آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بچوں کے فارمولا دودھ پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز: بچوں کا دودھ لگژری آئٹم ہے یا ماؤں کی ضرورت، سوشل میڈیا پر بحث
وزیر اعظم عمران خان نے سنہ 2018 میں اپنی حکومت سنبھالنے سے قبل اور بعد میں بھی بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹڈ گروتھ (غذائی قلت کی وجہ سے جسم کی مناسب نشوونما نہ ہونا) کے حوالے سے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی بات کی۔ پاکستان تحریک انصاف نے احساس پروگرام کے تحت ’احساس نشو ونما‘ کا آغاز بھی کیا ہے تاکہ ملک میں تقریباً 40.2 فیصد سٹنٹنگ کا شکار بچوں کو غذائی قلت سے بچایا جا سکے اور مناسب خوراک فراہم کی جا سکے۔
جہاں ایک جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہی حکومت نے حال ہی میں نئے فنانس بل 2021 یا منی بجٹ میں بہت سی کھانے پینے کی اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔
ان میں سرفہرست نومولود بچوں کے لیے فارمولا مِلک یعنی خشک دودھ اور سیرل بھی شامل ہیں جن پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایک حکومتی نمائندے کی جانب سے حال ہی میں بچوں کے دودھ کو ’لگژری آئٹم‘ قرار دیے جانے اور اس پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کا دفاع کرنے کے بعد اب پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا بچوں کا فارمولا دودھ آیا لگژری آئٹم ہے بنیادی ضرورت کی ایک چیز جو ان ماؤں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو بوجوہ اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلا پاتیں۔
یہ معاملہ شروع کیسے ہوا؟
یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس نے حکومت کے مجوزہ فنانس بل میں بچوں کے فارمولا دودھ اور سیرل پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ اس بنیادی ضرورت کی چیز پر ٹیکس کا نفاذ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی افزائش اور صحت کو متاثر کرے گا۔
گذشتہ دنو مسلم لیگ ن کی رُکن پارلیمان مہناز اکبر عزیز نے ایک ٹویٹ کیا کہ ’سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کی جانب سے بچوں کے خشک دودھ اور سیرل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی متفقہ تجویز کے باوجود وزیر خزانہ شوکت ترین اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان اشیا پر 17 فیصد ٹیکس لگانے پر بضد ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی 45 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔‘
اس ٹویٹ کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کی اصلاحاتی کمیٹی کے رکن اور تحریک انصاف کا پارٹی منشور تیار کرنے والی ٹیم کے رکن راؤ بلال نے حکومت کی جانب سے بچوں کے فارمولا خشک دودھ اور سیرل پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہ ’بچوں کا خشک دودھ اور سیرل لگژری آئٹم ہیں اور اشرافیہ استعمال کرتی ہے۔ بچوں کے ڈاکٹر اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ تاہم ہمارے اپوزیشن کے سیاستدان اشرافیہ کے لیے سب کچھ سبسڈی (رعایتی) قیمتوں پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘
’بچوں کا دودھ لگثرری آئٹم نہیں۔۔۔‘
راؤ بلال کی جانب سے یہ ٹویٹ کرنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا صارفین نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا اور یہ بحث کرتے دکھائی دیے کہ بچوں کا خشک دودھ صرف امیر طبقہ استعمال نہیں کرتا ہے بلکہ یہ متوسط اور بعض اوقات غریب خواتین بھی اپنے بچوں کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غزل رمز نامی ایک خاتون صارف نے لکھا کہ ’بچوں کا دودھ یا بچوں کے سیرل لگثرری آئٹم نہیں ہیں۔ ہر عورت کو دودھ نہیں اُترتا، بچوں کا خشک دودھ ایک بنیادی ضرورت ہے جیسے بڑوں کے لیے دوسرا کھلا دودھ۔‘
