ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی جائے: نور مقدم کے والد کی عدالت سے استدعا

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

نورم مقدم کے والد سابق سفارتکار شوکت مقدم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی بیٹی کے قتل میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو پھانسی کی سزا سنائی جائے۔ سنیچر کو اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جج عطا ربّانی نے نور کے والد شوکت مقدم کا بیان قلمبند کیا۔

شوکت مقدم نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ 'میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ میری بیٹی کا ناحق قتل کیا گیا ہے۔ ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی جائے۔ کیونکہ یہ صرف میری بیٹی نہیں قوم کی دیگر بیٹیوں کا سوال ہے۔ میری بیٹی باقی پاکستانی بیٹیوں کی طرح ہے۔'

واضح رہے کہ جولائی 2021 کو نور مقدم کی لاش اسلام آباد کے ایف سیون فور کے ایک گھر سے ملی تھی اور پولیس نے جائے وقوعہ سے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس کیس میں پولیس نے 11 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی تھی، جس کی سماعت اکتوبر 2021 کو شروع ہوئی۔

سنیچر کو عدالتی کارروائی کا احوال

سنیچر کو حلف لینے سے پہلے شوکت مقدم نے عدالت کو کہا کہ 'میں اپنی زندگی میں پہلی بار عدالت میں پیش ہوا ہوں۔ اگر کوئی بات پروٹوکول کے خلاف ہو جائے تو درگزر کردیجیے گا۔' جج نے انھیں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کو کہا۔‘

نور کے والد کے علاوہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد، مالی اور چوکیدار کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

شوکت مقدم کا بیان قلمبند ہونے کے بعد ملزمان کے وکلا نے ان کے بیان پر جرح شروع کرتے ہی استدعا کی اور کہا کہ کافی دنوں سے ظاہر جعفر کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

اس بات پر جج عطا ربّانی نے کہا کہ 'میرے سننے میں آیا ہے کہ اس نے (یعنی ظاہر جعفر نے) آج پھر کسی سے جھگڑا کیا ہے۔'

اس بات پر ظاہر کے وکلا نے کہا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہے مگر 'اس کی طبیعت ناساز ہے لیکن وہ ویل چئیر پر آسکتا ہے۔' ان کے مطابق ظاہر جعفر کو کافی وقت سے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، جس پر جج نے کہا کہ اگر آپ کو ملاقات کرنی ہے تو وہ ہو جائے گی۔

ظاہر جعفر کے وکلا نے عدالت میں درحواست کی ہے کہ ظاہر جعفر کو پچھلے دس دن سے اڈیالہ جیل میں میڈیکل مسائل ہیں، جس کی وجہ سے وہ نہ چل سکتا ہے، اور نے ہی کھڑا رہ سکتا ہے۔ اس لیے اسے 15 جنوری کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور اس دوران مدعی کا بیان ظاہر جعفر کی غیر حاضری میں قلمبند کروایا گیا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ظاہر جعفر کو جیل کا عملہ ویل چئیر نہیں دے رہا ہے اور نہ ہی اسے طبی سہولیات دی جارہی ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جیل کی انتظامیہ کو ظاہر جعفر کو طبی امداد اور سہولیات دی جائیں اور اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کی جائے۔

اس دوران شوکت مقدم کے بیان پر جرح جاری رہی اور ان سے ان کے بیان سے معتلق سوالات کیے گئے۔

شوکت مقدم نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ایف آئی آر میں انھوں نے نور کے قتل سے پہلے جتنے دوستوں سے رابطہ کیا ان کا نام اور فون نمبر درج نہیں کروائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'مجھے نور نے نہیں بتایا تھا کہ وہ لاہور جارہی ہیں۔ عموماً وہ بتا کر جاتی تھیں یا کبھی کبھار کہیں پہنچ کر بتا دیتی تھیں کہ میں اس جگہ موجود ہوں۔'

شوکت مقدم نے بتایا کہ انھوں نے نور کو تلاش کرنے کے لیے ان کے تمام تر دوستوں سے رابطہ کیا اور ان کے گھروں تک بھی گئے۔جبکہ انھوں نے وضاحت کی کہ انھوں نے 'ان تمام دوستوں کے نام ایف آئی آر میں درج نہیں کروائے۔'

شوکت مقدم کے مطابق 'پھر 20 جولائی کو نور کا فون آیا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ لاہور جارہی ہیں۔ جس کے بعد میں نے تلاش ختم کر دی۔'

اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج مکمل دیکھی ہے۔

'میں فاسٹ فارورڈ کرتا رہا کیونکہ کئی جگہوں پر اندھیرا تھا۔ لیکن جہاں، جہاں نور نظر آرہی تھیں یا کوئی پیشرفت ہورہی تھی میں وہاں رک جاتا تھا۔ اور بغور دیکھتا تھا۔'

سوالات مکمل ہونے پر تھراپی ورکس کے وکیل اکرم قریشی نے بتایا کہ وہ دیر سے عدالت پہنچے ہیں۔ اور پہنچتے ہی دس منٹ کا وقفہ مانگا تاکہ جو جرح (یعنی سوالات) پہلے ہوچکے ہیں وہ نہ دہرائیں۔

عدالت نے انھیں دس منٹ کا وقفہ دیا، جس کے بعد اکرم قریشی نے شوکت مقدم سے سوالات کیے۔

ان کے سوالات ختم ہونے پر مالی جان محمد کے وکیل محمد سیف نے سوالات کیے۔ ان سوالات کے جواب میں شوکت مقدم نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے 20 جولائی کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی اور اور 8 اگست کو مالی کو اس بنیاد پر نامزد کیا کہ انھوں نے گھر کا داخلی دروازہ نہیں کھولا۔

محمد سیف نے کہا کہ مالی کا کام دروازہ کھولنا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

اس مکالمے کے فوراً بعد ظاہر جعفر کے وکیل سکندر ذوالقرنین کی عدالت سے غیر حاضری پر ان کے ساتھی وکلا نے کہا کہ وہ کورونا وائرس ہونے کے باعث عدالت میں نہیں آسکتے۔

جج عطا ربانی نے کہا کہ جب سرکاری وکیل شہریار عدالت میں موجود ہیں تو آپ بیشک دو سوال اور کر لیں۔

اس بات پر مزید بحث ہونے لگی کہ آیا سرکاری وکیل کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود عدالت بلا لیا جائے یا نہیں۔ جبکہ وکیل اسد جمال نے کہا کہ چھ، چھ فٹ کے فاصلے سے جرح ہو جائے گی۔

اس بات پر نور مقدم کی طرف سے آئے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ منصفانہ طریقے سے کارروائی ہو، اس لیے بیشک 17 جنوری تک سماعت ملتوی کردیں۔ جس پر جج عطا ربانی نے 17 جنوری تک سماعت ملتوی کردی۔

اب 17 جنوری کو سماعت میں تفتیشی افسر پر بھی جرح ہوگی۔