آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریپ، چائلڈ پورنوگرافی کے مقدمے میں سابق پولیس اہلکار کی سزا برقرار، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ماتحت عدالتوں کو متعلقہ مقدمات کے بارے میں ہدایات جاری
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے میٹرک کے طالب علم کو ریپ کرنے اور اس کی برہنہ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے مقدمے میں مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا ہے۔
اس مقدمے میں سابق پولیس اہلکار کو 14 برس قید اور دس لاکھ روپے کے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو پیکا کے قانون میں ترمیم کر کے چائلڈ پورنوگرافی کی سزا 14 سال سے 20 سال تک کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
جج نے ماتحت عدالتوں کو ہدایات بھی دیں کہ جب ایسے مقدمات کی فرانزک رپورٹ میں تصدیق ہو جائے تو پھر متاثرہ فریق کو عدالتوں میں بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے گذشتہ برس شہزاد خالق کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
مجرم شہزاد خالق کے خلاف مقدمہ سنہ 2020 میں تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں استغاثہ کی وکیل خدیجہ علی کے مطابق مجرم شہزاد خالق اسلام آباد پولیس کا اہلکار تھا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے مگر ان کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد اسے معطل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری وکیل خدیجہ علی کے مطابق ماتحت عدالت میں مجرم نے اپنے بیان میں بھی اپنی معطلی کا ذکر کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس پولیس اہلکار کو مقدمے میں ماتحت عدالت کی طرف سے ملنے والی سزا کے بعد برطرف کیا گیا تھا۔
مجرم کے فون سے ہزاروں فحش تصاویر، ویڈیوز برآمد
مقامی عدالت نے چائلڈ پورنوگرافی میں مجرم کو سات سال قید جبکہ نازیبا وڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر پانچ سال قید اور اسلحہ دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکیوں پر دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مجرم کی سزاؤں کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے چائلڈ پورنو گرافی کے مقدمات میں بین الااقوامی قوانین کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کو فالو کرنے کے لیے گائیڈ لائنز بھی جاری کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات میں متاثرہ بچے کو عدالت میں ملزم کے ساتھ پیش نہ کیا جائے اور متاثرہ بچے کا بیان وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔ جج نے ماتحت عدالتوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ چائلڈ پورنوگرافی کے کیسز کا اِن کیمرا ٹرائل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران اسلام آباد پولیس نے ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور بغیر لائسنس کا پستول برآمد کیا تھا۔ فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم کے زیرِاستعمال موبائل فون کی فرانزک رپورٹ نیشنل رسپانس سنٹر فار سائبر کرائمز ایف آئی اے سے حاصل کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے کی فرانزک رپورٹ کے مطابق مجرم کے موبائل فون سے 22800 تصاویر اور 839 ویڈیوز برآمد ہوئیں۔
اس عدالتی فیصلے میں اس رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس موبائل فون سے برآمد ہونے والی فحش ویڈیوز میں سے سینکڑوں پورن ویڈیوز بنانے کی تصدیق ہوئی اور زیادہ تر ویڈیوز میں اپیل کنندہ یعنی مجرم خود موجود ہے۔