پاکستان میں ڈرائیونگ کرنے والی خواتین مردوں کے طنز، طعنوں اور ہراسانی کا نشانہ کیوں بنتی ہیں؟

- مصنف, کریم الاسلام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’بس سٹیئرنگ پکڑنا آ گیا اور چل پڑیں‘
’یا تو فون پر لگی ہیں یا پھر باتیں کرتی رہتی ہیں‘
’ان کا آدھا ذہن تو گھر اور بچوں کی طرف ہوتا ہے‘
’جذباتی ہوتی ہیں، جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتیں اور ایکسیڈنٹ کر دیتی ہیں‘
’نا سائیڈ دیکھتی ہیں نا آگے پیچھے دیکھتی ہیں ایسے ہی ریورس کر دیتی ہیں‘
’آفرین ہے اُن لوگوں پر جو اِن عورتوں کو ڈرائیونگ لائسنس دیتے ہیں'
اگر آپ عورت ہیں، پاکستان میں رہتی ہیں اور گاڑی چلاتی ہیں تو یقیناً یہ اور اِن سے ملتے جلتے کئی طنزیہ جملے آپ کو تقریباً روز ہی سُننے کو ملتے ہوں گے۔
اکیسویں صدی کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں جب اکثر معاشروں میں عورت اور مرد کی تفریق ختم ہوتی جا رہی ہے اور قدامت پسند معاشروں میں بھی خواتین خود مختاری کی جدوجہد میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، پاکستان کی عوامی زندگی میں اب بھی خواتین کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر گاڑی چلانے والی خواتین کی تعداد اب بھی مرد ڈرائیورز کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس کے باوجود جو عورتیں گاڑیاں لے کر سڑکوں پر آتی ہیں اُن میں سے اکثر کو مردوں کے طنز، طعنوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ عورتیں روز کس اذیت سے گزرتی ہیں یہ جاننے کے لیے ہم نے کچھ خواتین ڈرائیورز کے ساتھ کراچی کی سڑکوں پر سفر کیا ہے۔
شیشے اوپر۔۔۔ دروازے لاک

ہم نے اپنے سفر کا آغاز پچھلے 12 سال سے شہر میں ڈرائیونگ کرنے والی سمیّہ بردائی کی گاڑی میں بیٹھ کر کیا۔ سمیّہ ایک این جی او میں کام کرتی ہیں اور روزانہ کلفٹن سے شاہ فیصل کالونی تک تقریباً 16 کلومیٹر کا فاصلہ خود ڈرائیو کر کے طے کرتی ہیں۔
اُن کا زیادہ تر سفر شہر کی مصروف ترین شاہراہ فیصل پر ہوتا ہے۔ اُن کے خیال میں کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال ابتر ہے وہاں ذاتی سواری ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
وہ کہتی ہیں ’پاکستان میں لڑکیوں کا بڑے شہروں میں دن کے وقت تو گاڑی چلانا ٹھیک ہے لیکن رات کے وقت ہراسانی کے خطرات ہیں۔ سُنسان جگہوں پر یا ہائی وے پر گاڑی چلانا مشکل ہے۔ اکثر والدین اور اہلخانہ بھی اِس حوالے سے پریشان رہتے ہیں۔‘
ہماری اگلی رائیڈ مارکیٹنگ کے شعبے سے منسلک انعم زہرا کے ساتھ تھی۔ انعم پچھلے سات سال سے گاڑی چلا رہی ہیں۔ ڈرائیونگ کے دورانِ ہراسانی سے نمٹنے کے لیے اُنھوں نے اپنے طور پر ایک نظام بنا رکھا ہے۔
’میں سڑک پر آتے ہی سب سے پہلے یہ چیک کرتی ہوں کہ میری گاڑی کے تمام شیشے اوپر اور دروازے لاک ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ جب بھی میں کسی سگنل پر رُکوں گی تو ساتھ والا شخص یقیناً مجھے گھور رہا ہو گا جو مجھے بہت بُرا لگتا ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ ڈرائیو کرتے وقت صرف سامنے دیکھوں۔‘
ہارن بجانا اور ڈِپر مارنا
لیکن صرف مردوں کا گھورنا ہی وہ واحد مسئلہ نہیں جس کا خواتین ڈرائیورز کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم نے حبیب یونیورسٹی سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والی انوشے کوہاور کے ساتھ سفر کیا تو اُنھوں نے بتایا کہ عورتوں کو جارحانہ ڈرائیونگ کے ذریعے بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔

