نور مقدم قتل کیس: ظاہر نے میری بیٹی کو ناحق قتل کیا ہے، اسے سخت سزا دلوائی جائے، والد

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے گذشتہ روز اسلام آباد میں ایک نوجوان خاتون نور مقدم کے ’وحشیانہ قتل‘ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوفناک یاد دہانی کہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ انھیں کسی سزا کے ڈر کے بغیر قتل بھی کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے گذشتہ روز قتل ہونے والی 27 سالہ نور مقدم کے کیس میں نامزد ملزم ظاہر جعفر کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے اسے مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق عدالت سے سات روزہ ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی تاہم ڈیوٹی مجسٹریٹ نے دو روزہ ریمانڈ منظور کیا۔

شیریں مزاری نے ٹویٹ میں مزید کہا کہ 'اب یہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور جن ملزمان کے پاس اثر و رسوخ اور طاقت ہے وہ بازیاب نہ ہو سکیں۔

انھوں نے لکھا کہ وزارتِ انسانی حقوق پولیس سے رابطے میں ہے اورہم نور کے خاندان کے ساتھ ہیں اور انھیں جو مدد بھی درکار ہو گی ہم فراہم کریں گے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے جس کرب اور درد سے یہ خاندان گزر رہا ہے۔

اس سے قبل نور مقدم کے قتل کی ایف آئی آر اُن کے والد اور سابق سفیر شوکت مقدم کی مدعیت میں درج کروائی گئی تھی جس میں مقتولہ کے دوست ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا تھا۔

تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او محمد شاہد کے مطابق قتل کا یہ واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور میں منگل کی رات آٹھ بجے کے لگ بھگ پیش آیا۔ ایس ایچ او کے مطابق نور مقدم کو تیز دھار آلے کی مدد سے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی 19 تاریخ کو گھر سے گئی تھیں مگر اس کے بعد ان کا فون نمبر بند ہو گیا تھا، تاہم دوبارہ رابطہ ہونے پر مقتولہ نے بتایا کہ وہ لاہور جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق بعدازاں اسلام آباد میں اُن کے قتل کی اطلاع موصول ہوئی۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ نور مقدم کے والد نے بتایا کہ ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی فیملی سے ان کی ذاتی واقفیت ہے۔ ان کے مطابق 20 تاریخ کو انھیں ظاہر جعفر نے کال کی اور بتایا کہ نور ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رات دس بجے انھیں تھانے سے کال آئی کہ آپ کی بیٹی نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے آپ تھانہ کوہسار آ جائیں۔

پولیس انھیں جس گھر میں لے کر گئی وہ ان کے بقول ذاکر جعفر کا گھر تھا۔

’میں نے گھر کے اندر جا کر دیکھا کہ میری بیٹی کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے قتل کر کے اس کا سر جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا ہے۔‘

مدعی شوکت مقدم کا کہنا ہے کہ 'میری بیٹی نور مقدم کو ظاہر جعفر نے ناحق قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے۔ دعویدار ہوں کہ اسے سخت سے سخت سزا دلوائی جائے۔'

اس کیس میں نامزد ملزم کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

قتل کے جرائم کی تفتیش کرنے والے پولیس یونٹ کے اہلکار اور اس کیس کے انویسٹیگیشن افسر دوست محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور اب اس سے قتل کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ملزم سے مزید تفتیش ہی کے ذریعے مزید معلومات میسر آ سکیں گی۔

پولیس حکام کے مطابق وقوعہ کے وقت نور مقدم اس کیس میں نامزد ملزم کے گھر پر ہی موجود تھیں اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر ملزم نے چھری سے گلا کاٹ دیا۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق پولیس کو ایک فون کال کے ذریعے اس قتل کی اطلاع دی گئی اور جب پولیس بتائے گئے ایڈریس پر گئی تو ملزم وہیں موجود تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ فون کال کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’فون پر اطلاع ملی کہ ایک خاتون کو قتل کیا گیا ہے اور وہ موقع پر موجود ہے۔ پولیس جب وہاں پہنچی تو ملزم موجود تھا جسے گرفتار کر لیا گیا۔‘

نور کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

گذشتہ شب گیارہ بجے پولیس حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پر بتایا گیا تھا کہ اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

گذشتہ رات نور مقدم کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ واقعہ زیِر بحث ہے۔

جہاں کچھ افراد خصوصاً خواتین، عورتوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے حکام سے سنجیدگی دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں گذشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یکے بعد دیگرے خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بعد اسلام آباد کے 'محفوظ شہر' ہونے پر بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔

صحافی رابعہ محمود پوچھتی ہیں کہ کب ایسی حکومت آئے گی جو خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو لے کر ایمرجنسی کا اعلان کرے گی؟ پاکستانی مردوں کی خواتین سے نفرت وبائی بیماری کی طرح ہے اور یہ کسی بھی طرح کی طبقاتی، نسلی یا مالی تقسیم سے بالاتر ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ 'اسلام آباد غیر محفوظ ہو چکا ہے یا انسانی جان کی قیمت ختم ہو گئی ہے؟

’خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشرہ پرتشدد رویہ اپنا رہا ہے، ایک کے بعد ایک خوفناک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کمزور نظام انصاف جرائم کی مزید حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔‘

عروج سیامی نامی صارف نے لکھا ’کیا کہا جائے؟ یہ اسلام آباد میں ہوا جو سیاست اور سفارتکاروں کا شہر ہے۔ یہ اب محفوظ نہیں رہا، یہ اب سیف سٹی نہیں رہا۔‘

مہوش پال نے لکھا ’خواتین پر ظلم اور تشدد کا جواز کبھی نہیں مل سکتا۔ میں ایسی دنیا کے لیے دعا ہوں جو تمام خواتین کے لیے محفوظ ہو۔‘

نور مقدم کی سہلیاں بھی انھیں یاد کرتے ہوئے اُن کے قتل پر رنج کا اظہار کر رہی ہیں۔

ان کی دوست یمنیٰ نے ان کے نام پیغام میں لکھا ’پیاری نور، میں سمجھ نہیں پا رہی کہ وہ درندہ تم جیسی پیاری روح کے ساتھ یہ کیسے کر سکتا ہے۔ میں تمھارے مسکراتے چہرے، عاجزانہ انداز اور تمھاری مثبت انرجی کے بارے میں سوچنے سے خود کو روک نہیں پا رہی۔ تمھارے پورے خاندان کی ہمت کے لیے دعا گو۔ یہ ایک ناقابل یقین نقصان۔‘