منی بجٹ: پاکستان کی پارلیمان میں مالی ضمنی بِل یعنی فنانس سپلمنٹری بِل پر بحث

پاکستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

'بجٹ پہلے سے پاس نہیں ہوچکا؟ تو پھر یہ مِنی بجٹ کیا ہے؟ اور اس پر کیوں بات کی جارہی ہے؟ 'یہ کیسی ریاستِ مدینہ ہے جہاں امیروں پر ٹیکس لگانے کے بجائے غریبوں پر لگایا جارہا ہے؟ 'پچھلے دس سالوں میں بچت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ورک فرام ہوم سے دفتر واپس آنے پر تنخواہ میں سے دس فیصد کٹوتی ہوچکی ہے۔ اب ہر ماہ تنخواہ آتی ہے، اور دو روز میں ختم ہوجاتی ہے۔'

یہ تمام تر باتیں ان لوگوں نے بتائیں جن سے بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کی زندگی پر حالیہ عرصے میں ملک میں مہنگائی کا کیا اثر پڑا اور پڑ رہا ہے؟

یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان کی پارلیمان میں مالی ضمنی بِل یعنی فنانس سپلمنٹری بِل پر بحث جاری ہے جسے ’مِنی بجٹ‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔ اس بِل کے تحت پاکستان میں جن اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ تھی وہ ہٹا دی جائے گی۔

جن افراد سے میں نے بات کی ان میں بہت سے افراد ایسے تھے جنھیں مِنی بجٹ کے بارے میں علم نہیں تھا، لیکن بات کرنے والے تمام افراد یہ جانتے تھے کہ بہت جلد اشیائے خورد و نوش سے لے کر موبائل فون، انڈے یہاں تک کے ماچس پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگنے والا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بھی کہ مِنی بجٹ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لوگ کن متبادل راستوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ گھر کا بجٹ بہتر طور پر چلاسکیں؟

35 سالہ رملہ حسین اور ان کے شوہر پچھلے دس برسوں سے اپنے گھر کا بجٹ چلا رہے ہیں اور اس دوران انھیں کبھی بھی بچت کرنے میں دقت نہیں ہوئی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بچت کرنے پر بھی نہیں ہو پارہی ہے۔ 'ہم دونوں ہی کام کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کچھ بچالیں۔ اس سے پہلے ہم دونوں ہر سال اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بچا لیتے تھے تاکہ کہیں جاسکیں۔ اب ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔'

لیکن 2020 میں کورونا وائرس کی وبا آنے کے بعد رملہ بھی کئی اور لوگوں کی طرح گھر تک محدود ہو کر رہ گئیں۔ 'اور جب پچھلے سال واپس دفتر پہنچیں تو پتا چلا کہ تنخواہ میں سے دس فیصد کٹوتی کی جاچکی ہے۔ اب یہ ایک اضافی پریشانی آگئی جس کے بعد سے میرے گھر کا بجٹ صحیح نہیں ہو پا رہا ہے۔

جب گھر کے بجٹ میں سے چند چیزیں نکالنے کی بات آئی تو رملہ نے بتایا کہ 'پھل اب ہمارے لیے ایک لگثری آئٹم بن چکا ہے۔ اور کافی مہنگا ہوچکا ہے تو اب ہم ہر ماہ میں چند دانے لے آتے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اب خرچے میں نہیں آتا۔'

رملہ سے ملنے کے بعد جب بازار کا چکر لگا تو زیادہ تر لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آئے کہ جب پہلے سے بجٹ منظور ہو چکا ہے تو ایک نیا بجٹ کیوں لایا جارہا ہے؟

آبپارہ مارکیٹ میں شاپنگ کے دوران ایک خاتون رابعہ نے یہ سوال کیا کہ 'آخر یہ کیسی مدینہ کی ریاست ہے جہاں امیروں پر ٹیکس لگانے کے بجائے غریبوں پر لگایا جارہا ہے؟ اگر حکومت عوام کو ریلیف دے تو آنے والے کئی سالوں تک عوام انھیں ہی ووٹ دے گی۔'

22 سالہ سیف اللہ نے بتایا کہ 'پہلے میں گھر سے ملنے والے خرچے میں جوتے اور موبائل فون کے لیے کریڈٹ لے لیا کرتا تھا۔ لیکن اب چار ہزار میں سے دو ہزار جوتے لینے اور کالج سے آنے جانے کا خرچہ پورا کرنے میں ہی ختم ہوجاتے ہیں۔'

24 سالہ صبیحہ نے بتایا کہ اب وہ اپنے بجٹ میں سے نئے کپڑوں کی خریداری نکال چکی ہیں۔ 'میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹیوشن بھی پڑھاتی ہوں۔ لیکن تب بھی گھر میں پیسے پورے نہیں پڑتے۔ کئی بار اپنے لیے نئے کپڑے لینے کا پلان خود ہی ترک کردیتی ہوں، اور اب اگر 17 فیصد اضافہ ہوگا تو اس سے بجٹ بالکل ہی محدود نہیں کیا جاسکے گا۔'

اسی طرح ایک خاتون نے سوال کیا کہ جب پہلے سے بجٹ موجود تھا تو حکومت نیا بجٹ کیوں لارہی ہے؟

اب یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ منی بجٹ دراصل ہے کیا۔

یہ بھی پڑھیے

مِنی بجٹ کیوں پیش کیا جارہا ہے؟

اس کو مِنی بجٹ کا نام دراصل اپوزیشن جماعتوں نے دیا ہے۔ وزیر برائے خزانہ شوکت ترین نے اسے حال ہی میں اسمبلی میں پیش کیا اور اس کا نام مالی ضمنی بِل یعنی فنانس سپلمنٹری بِل بتایا۔