’مرد ڈرائیورز کو ہم ایک عجیب ہی چیز لگتے ہیں وہ عورتیں جو گاڑی چلاتی ہیں۔ اُنھیں شاید لگتا ہے کہ ہم کوئی خلائی مخلوق ہیں جو سٹیئرنگ کے پیچھے بیٹھی ہیں۔ اکثر مرد ڈرائیورز مجھے بلا ضرورت اوور ٹیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں لڑکی ہوں تو مجھے آسانی سے دبایا جا سکتا ہے اور میں ڈر کے آہستہ ہو جاؤں گی یا اُنھیں غیر ضروری طور پر راستہ دے دوں گی۔‘
انوشے بتاتی ہیں کہ ’بے شک میں درمیانی لین میں اپنی سپیڈ لمٹ میں ہوں پھر بھی بلاوجہ ہارن بجایا جاتا ہے اور ڈپر مارے جاتے ہیں کہ میں سائیڈ پر ہوں۔ یہی رویہ سگنل پر بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر میں سُرخ روشنی پر کھڑی ہوں تو میرے پیچھے سے آ کر آگے نکلا جاتا ہے۔‘

پدر شاہی کے لیے خطرہ؟
لیکن آخر اِس رویے کی وجہ کیا ہے؟ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تجزیہ کار ندا کرمانی اِسے پدرسری سوچ سے جوڑتی ہیں۔
’سعودی عرب میں اب سے چند سال پہلے تک عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔ پاکستان میں تو قانونی طور پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہاں شاید مردوں کو عورتوں کو ڈرائیونگ کرتے دیکھنے کی عادت نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پدر شاہی معاشرے میں عورت کی آزادانہ نقل و حرکت ایک خطرہ تصّور کی جاتی ہے۔‘
ندا کرمانی کے مطابق ’ہمارے یہاں 'چادر اور چار دیواری' کے تصّور کے ذریعے عورتوں کو گھروں کے اندر قید رکھنا بھی ایک ایسا رویہ ہے جس کے ذریعے اُنھیں کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اگر کسی طرح عورت اِس کنٹرول سے باہر آ جائے تو مردوں کو عدم تحفظ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عوامی مقامات جیسے بازاروں اور سڑکوں پر عورتوں کی انتہائی کم تعداد بھی پدر شاہی نظام کی ایک نشانی ہے۔‘
مردوں کی انا؟
پدر شاہی نظام میں مردوں کی انا بھی سماجی رویوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اِس کا ذاتی تجربہ انعم زہرا کو گاڑی ڈرائیو کرنے کے دوران اکثر ہوتا ہے۔
’اگر کبھی خدانخواستہ آپ نے کسی مرد کو اوورٹیک کر لیا تو بس اُس کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ وہ بلاوجہ ہمیں اووٹیک کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ میرے خیال میں ڈرائیونگ ایک سماجی تجربہ ہے کوئی مقابلہ نہیں۔ مرد اور عورت دونوں سفر کر رہے ہیں اور اپنی اپنی منزلوں پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انعم زہرا یاد کرتی ہیں کہ جب وہ اپنی پہلی گاڑی خرید رہی تھیں تو اُن کے شوہر درست گاڑی کے انتخاب میں اُن کی مدد کر رہے تھے لیکن کچھ دوسرے مردوں کی طرف سے اُنھیں عجیب عجیب مشورے سُننے کو ملے۔
’کسی نے کہا تم چھوٹی گاڑی خریدو کیونکہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بڑی گاڑی کا پچھلا حصہ کنٹرول نہیں کر پاؤ گی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا بات ہوئی۔ یہ مسئلہ تو مرد یا عورت کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے تو صرف مجھے کیوں مشورہ دیا جا رہا ہے۔‘
عورتیں بُری ڈرائیور؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مردوں کی اکثریت کا پسندیدہ مشغلہ عورتوں کو 'بُری ڈرائیور' قرار دے کر اُن کا مذاق اُڑانا ہے۔
سمیہ بردائی بتاتی ہیں کہ فیملی تو اُن کی ڈرائیونگ پر اعتماد کرتی ہے لیکن کچھ مرد دوست اکثر چھیڑتے ہیں کہ لڑکیاں گاڑی نہیں چلا سکتیں۔
’اِس طرح کی باتیں لڑکیوں کے لیے حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہیں۔ بُرا ڈرائیور تو کوئی بھی ہو سکتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میرا کوئی میل فرینڈ یا گھر کا کوئی مرد میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہو اور اُس نے خطرہ محسوس کیا ہو کہ یہ گاڑی مار دے گی۔ میں خود بہت احتیاط سے سپیڈ لمٹ کے اندر گاڑی چلاتی ہوں اور آج تک میرا کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا۔‘
تجزیہ کار ندا کرمانی کے بقول عورتوں کی 'بُری ڈرائیونگ' کے بارے میں لطیفے صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں عام ہیں۔
'یہ بھی ایک ذریعہ ہے عورتوں کی خود اعتمادی کم کرنے اور معاشرے میں اُن کا کمتر مقام برقرار رکھنے کا۔ حالانکہ عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ گاڑی ایک طرح کی مشین ہے جسے کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پدر سری معاشرے میں کچھ مردوں کی کوشش ہوتی ہے کہ عورتوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھا جائے۔‘
’خواتین محتاط ڈرائیور‘
گذشتہ 25 سال سے کراچی کے علاقے کورنگی میں ایک ڈرائیونگ سکول چلانے والے محمد اشفاق نے اب تک ہزاروں مرد اور خواتین کو گاڑی چلانا سکھایا ہے۔

