کراچی سے نایاب جنگلی بلی کا جوڑا برآمد: محمکہ وائلڈ لائف نے گاہک بن کر ملزموں کو گرفتار کیا

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’محکمے کی ایک خاتون اہلکار نے گاہک بن کر ملزم سے رابطہ کیا۔ فون پر باقاعدہ سودا ہوا اور ایک لاکھ رقم طے ہوئی۔ اس (ملزم) نے ہمیں شہاب الدین مارکیٹ کے پاس بلایا۔ وہاں اپنی تسلی کے لیے تین، چار گھنٹے تک ادھر ادھر چلواتا رہا۔ اس کے بعد ہمیں وہ لے کر سبزیوں اور پھلوں کی ایک دکان میں لے کر گیا۔‘

’اس دکان کے پیچھے بنے ایک کمرے میں ایک پنجرے میں لپیرڈ کیٹ کا جوڑا رکھا ہوا تھا۔ جس کو ہم نے اپنی تحویل میں لے لیا اور مقدمہ درج کر لیا۔ یہ کارروائی ممکن نہ ہوتی اگر سول سوسائٹی کے لوگ آگے بڑھ کر ہمیں اطلاع نہ دیتے۔‘

یہ کہانی ہے کراچی میں محکمہ وائلڈ لائف کی کارروائی کی جس میں غیر قانونی طور پر نایاب جنگلی بلی (لیپرڈ کیٹ) کی فروخت کرنے والے ایک گروہ کی نشاندہی ہوئی۔

سندھ وائلڈ لائف کے سربراہ جاوید احمد مہر نے بی بی سی کو بتایا کہ سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے ان کو اطلاع ملی تھی کہ لیپرڈ کیٹ کا ایک جوڑا سوشل میڈیا پر فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

’ہم نے فی الفور ایک منصوبہ بنایا اور انسپیکٹر نعیم خان کو ہدایات دی گئیں کہ وہ لپیرڈ کیٹ کو برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کریں۔‘

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ لیپرڈ کیٹ کو غیر قانونی خرید و فروخت میں بر آمد کیا گیا ہو۔ اس سے قبل اسلام آباد میں بھی محکمہ وائلڈ لائف نے ایک لپیرڈ کیٹ کو برآمد کیا تھا۔

لپیرڈ کیٹ: جس کی پاکستان میں تعداد کم ہوتی جا رہی ہے

لیپرڈ کیٹ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پایا جاتا ہے۔ اس کی مشابہت چیتے یا پاکستان میں پائے جانے والے تیندوے سے ہوتی ہے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے سابق چئیرمین ڈاکٹر انیس الرحمان کے مطابق لیپرڈ کیٹ درحقیقت ایک بلی ہے جو پالتو نہیں ہوتی بلکہ جنگلات میں پائی جاتی ہے۔

لیپرڈ کیٹ پر سرچ کرنے والے محب اللہ نوید کا کہنا تھا کہ اس کو مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

’مقامی لوگوں میں جنگلی بلی اور چیتا بلی کے نام زیادہ مشہور ہے۔ یہ عموما چیڑ کے جنگلات میں ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر انیس الرحمان کہتے ہیں کہ اگرچہ بین الاقوامی اداروں کو لیپرڈ کیٹ کی تعداد کے حوالے سے زیادہ فکر نہیں اور نہ ہی بین الاقومی تنظیم برائے تحفظ فطرت (آئی سی یو این) نے اس جنگلی بلی کو خطرے سے دوچار حیاتیات میں شمار کیا ہے مگر پاکستان میں معاملہ مختلف ہے۔

’ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ بد قسمتی سے ابھی تک اس کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے باقاعدہ سروے نہیں ہوا۔‘

محب اللہ نوید کا کہنا تھا کہ اس کی تعداد کم ہونے کی وجہ اس کا غیر قانونی کاروبار ہے۔

بنگال کیٹ: مہنگی بلی کا حصول

اسلام آباد وائلڈ لائف کے سپروائزر محمد ظہیر کے مطابق لپیرڈ کیٹ کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

’کچھ لوگ شوق کے لیے رکھتے ہیں۔ اس کی کھال کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ لوگوں نے گھروں میں ان کے جوڑے رکھ کر ان کی اصل نسل بھی حاصل کرتے ہیں۔‘

سندھ وائلڈ لائف کے سربراہ جاوید احمد مہر کے مطابق لیپرڈ کیٹ کی قیمت ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے جسے ماہر شکاری اسلام آباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور دیگر علاقوں سے پکڑتے ہیں۔

ڈاکٹر انیس الرحمان کے مطابق لیپرڈ کیٹ کو پکڑنے کے لیے پرانا اور روایتی طریقہ اپنایا جاتا ہے جس میں ٹریپ کا جال لگایا جاتا ہے۔ ’ایک مرتبہ جب یہ جال میں پھنس جائے تو اس کا بچ نکلنا ممکن نہیں رہتا۔‘

