے گئے معاہدوں کے بارے میں اپنی فنانس بُک آئی ایم ایف کو دکھائے گا جبکہ سی پیک منصوبوں کی شرح سود رازداری میں رکھی جاتی ہے۔

اس دوران پاکستان نے فنڈ حاصل کرنے کے لیے سی پیک سے متعلق فنانس بُک اور منصوبوں کی شرائط کا آئی ایم ایف سے تبادلہ کیا۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’چین کے لیے آئی ایم ایف کا مطلب ہے امریکہ اور پاکستان کا سی پیک کے شرح سود سے لے کر دیگر تفصیلات آئی ایم ایف کو بتانے کا مطلب ہے بیلٹ اینڈ روڈ کے بارے میں امریکی اخباروں اور جریدوں میں مزید تنقیدی کالم کا چھپنا۔‘

آیی ایم ایف کے فنڈ سے متعلق عام تاثر یہ ہے کہ وہ رعایتی ہوتے ہیں جبکہ سی پیک کا قرض کمرشل ریٹ پر ہوتا ہے۔

اسی لیے آئی ایم ایف نے برملا پاکستان سے کئی بار کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے فنڈ کو سی پیک سے جڑے منصوبوں کا قرض چکانے میں استعمال نہیں کرے گا اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا قرض کم کرے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم پاکستان پر اس وقت چین کو دینے والا قرض آئی ایم ایف کو دینے والے قرض سے تین گنا زیادہ ہے۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان نے اس دوران اپنے لیے متبادل آپشن دیکھنے شروع کیے جن میں سعودی عرب اور چین شامل تھے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے اس بار دسمبر 2021 میں پاکستان کو تین ارب ڈالر کا قرض دینے کے ساتھ شرط رکھی کہ وہ یہ ’کسی بھی وقت واپس مانگ سکتا ہے۔‘

سی پیک کے بارے میں ایک حکومتی ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سنہ 2018 میں آنے والی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت سی پیک اور اس سے منسلک منصوبوں کو تشویش سے دیکھتی تھی۔

’نئے حکومتی حلقوں میں تاثر یہی تھا کہ پاکستان کا رجحان چین کی طرف بہت زیادہ ہے جسے بیلنس کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے پہلے ترقیاتی اور معاشی کاموں کے حل کے لیے پاکستان کا رجحان امریکہ اور یورپ کی طرف رہا ہے۔‘

اس دوران چین نے بھی ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو وقت دیا تاکہ وہ اپنی ترجیحات کا خاکہ تیار کر لیں۔

چین کی طرف پاکستان کے اس جھکاؤ کو ’بیلنس‘ کرنے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو وزیرِ اعظم عمران خان نے دعوت دے کر پاکستان بلایا تاہم حکومتی ترجمان کے مطابق پاکستان کو جلد احساس ہو گیا کہ چین ترقیاتی منصوبوں کے لیے سیاسی شرط نہیں رکھتا۔ یعنی انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے، ملک میں مختلف مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات نہیں کرتا۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’سی پیک ختم نہیں ہوا، اب گرمجوشی نہیں رہی‘

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ان دو سال میں حکومت کو اندازہ ہوا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے چین اور مالیاتی فنڈ کے لیے آئی ایم ایف بہتر ہیں۔ تاہم اس وقت سوال ان دونوں آپشن کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔

سی پیک منصوبوں میں رکاوٹ یا سست رفتاری کی ایک اور وجہ چینی کمپنیوں کا حالیہ مطالبہ ہے۔

حکومتی ترجمان نے بتایا کہ اس سے پہلے چینی کمپنیاں کہیں سے بھی انشورنس لینے پر اعتراض نہیں کرتی تھیں۔ ’اب چین کے کمرشل بینکوں کی طرف سے مطالبہ ہے کہ لین دین میں انشورنس بھی چین کے بینکوں سے لینی پڑے گی۔ جس سے نتیجتاً پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔‘

ڈاکٹر فضل الرحمان نے کہا کہ ’اس وقت جہاں پاکستان قرضے کے لیے باگ دوڑ میں مصروف اور اپنے دوست گنتا نظر آ رہا ہے۔ وہیں بلوچستان اور گلگت میں حالیہ واقعات کے تناظر میں چین یہ سوچ رہا ہے کہ کیا پاکستان واقعی اتنی اچھی جگہ ہے سرمایہ لگانے کے لیے۔

’اب گرمجوشی نہیں رہی، اب دونوں ممالک کی رفتار محتاط ہو چکی ہے۔‘