کیا چین میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا واپس جا کر اپنی تعلیم مکمل کر سکیں گے؟ ’اگر مجھے کچھ اور ہی کرنا تھا تو میرے دو سال کیوں ضائع ہوئے‘

پاکستانی طلبہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Maham Masood

،تصویر کا کیپشنماہم مسعود کا کہنا ہے کہ دو سال سے تعلیم کا سلسلہ عملی طور پر منقطع ہونے کی وجہ سے وہ بے چینی کے مرض کا شکار ہو چکی ہیں
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

'دو سال سے تعلیم کا سلسلہ عملی طور پر منقطع ہونے کی وجہ سے سوچ سوچ کر میں بے چینی کے مرض کا شکار ہو چکی ہوں۔ حال ہی میں طبعیت خراب اور بوجھل ہوئی تو مجھے ڈاکٹر کے پاس لے کر جایا گیا۔ جس نے مجھے انگزائیٹی کی ادویات دیتے ہوئے تلقین کی کہ میں پریشان کن خیالات کو چھوڑ دوں۔ مگر میرا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پریشان کن خیالات سے چھٹکارا پا سکوں؟'

یہ کہنا ہے صوبہ پنجاب کے لاہور کی رہائشی ماہم مسعود کا جو چین میں اپنے خرچے پر تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن کووڈ کی وبا کے باعث دو سال سے وہ واپس نہیں جا سکی ہیں۔

بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کرنے والی ماہم مسعود نے 2017 میں بحثیت سیلف فنانس کے تحت داخلہ لیا تھا جس کی پہلے سال کی فیس چھ لاکھ روپیہ جمع کروائی تھی اور اس کے بعد سالانہ تین لاکھ روپیہ فیس جمع کرواتی چلی آ رہی ہیں۔

ماہم مسعود کہتی ہیں کہ وہ 2020 میں چھٹیوں پر پاکستان آئی تھیں اس کے بعد اب تک واپس نہیں جا سکی ہیں۔

'میری آن لائن کلاسیں بھی ممکن نہیں ہیں کیونکہ تدریسی عمل کے دوران اوقات کار کا بہت فرق ہے۔ اس صورتحال میں سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔'

ماہم مسعود اور ان کے جیسی کہانیاں کوئی ایک دو پاکستانی طلبہ کی نہیں ہے بلکہ تقریباً چھ ہزار طلبہ ایسے ہیں جن کی تعلیم کورنا کی وبا کے سبب سے منقطع ہو چکی ہے اور چین اب ان پاکستانی طالب علموں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے

لگ بھگ ان چھ ہزار طلبہ میں سے کوئی چالیس فیصد طلبہ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جبکہ باقی میڈیکل، انجنئیرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ مضامین کے طالب علم ہیں۔

پاکستانی طلبہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Maham Masood

پی ایچ ڈی کے زیادہ تر طالب علم سکالر شپ کے تحت ہیں جبکہ انجنئیرنگ، میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ مضامیں کے طالب علم اپنے اخراجات خود برداشت کررہے ہیں۔

بی بی سی نے پاکستان کی وزارت خارجہ اور اسلام آباد میں موجود چین کے سفارت خانے سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا مگر کوئی جواب نہ ملا۔

تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ایک ہفتہ وار بریفنگ میں اس صورتحال کے بارے میں بتا چکے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ طلبہ سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ملائیشیا کی اور بات ہے، چین کی اور بات ہے اور چین کسی کو بھی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

ویڈیو میں موجود طالب علم اس پر مزید بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ مجھے کیا سمجھا رہے ہو، کیا یہ مجھے نہیں پتا، چین کی پالیسی ہے وہ نہیں کرنا چاہتا ہے، ان کے صدر کسی سے ملتے ہی نہیں ہیں۔

اس ویڈیو میں شاہ محمود قریشی مزید کہتے ہیں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں، مزید کریں گے۔

سوشل میڈیا پر وائل ہونے والی اس ویڈیو کی ابھی تک کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

شاہ محمود

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

آن لائن پیشہ ورانہ ڈگری قابل قبول نہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے مردان سے تعلق رکھنے والے تیمور خان چین میں میڈیکل کے طالب علم ہیں۔

تیمور خان کہتے ہیں کہ ہم جیسے مڈل اور لوئر مڈل کلاس خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ایک عجیب موڑ پر کھڑے ہیں جہاں پر نہ آگے جا سکتے ہیں اور نہ پیچھے جانے کا کوئی راستہ بچا ہے۔

پاکستان میں میڈیکل اور انجنئیرنگ سے تعلق رکھنے والے اداروں نے اپنی دوٹوک پالیسی کا اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی آن لائن ڈگری قبول نہیں کی جائے گئی۔

تیمور خان کہتے ہیں کہ وہ دو سال سے پاکستان میں بیٹھ کر آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

'اب تیسرا سال شروع ہونے کو ہے۔ پہلے تو خیال تھا کہ چلو آن لائن پڑھ لیں گے مگر اب پاکستان نے واضح اعلان کیا ہے کہ آن لائن حاصل کی ہوئی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی میڈیکل کی تعلیم میں تیسرے سال سے پریکٹیکل شروع ہوجاتے ہیں۔

'اب آن لائن تو پریکٹیکل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ جب تک ہمیں چین میں واپس جانے کی اجازت نہیں ملتی ہے ہمارا تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر رکا رہے گا۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے طالب علم جمال ناصر کہتے ہیں کہ انھوں نے چین ہی سے سول انجنئیرنگ میں بیچلرز کی ڈگری لی تھی۔

