آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مارخور کے محافظ تنخواہوں سے محروم: ’جب تنخواہ ملتی تھی تو ڈنڈا لے کر ڈیوٹی کرتے تھے‘
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’ہمارے پاس کبھی 35 کمیونٹی واچرز اپنے فرائض انجام دیتے تھے لیکن تنخواہیں نہ ملنے کے بعد سے اب چند ہی کام کر رہے ہیں۔ ہماری کمیونٹی کی اب سات ہزار ایکٹر پر مشتمل گول نیشنل پارک چترال، اس سے ملحق بفرزون کا علاقہ کہلائے جانے والے تقریباً 50 ہزار ایکٹر اور اس میں موجود جنگلی حیات کے تحفظ میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ جنگلی حیات اور نیشنل پارک کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں رہی۔‘
یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے نیشنل پارک میں کمیونٹی واچرز کے سپر وائزر اشفاق احمد کا۔
اشفاق احمد گول نیشنل پارک چترال کے قریب گاؤں گول ڈور کے رہائشی ہیں۔ وہ تقریباً 20 سال سے ملکی سطح پر چلنے والے پراجیکٹ فنڈز فار پروٹیکٹیکڈ ایریا کے ساتھ منسلک ہیں۔
یہ کہانی صرف گول نیشنل پارک کے قریبی رہائشی اشفاق احمد اور ان کے ساتھیوں کی ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے تین اضلاع میں پھیلا ہوئے ہنگول نیشنل پارک اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک مظفر آباد میں فرائض انجام دینے والے کمیونٹی واچرز کی بھی ہے۔
مچھیارہ نیشنل پارک مظفر آباد میں خدمات انجام دینے والے ایک کمیونٹی واچر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سرکاری محکمے والے ہزاروں، لاکھوں روپیہ تنخواہیں لے کر جنگلی حیات کے تحفظ کے مشورے دیتے ہیں جبکہ ہماری دس پندرہ ہزار روپے ماہوار تنخواہ تقریباً تین سال سے بند ہے۔‘
وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’جب ہمیں تنخواہیں ملتی تھیں تو ہم سوٹا (ڈنڈا) لے کر گرمی، سردی میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ وہ غیر قانونی شکار کر سکے۔ اب سرکاری محکمے والے جانیں اور ان کا کام۔‘
بلوچستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے تصدیق کی ہے کہ ان تینوں نیشنل پارک میں تنخواہیں نہ ملنے کے سبب کمیونٹی واچرز کی اکثریت نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔
گول نیشنل پارک چترال میں کمیونٹی واچرز کے کام چھوڑنے کے بعد مارخور کی تعداد کو لے کر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چترال سے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالکبر چترالی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کمیونٹی واچرز کو تنخواہیں نہ ملنے پر گول نیشنل پارک چترال میں مارخور کی تعداد میں ریکارڈ کمی اور غیر قانونی شکار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے تاہم گول نینشل پارک چترال کے ڈی ایف او محمد سرمد مولانا عبدالکبر چترالی کے دعویٰ سے متفق نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں اور ماہرین کی مدد سے حال ہی میں ایک سروے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس کے نتائج جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائلڈ لائف ڈیپار ٹمنٹ کے پاس گول نیشنل پارک اور بفززون علاقے کے لیے کوئی 15 واچرز موجود ہیں۔ جو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق چیف کنزویئٹر اور فنڈ فار پروٹیکٹیڈ ایریا کے چئرمین ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق کمیونٹی واچرز کو تنخواہوں کی ادائیگی وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے کی جانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں وقف فنڈ کی موجودگی کے باوجود پیسے جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کام 20 سال کی محنت پر پانی پھیرنے اور سب کچھ تباہ کرنے کے برابر ہے۔‘
بی بی سی نے وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے ترجمان سے رابطہ کر کے تحریری سوالات بھی بھجوائے مگر وزارت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی جواب نہیں ملا۔
فنڈز فار پروٹیکٹیڈ ایریا کیا ہے؟
ڈاکٹر ممتاز اے ملک بتاتے ہیں کہ ’یہ اس صدی کے آغاز کی بات ہے۔ میں اس وقت محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محسوس کیا گیا کہ پاکستان کے نیشنل پارک یعنی وہ علاقے جو جنگلی حیات کے لیے محفوظ قرار دیے گئے ہیں، ان میں موجود جنگلی حیات کو اس وقت تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا جب تک مقامی برادریاں یعنی کمیونیٹز مددگار نہیں بن جاتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مقامی کمیونیٹز کو فعال کرنے اور ان میں نیشنل پارک اور جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی مدد سے منصوبہ تیار کیا گیا، جس میں مقامی کمیونیٹر کو بااختیار بنایا گیا تھا۔
ڈاکٹر ممتاز اے ملک کے مطابق یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے سر توڑ محنت کی گئی تھی۔ منصوبے کا پہلا مرحلہ سنہ 2003 سے شروع ہوا اور کوئی 2009/10 تک چلا تھا۔ اس میں تقریباً دو سو ملین ڈالر کا فنڈ بین الاقوامی تنظیم گلوبل انوارنمینٹ نے ورلڈ بینک کے ذریعے فراہم کیا تھا۔