’اب یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ ایک دفعہ لیپرڈ کیٹ کو قابو کیا۔ اس سے ہر سال بنگال کیٹ کی بلیاں حاصل کیں اور اسے فروخت کرتے رہے۔ یہ کاروبار پھیلتا جا رہا ہے۔‘

’اس طرح کی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ بنگال کیٹ کی پاکستان میں قیمت ساٹھ ہزار روپے سے شروع ہو کر لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ بنگال کیٹ کا رنگ، قد کیسا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

غیر قانونی فروخت: ’صرف فرنٹ مین پکڑے جاتے ہیں‘

سندھ والا واقعہ حالیہ دنوں میں منظر عام پر آیا لیکن اس سے پہلے اسلام آباد میں محکمہ وائلڈ لائف نے دو سال پہلے غیر قانونی کاروبار میں ملوث لوگوں کو پکڑا اور لیپرڈ کیٹ کو برآمد کیا تھا۔

اسلام آباد وائلڈ لائف کے سپروائزر محمد ظہیر کے مطابق دو سال پہلے انھیں اطلاع ملی تھی کہ راولپنڈی کالج روڈ پر لیپرڈ کیٹ فروخت کی جا رہی ہے۔

’ہم نے کاہگ بن کر رابطہ قائم کیا۔ کئی روز بعد وہ ہمیں لیپرڈ کیٹ 45 ہزار روپے میں فروخت کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔‘

ایسے واقعات میں اضافے کی وجہ پر نعیم خان کہتے ہیں کہ کراچی میں جس ملزم کو گرفتار کیا گیا اس کا کردار محدود یعنی صرف فرنٹ مین کا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس شخص سے تفتیش کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کون سا نیٹ ورک تھا اور یہ جوڑا کہاں سے لایا گیا۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے سابق چئیرمین ڈاکٹر انیس الرحمان کہتے ہیں کہ جنگلی حیات منشیات کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔

’اس میں اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات اس کے کاروبار میں ملوث لوگ اپنے اردگرد ایک بڑا جال بن کررکھتے ہیں۔ وہ خود کبھی بھی منظر عام پر نہیں آتے بلکہ وہ اپنی مختلف قسم کی خرید و فروخت میں فرنٹ مین کو استعمال کرتے ہیں۔‘

’ہم نے کئی کیسز پکڑے۔ ہر کیس میں یہ ہی ہوا کہ فرنٹ مین تھا جس کو کسی نے تیندوا، ریچھ یا لیپرڈ کیٹ صرف آگے فروخت کے لیے دیا اور اسے کمیشن کا جھانسا دیا۔ وہ خود بھی اصل کارندوں کو نہیں جانتا۔‘

کراچی سے بر آمد لیپرڈ کیٹ کا اسلام آباد نیشنل پارک میں انتظار

سندھ وائلڈ لائف کے سربراہ جاوید احمد مہر کہتے ہیں کہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ برآمد ہونے والے جنگلی بلی کے جوڑے کو جلد از جلد اسلام آباد پہنچا دیا جائے جہاں پر اسلام آباد وائلڈ لائف کی مدد سے انھیں مارگلہ کے نیشنل پارک میں چھوڑ دیا جائے گا۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی چیئرمین رعنا سعید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم خوبصورت لیپرڈ کیٹ کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 دن تک ان کو قرنطینہ میں رکھ کر ویٹرنری ڈاکٹر کی مدد سے مشاہدہ کیا جائے گا کہ یہ کسی بیماری کا شکار تو نہیں۔ ’اس کے بعد ہم ان کو مارگلہ نیشنل ہل پارک میں چھوڑ دیں گے جہاں یہ اپنے ٹھکانے خود بنا لیں گی۔‘

سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

محکمہ وائلڈ لائف سندھ کو اطلاع دینے والی کراچی کی سول سوسائٹی دراصل ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والے لوگوں کا ایک گروپ ہے۔

عافیہ سلام ایک صحافی ہیں جو ماحولیات کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر جب لیپرڈ کیٹ کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا تو اس وقت ہمارے لوگوں نے یہ اشتہار دیکھ لیا تھا۔

’جس کے بعد ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کو ہر صورت میں آزاد کروانے کی کوشش کرئیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو بھی بنیادی اطلاعات اکھٹی کرسکتے تھے وہ محکمہ وائلڈ لائف سندھ کو فراہم کی گئیں۔

عافیہ سلیم کہتی ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ جنگلی حیات کا غیر قانونی کاروبار بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اگر آپ لالو کھیت والی مارکیٹ میں جائیں جہاں لائن میں پرندے موجود ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم ایمپریس مارکیٹ میں جنگلی حیات کو دیکھا کرتے تھے۔‘

’ہم سمجھتے ہیں کہ پوری کی پوری سول سوسائٹی کو جنگلی حیات کے گھناؤنے کاروبار کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔‘