چائلڈ پورنوگرافی پر پاکستان میں ’پہلا فیصلہ‘، سرگودھا کے شہری کو سات سال قید

    • مصنف, ساجد اقبال
    • عہدہ, بی بی سی اردو

چند ماہ پہلے قصور میں چھ سالہ زینب کے اغوا اور جنسی درندگی کے بعد قتل کی ہنگامہ خیز میڈیا کوریج کے عین درمیان جب ایک معروف ٹی وی اینکر کا پاکستان میں انٹرنیشنل چائلڈ پورن گینگ سے متعلق بیان سامنے آیا تو پورے ملک میں سراسیمگی پھیل گئی۔

بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی تفتیش میں یہ بیان جھوٹ ثابت ہوا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

تاہم جمعرات کو پاکستان میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت ہونے والے پہلے اور تاریخی فیصلے نے بین الاقوامی چائلڈ پورن گینگ کے وجود سے متعلق خبروں پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

لاہور میں سائبر کرائمز سے متعلق ایک مقامی عدالت نے گزشتہ سال اپریل میں بچوں کی جنسی وڈیوز اور تصاویر کے مکروہ دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار ہونے والے ملزم سعادت امین عرف انکل منٹو کو سات سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو ایک سال مزید قید کاٹنا ہو گی۔

اپنے فیصلے میں جج محمد عامر بیٹو نے چائلڈ پورن کے دھندے کو ایک ایسا مکروہ فعل قرار دیا جس سے معاشرے پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پورنوگرافک مواد کو حاصل کرنے کے دوران بچوں کو ناقابلِ تصور درندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزم سعادت امین نے نومبر 2016 میں دس سے بارہ سال کی عمر کے بچوں کی عریاں تصاویر بنا کر ناروے میں رہنے والے سویڈش شہری کے ہاتھ فروخت کی تھی۔

انھیں ناروے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرف سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت ان کے قبضے سے بچوں کی 65 ہزار عریاں وڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی تھی۔

بعد میں تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جین لنڈسٹروم نامی شخص سعادت امین کے واحد انٹرنیشنل کلائنٹ نہیں تھے بلکہ وہ اس سے پہلے اٹلی، امریکہ اور برطانیہ میں موجود اپنے گاہکوں کو چائلڈ پورن سپلائی کرتے رہے ہیں۔

اس کے بدلے سعادت امین کو بیرون ممالک سے ویسٹرن یونین اور منی گرام کے ذریعے ڈالروں میں بھاری رقوم کی ادائیگی کی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انھیں بیرونِ ملک اپنے گاہکوں سے 138 ٹرانزیکشنز کے ذریعے 23 ہزار ڈالر سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔

انگلینڈ کے شمال مشرقی قصبے سکنتھارپ کے ایک رہائشی کی طرف سے سعادت امین کو 78 مرتبہ رقوم بھیجی گئیں جس کی بنیاد پر انھیں سعادت امین کا سب سے بڑا گاہک بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق سعادت امین کے وہ مبینہ گاہک 28 جنوری 2012 کو اپنی کار ایک ویران جگہ پر پارک کرنے کے بعد روپوش ہو گئے تھے اور تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے روپوشی کا معمہ حل نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان میں الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے قانون سنہ 2016 کے تحت دی جانے والی اس سزا کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں ملزم کو زیادہ سے زیادہ ممکن یعنی سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم سائبر کرائمز کی تفتیش کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ اب بھی اس قانون میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جن سے جرم کرنے والے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم پر قانون سازی کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے ملزم سعادت امین کو گذشتہ برس سرگودھا سے گرفتار کیا تھا اور وہی اس مقدمہ کی تفتیش کرنے کے بعد اسے شواہد سمیت عدالت میں لے کر گئے۔

بی بی سی اردو کے عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں ان کے پاس اس قدر ثبوت موجود تھے جو ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ثابت ہوئے۔ تاہم الیکٹرانک کرائمز کے حوالے سے اکٹھے کیے جانے والے ثبوت روایتی قوانین کے احاطے میں نہیں آتے۔

’ہمارا چونکہ ڈیجیٹل ایویڈینس یا ثبوت ہوتا ہے تو بہت سے ایسی چیزیں ہیں جن کی تعریف قانون میں واضح طور پر دی ہونی چاہیے۔ جیسے آئی پی ایڈریس ایک ایسی چیز ہے جسے آپ بگاڑ نہیں سکتے یا تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے پاس ایک بہت مستند ثبوت ہوتا ہے تاہم ہمارے لیے عدالت میں اس کی صداقت ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس جب وہ کوئی ڈیوائس یا آلہ قبضے میں لیتے ہیں تو اس کی فرانزک رپورٹ کو عدالت مان لیتی ہے۔

ایسے دیگر شواہد بھی ہیں جو سائبر کرائم میں ملوث افراد کو سزا دلوانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں مگر روایتی قوانین کی نظر میں ان کی تعریف ہونا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی مطابقت سے سائبر کرائم کے مقدمات میں پیش کیے جانے والے گواہان سے جرح کے طریقہ کار بھی واضح کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی نزاکت کی وجہ سے ان کے لیے گواہ اکٹھے کرنا مشکل کام تھا۔ گواہان اور بچوں کے اس بات پر قائل کیا گیا کہ ان کی گواہی سے بہت سے بچوں کا مستقبل بچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہی وہ تین گواہان پیش کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

آصف اقبال کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے بعد چائلڈ پورنوگرافی کو سب سے گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ ’چائلڈ پورنوگرافی کے لیے سزا مزید سخت ہونی چاہیے۔ یہ جرم کرنے والے ہمارے ملک کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آصف اقبال نے کہا کہ اس مقدمے کے بارے میں اہم بات ایک مختصر مدت میں اس کا اپنے انجام کو پہنچنا بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسے مقدمے کو ناروے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا لیکن وہاں پر چلنے والا مقدمہ ابھی تک ٹرائل کے مختلف مدارج طے کر رہا ہے جبکہ یہاں پر ملزم کو سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