لیکن اپوزیشن نے اس بِل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مِنی بجٹ کا نام دیا ہے۔ اس بِل کے تحت پاکستان میں جن اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ تھی وہ ہٹا دی جائے گی۔ ایسا کرنے کے پیچھے حکومت یہ وجہ بتارہی ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف کا فنڈ حاصل کرنے کے لیے چند اصلاحات کی تکمیل لازمی ہیں جن میں سے ایک ٹیکس کی چھوٹ ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ کیا معاہدہ طے پایا ہے؟

22 نومبر 2021 کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔ اس سے پہلے یہ معاہدہ اپریل 2021 میں تعطل کا شکار ہوگیا تھا اور اسے ایک بار پھر زیرِ بحث لایا گیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالرز آئی ایم ایف فنڈ کے تحت دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس فنڈ کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان ان تمام پالیسیوں اور اصلاحات کی تکمیل کرے گا جو چھ ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی یعنی ای ایف ایف کے لیے ضروری ہیں۔

ان خصوصی عوامل کی تکمیل کرنا لازمی ہیں۔ ان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان امینڈمنٹ ایکٹ 2021 کا منظور ہونا شامل ہے، جس کے ذریعے موجودہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں اسمبلی کے ذریعے تبدیلیاں لائی جائیں گی، ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنا، اور بجلی کی قیمتوں میں حکومتی ڈیوٹی کو زیادہ کرنا شامل ہیں۔

ساتھ ہی پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالرز کے اس قرضے کا حساب بھی دینا ہوگا جو پاکستان کو اپریل 2020 میں کووڈ وبا سے بچاؤ کے لیے دیا گیا تھا۔

واضح رہے کے اس فنڈنگ پروگرام کی بنیاد جولائی 2019 میں رکھی گئی تھی، جو 2021 کے شروع میں قانون سازی کی اصلاحات مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر آگے نہ بڑھ سکی۔

سٹیٹ بینک آرڈیننس میں ترمیم کا پسِ منظر یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے کردار کو سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 کے تحت واضح کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سے اس میں کئی بار تبدیلیاں اور ترامیم کی گئی ہیں۔

ان میں سے چند خاصی واضح تبدیلیاں 1994، 1997، 2012 اور 2015 میں کی گئی ہیں۔ حکومتی ارکان کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان امینڈمنٹ ایکٹ 2021 بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ سٹیٹ بینک کے طریقہ کار میں جدت لائی جائے اور عالمی بینکوں کے اصولوں کے مطابق کام کرسکے۔

معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے لیے اسے قومی اسمبلی سے منظور کروانا کیوں اہم ہے؟

شہباز رانا زیادہ تر فنانس اور پارلیمنٹ کی کارروائی پر نظر رکھتے ہیں اور مہنگائی کے بارے میں اکثر رپورٹنگ اور تجزیے دیتے رہتے ہیں۔ منی بجٹ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کے پاس کوئی اور حل نہیں ہے۔

'پاکستان اس وقت بری طرح آئی ایم ایف کے دباؤ میں ہے۔ اس وقت مالی معاملات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ پاکستان اس پر بات کر سکے یا متبادل راستہ نکال سکے۔'

شہباز نے کہا کہ اکثر پاکستان کے پاس مالی ادائیگیوں کے لیے ڈالرز نہیں ہوتے ہیں، جس کے لیے پاکستان کو ادھار لینا پڑتا ہے۔ 'اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اچھے نہیں ہیں۔ ماضی میں جب پاکستان آئی ایم ایف کی اصلاحات کی تکمیل نہیں کر پاتا تھا تو امریکہ کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مدد کر دیتا تھا۔ اب یہ ’کال اے فرینڈ‘ والی سہولت بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس وقت جو آئی ایف کہے گا پاکستان کو کرنا پڑے گا۔'

دوسری تجویز یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکل جائے۔ لیکن شہباز کا کہنا ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں اس میں حکومت نکلنا برداشت نہیں کرسکتی۔ تو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے حکومت کو یہ کڑوی گولی لینی پڑ رہی ہے۔'

اپوزیشن کے پاس معاشی مشکلات سے نکلنے کا کیا حل ہے؟

اس وقت اپوزیشن کے ارکان حکومت پر کڑی تنقید کرتے سنائی دے رہے ہیں۔ اسی حوالے سے سینیٹر شیری رحمان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ 'حکومت اس بجٹ کو منظور نہیں بلڈوز کروانا چاہتی ہے۔ سب کو احساس ہے کہ اس بجٹ کے منظور ہونے کے بعد مہنگائی کی سونامی اٹھے گی۔'

اسی کے بارے میں سینیٹ کے حالیہ اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے چند سفارشات پیش کرنے کی غرض سے بنائی تھیں لیکن وہ وقت کی قلت کے وجہ سے پیش نہ ہوسکیں۔

ان سفارشات میں سے ایک میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مِنی بجٹ میں کہیں بھی حکومتی اخراجات پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے جبکہ مزید بتایا گیا ہے اس سے روپے کی قدر کمزور ہو جائے گی، اور مہنگائی آسمان تک پہنچ جائے گی۔ لیکن اس کے علاوہ کہیں بھی معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے کوئی حل نہیں بتایا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں پر یہ تنقید کی جارہی ہے کہ قومی اسمبلی کے دسمبر 2021 میں ہونے والے اجلاس کے دوران اپوزیشن بینچز خالی رہیں اور جب ارکان پہنچے بھی تو ان میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ موجود نہیں تھے۔

بدھ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے اس بِل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’آئی ایم ایف بجٹ‘ کہا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ اس بِل اور معیشت کی بگڑتی صورتحال کے حوالے سے اپوزیشن اب تک کوئی واضح حل نہیں بتا پائی ہے۔