اس پراجیکٹ کے ختم ہونے کے قریب محسوس ہوا کہ یہ ایک شاندار منصوبہ ہے۔ جس کے نتائج پوری دنیا میں محسوس ہوئے۔
پاکستان کے تینوں نینشل پارک اور اس میں موجود جنگلی حیات اور بشمول ماخور کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس موقع پر پھر سوچا گیا کہ اس کو کیسے جاری رکھا جائے۔
ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ اس موقع پر فنڈز فار پراٹیکٹیڈ ایریا کو رجسڑ کیا گیا۔ اس کے تین بنیادی بورڈ ارکان میں وہ خود، اس وقت کے آئی جی فارسٹ وزارت ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر بشیر وانی اور اس وقت کشمیر محکمہ وائلڈ لائف کے ڈائریکٹر یوسف قریشی شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا آئین بنا، اس کو رجسڑ کیا گیا۔ آئین میں وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے آئی جی فارسٹ کو اس کا سی او مقرر کیا گیا۔ اس کے لیے فنڈز خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر کے علاوہ گلوبل انوارنمنٹ نے فراہم کیے۔
وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے اپنا فنڈ فراہم نہیں کیا تھا۔ یہ سارا وقف فنڈ تھا۔ وقف فنڈ میں ابتدائی طور پر 166 ملین روپے حاصل ہوئے جو بعد میں شاید 200 ملین تک پہنچ گیا تھا۔
ڈاکٹر ممتاز اے ملک کے مطابق کمیونٹی کو فعال کرنے کے لیے پارک ایسوسی ایشن کے نام سے تنظمیں بنائی گئی۔ جن کے ساتھ کمیونٹی کی مقامی تنظیموں کا الحاق کروایا گیا۔ سب سے پہلا کام جو کیا گیا کہ وہ کمیونٹی ہی میں سے لوگوں کو واچر بھرتی کیا گیا۔
ان واچرز کو مقامی محکمہ وائلڈ لائف کی نگرانی میں دیا گیا۔ ان کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ نیشنل پارک اور جنگلی حیات کا تحفظ کریں گے۔ جس کے اتنے شاندار نتائج نکلے کہ دنیا بھر میں ہمارے اس پراجیکٹ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان کا کہنا تھا کہ مقامی کمیونٹی کو مختلف ترقیاتی منصوبے دیے جس کے فیصلے وہ خود کرتے تھے۔ ہم اس کو منظور کرتے اور فنڈز وزارت ماحولیاتی تبدیلی جاری کرتی تھی کیونکہ اس تنظیم کے آئین میں وقف فنڈ کا نگران اور فنڈز جاری کرنے کا اختیار وزارت کو دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ ماخور کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ٹرافی ہنٹنگ بھی شروع کی گئی۔
’اس سال مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ دو کروڑ روپے میں ہوئی ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھی اتنی ہی رقوم میں ہوتی رہی تھی مگر تقریباً تین سال سے فنڈز ریلیز نہیں کیے جا رہے ہیں۔ جس سے مقامی کمیونٹی انتہائی بدظن ہوچکی ہیں۔ ہم وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو خطوط لکھتے ہیں مگر ہمیں جواب نہیں دیا جاتا ہے۔‘
فنڈز کی بندش اور مقامی کمیونٹی
ڈاکٹر ممتاز اے ملک کہتے ہیں کہ ’ہمیں تحریری طور پر تو نہیں بتایا گیا کہ فنڈز کیوں جاری نہیں کیے جاتے ہیں مگر زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ اس فنڈز کو کسی اور پراجیکٹ یا اس کے وقف فنڈ میں ضم کیا جا رہا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ تین سال ہونے کو ہیں۔ کوئی دوسرا منصوبہ بھی شروع نہیں ہوا اور جاری منصوبے کے بھی اچھے نتائج بر آمد نہیں ہوں گے۔
چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالکبر چترالی کہتے ہیں کہ دنیا اس بات پر متفق ہے کہ مقامی وسائل پر مقامی لوگوں کا حق ہوتا ہے۔ ’اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ جب سے کمیونٹی فنڈز بند کیے گئے ہیں۔ اس وقت سے مقامی کمیونٹی کی دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صرف مقامی کمیونٹی ہی اس قابل ہوتی ہے کہ وہ غیر قانونی شکار کو روک سکے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے کلاس فور اہلکاروں میں اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ بڑے بڑے افسران اور لوگوں کو غیر قانونی شکار سے روکیں۔ سوچیں ایک کلاس فور جس کے پاس کوئی اختیار بھی نہیں وہ کس طرح بڑے لوگوں کو غیر قانونی شکار سے روک سکتا ہے؟
مولانا عبدالکبر چترالی کا کہنا تھا کہ مجھے تو بتایا گیا ہے کہ وہاں پر حالات بہت خراب ہیں۔ مارخور کا غیر قانونی شکار ہو رہا ہے۔ کمیونٹی جو پہلے غیر قانونی شکار کے خلاف ڈٹ جایا کرتی تھی اب اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔
’دنیا بھر میں پالیسیوں کا تسلسل اور پھر کامیاب پالیسیوں کا تسلسل ہی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے جب کمیونٹی کی دلچسپی تھی تو جنگلی حیات کا جس طرح تحفظ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی ہیں۔‘
عالم زیب، پارک ایسوسی ایشن گول نیشنل پارک چترال کے چیئرمین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مقامی کمیونٹی سمجھتی ہے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا، انھیں صرف استعمال کیا گیا۔ جس پر ان میں نہ صرف اشتعال ہے بلکہ وہ غم وغصہ کا شکار بھی ہیں اور اگر ان کا اعتماد بحال نہ ہوا تو یہ انتہائی برا ثابت ہو سکتا ہے۔‘