وقاص نامی ایک صارف نے اس پر لکھا کہ 'بچوں کا دودھ لگژری آئٹم نہیں ہے۔۔۔ یہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے زندگی کا سہارا ہے۔۔۔میں نے اپنے خاندان میں ایسے بچوں کو دیکھا ہے جنھیں ڈاکٹروں نے صحت کے مسائل کے باعث فارمولا دودھ استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔‘
وزیراعظم کی اصلاحاتی کمیٹی کے رکن راؤ بلال نے صارفین کے اس قسم کے تبصروں اور اپنے موقف کے دفاع میں لکھا کہ 'بچوں کے فارمولا دودھ کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ڈاکٹرز یہ فارمولا دودھ اس لیے تجویز کرتے ہیں کیونکہ ان کو تیار کرنے والی کمپنیاں انھیں مجبور کرتی ہیں۔ کسی پڑھے لکھے ڈاکٹر سے بات کریں اور وہ آپ کو بتائیں گے کہ اس دودھ سے کیوں بچنا چاہیے۔‘
ان کی اس ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردعمل آیا اور بحث کا رُخ ماؤں کے اپنا دودھ پلانے اور اس میں درپیش مسائل اور خشک دودھ کو بطور متبادل استعمال کرنے پر چل نکلی۔
صحافی عافیہ سلام نے لکھا کہ ’کئی مرتبہ آپ بچے کو اپنا دودھ پلانے کی کوشش کرتے ہیں اور مختلف وجوہات کی بنا پر نہیں پلا پاتے۔ ان مختلف وجوہات کا امیر طبقے سے ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لہذا آرام سے بیٹھیں۔‘
ایک اور خاتون صارف نے لکھا کہ ’مائیں ایک ہزار وجوہات کی بنا اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا سکتیں۔ اور اگر کوئی پلائے بھی تو پہلے چھ ماہ بعد اس کے دودھ کی غدائیت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے جو بچے کی نشوونما کے لیے ناکافی ہوتی ہے ایسے میں فارمولا دودھ ہی بچتا ہے۔‘
فہد دیش مکھ نامی صارف نے وزیر اعظم عمران خان کے اس خطاب کا حوالے دیتے ہوئے جس میں انھوں نے اپنی حکومت سنبھالتے ہی ملک میں بچوں میں غذائی قلت اور سٹینٹنگ کے بارے میں بات کی تھی، تصویر پوسٹ کر کے ردعمل دیا۔
یہ بھی پڑھیے
محمد ناصر نامی صارف نے لکھا کہ ’ماں کا دودھ ہمیشہ سے پہلی ترجیح ہے اس بارے میں کوئی بحث نہیں۔ لیکن اس مسئلے کا کیا حل ہو جب ماں کم مقدار میں دودھ اترنے کی بنا پر بچے کو پیٹ بھر دودھ نہیں پلا پاتی۔ ملک میں غذائی کمی اور بچوں کی پیدائش میں کم وقفہ کے باعث ماؤں کو کم دودھ آتا ہے۔ اس لیے یہ لگژری نہیں ہے۔‘
حنا کھوکھر نامی صارف نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’وہ مرد بچوں کو چھاتی کا دودھ اور فارمولا دودھ پلانے کی بات کر رہے ہیں جنھوں نے خود کبھی کچھ نہیں کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ چند خواتین کو کم دودھ آتا ہے اور کچھ کو آتا ہی نہیں اور اس کا تعلق امیر یا غریب طبقے سے نہیں ہوتا۔ اگر ایسا کسی غریب طبقے کی ماؤں سے ہو تو وہ بچوں کو گائے کا دودھ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسا وہ لا علمی یا دوسرا دودھ مہنگا ہونے کے باعث کرتے ہیں۔‘
ایک اور خاتون صارف نے اس بحث پر سلسلہ وار ٹویٹس کرتے ہوئے لکھا کہ ’مردوں کو کوئی اندازہ نہیں ہے کہ چھاتی کا دودھ پلانا کتنا پیچیدہ عمل ہے۔ اس کی ہزاروں وجوہات ہیں۔ اور ویسے بھی آپ یہ کیسے جاری رکھ سکتے ہیں جب آپ کو بچے کے پیدائش کے کچھ عرصے بعد ہی کام کی جگہ پر واپس جانا ہو؟ پاکستان میں بچے کے پیدائش کے لیے صرف 12 ہفتوں کی چھٹیاں ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو اس کے بعد کام پر واپس آنا پڑتا ہے۔‘
ایک اور خاتون صارف نے لکھا کہ ’مائیں عوامی مقامات پر بچوں کو دودھ کیسے پلائیں، ہمارے دفاتر، عوامی مقامات کہیں پر خواتین کے لیے نرسنگ سینٹر قائم نہیں جہاں وہ بچوں کو اپنا دودھ پلا سکیں۔‘
جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یہاں برطانیہ میں کھانے پینے کی اشیا ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں جن میں بچوں کا دودھ اور بچوں کی خوراک بھی شامل ہے۔‘