'میں وہاں ہی ملازمت کررہا تھا۔ پھر میری کمپنی اور یونیورسٹی کے تعاون سے اسکالر شپ پر مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن بس ستم یہ ہواکہ چھٹیوں میں وہ پاکستان آئے اور اسی اثنا میں کورونا کی وبا کا آغاز ہو گیا۔

جمال نے بتایا کہ ان کی کمپنی والے کہتے ہیں کہ چاہو تو پاکستان میں عملی کام کرلو مگر پاکستان میں ایسی کوئی سہولت موجو دہی نہیں ہے۔

پاکستان میں پریکٹیکل ورک کی سہولتیں نہیں ہیں

تیمور خان کہتے ہیں کہ ان کے اور کئی اور میڈیکل کے طلبہ کو پاکستان کے کالجز میں قبول نہیں کیا جاتا ہے۔

'ہم یہ کوشش کرچکے ہیں مگر ہم ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ا یک تو پاکستان میں لی جانے والی ہم ادا نہیں کر سکے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان اور چین کا معیار الگ الگ ہے۔'

پاکستانی طلبہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Jamal Nasir

،تصویر کا کیپشنجمال ناصر کہتے ہیں کہ انجنئیرنگ کے شعبے میں پاکستان اور چین کا کوئی مقابلہ نہیں ہے

جمال ناصر کہتے ہیں کہ انجنئیرنگ کے شعبے میں پاکستان اور چین کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

'وہاں کی یونیورسٹیوں میں سہولتیں اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کیا دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی موجود نہیں ہوگئی۔ اب اگر ہم لوگ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں پریکیٹکل ورک کربھی لیں تو اس کی چین میں کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔وہ ہمیں پاکستان میں کیے گے پریکٹیکل ورک کی بنیاد پر ڈگری نہیں دیں گے۔'

پی ایچ ڈی کے بھی طالب علموں کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ ان کے لیے اپنے تحقیق مقالوں کو عملی کام سے ثابت کرکے کسی بین الاقوامی جریدے میں شائع کروانا لازمی ہے اور اس کے بغیر پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں مل سکتی جبکہ پاکستان میں سہولتوں کا فقدان ہے۔

خواب بکھر رہے ہیں

ماہم مسعود کہتی ہیں کہ ان کے والد ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں جنھوں نے بڑی مشکلوں سے ان کی فیس کا بوجھ اٹھایا۔

'میں دو سال سے گھر میں بیٹھی ہوں۔ ایف ایس سی کی بنیاد پر کوئی کام تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کے رشتہ دار پوچھتے ہیں کہ گھر میں کیوں ہو تعلیم کب مکمل کرو گی۔

'ان سب سوالات کے جوابات میرے پاس نہیں ہوتے جو مجھے ہیجان میں مبتلا کردیتے ہیں۔ میرے بابا مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر میں پوچھتی ہوں کہ اگر مجھے کچھ اور ہی کرنا تھا تو میرے دو سال کیوں ضائع ہوئے ہیں۔ میرے سارے خواب بکھر رہے ہیں۔'

تیمور خان کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں اور اس کے لیے ان کے والدین نے اپنی آبائی زمین فروخت کر کے فیسیں ادا کی تھیں۔

'اب بھی وہ میری فیسیں قرض لے کر ادا کرتے ہیں جبکہ مجھے بڑا واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ میں ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔'

سحر بانو میکنکل انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ خواب ہر صورت میں پورا ہو مگر صورتحال یہ ہے کہ ہر راستہ بند پڑا ہے۔

'میرے والد ہیوی میکنیکل کمپلیکس میں ایک ورکر تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے ہم بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی تھی۔ میں بھی چین بڑی امیدوں کے ساتھ گئی تھی۔ اس وقت میرے والد زندہ تھے۔ مگر جب 2021 میں ان کی وفات ہوئی تھی تو اس وقت میں پاکستان میں پھنسی ہوئی تھی۔'

ان کا کہناتھا کہ ان کے والد کو ان کی پاکستان میں موجودگی بہت کھٹکتی تھی۔

'وہ بار بار مجھ سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا صورتحال ہے کب تک واپسی ممکن ہوگئی۔ بیماری میں بھی وہ یہ ہی باتیں کرتے تھے۔'

جمال ناصر کہتے ہیں کہ ان کے والد کی تعمیراتی کمپنی ہے اور ان دونوں کو امید تھی کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ وہاں کی ٹیکنالوجی کو پاکستان میں لائیں گے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پاکستانی طلبہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Jamal Nasir

'میری اعلیٰ تعلیم پلوں اور روڈوں پر تھی۔ ہمار اخیال تھا کہ اس کی پاکستان میں بہت ضرورت ہے۔ اب پاکستان میں تو وہی سالوں پرانا طریقہ کار استعمال ہوتا ہے۔ میرا وہاں پر پریکٹیکل شروع ہونے والا تھا۔ میرے دو سال بھی ضائع ہوچکے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کا لانے اور اپنی کمپنی کو جدید بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔'

سحر بانو کہتی ہیں کہ صورتحال یہ ہے کہ اب طلبہ لٹکے ہوئے ہیں۔

'ہم میں سے اکثریت پی ایچ ڈی کرنے کی سکالر شپ پر گئے تھے۔ سکالر شپ پر جانے سے پہلے ملازمتیں کررہے تھے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ نہ کوئی ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی پی ایچ ڈی مکمل ہونے کی کوئی راہ سامنے آرہی ہے۔'