اشفاق عورتوں کی ’بری ڈرائیونگ‘ سے متعلق رائج تصّورات کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے تجربے کے مطابق جیسے مرد گاڑی چلاتے ہیں ویسی ہی عورتیں بھی چلاتی ہیں۔ میں اپنی تمام فی میل سٹوڈنٹس کو پہلی ہی کلاس میں بتا دیتا ہوں کہ جیسا میں کسی مرد کو سکھاتا ہوں بالکل ویسے ہی آپ کو بھی سکھاؤں گا۔ جو ٹریفک قوانین دوسروں کے لیے ہیں وہی آپ کے لیے بھی ہیں۔ روڈ پر آپ کا سامنا ہر قسم کے ڈرائیوروں سے ہوگا لہذا آپ کو تیار رہنا ہو گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
محمد اشفاق سمجھتے ہیں کہ اُن کی خواتین سٹوڈنٹس دورانِ تربیت زیادہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور انسٹرکٹر کی ہدایات پر عمل کرتی ہیں۔
’ایک فیصد لیڈیز بھی ایسی نہیں ہوں گی جو بے احتیاطی سے تیز گاڑی چلاتی ہوں۔ میرے خیال میں عورتوں کے جو چند حادثات ہوتے بھی ہیں اُن کی وجہ مرد ڈرائیوروں کا خواتین کو ہراساں کرنا ہے۔ پھر حادثہ کسی کی بھی غلطی اور کسی بھی وجہ سے ہو سکتا ہے صرف عورتوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔‘
پولیس کیا کہتی ہے؟

جن خواتین کے ساتھ ہم نے کراچی کی سڑکوں پر سفر کیا اُن تمام کا یہ ماننا تھا کہ جہاں ایک جانب خواتین کو مردوں کی طرف سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف ٹریفک پولیس اکثر خواتین ڈرائیورز کی مدد کرتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر عورت کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، ٹریفک جام میں خواتین کی گاڑی کے لیے راستہ بنایا جاتا ہے اور کسی حادثے کی صورت میں خواتین کو احساسِ تحفظ دیا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس صرف کراچی شہر میں 38 لاکھ پچاس ہزار سے زائد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ہوئیں جن پر جرمانے عائد کیے گئے۔ اِن میں سے صرف 2200 خلاف ورزیاں خواتین نے کیں۔
کراچی ٹریفک پولیس چیف ڈی آئی جی احمد یار چوہان کے مطابق خواتین کے چالانوں کی اِس انتہائی کم تعداد کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حالانکہ آج کل بے شمار عورتیں گاڑیاں چلا رہی ہیں لیکن اُن کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔ اِس کے علاوہ خواتین ڈرائیورز کی موجودہ تعداد کے مقابلے میں چالانوں کے یہ اعداد و شمار بہت کم ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ خواتین عام طور پر محتاط ڈرائیورز ہوتی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں بھی بہت سی خواتین انتہائی اچھی ڈرائیورز ہیں اور مردوں کے مقابلے میں ٹریفک قوانین پر زیادہ عمل کرتی ہیں۔‘
عورتیں کیا کریں؟

ڈرائیونگ انسٹرکٹر محمد اشفاق کے مطابق پاکستانی معاشرے میں عام طور پر لڑکیوں کو ڈرائیونگ بہت دیر سے سکھائی جاتی ہے حالانکہ یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالکل ابتدا سے آنا چاہیے۔ اِس کے برعکس لڑکوں کو بہت کم عمر میں ہی ڈرائیونگ سکھا دی جاتی ہے۔
’شاید یہی وجہ ہے کہ ابتدا سے سیکھی ڈرائیونگ کی وجہ سے کچھ مرد زیادہ پُراعتماد ہو جاتے ہیں اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی مہارت حاصل کرنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ کیونکہ اکثر خواتین ڈرائیونگ کے کسی تجربے کے بغیر میرے پاس آتی ہیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اُن کی گھبراہٹ کو کم کروں اور اُنھیں پُرسکون رکھوں۔
’میں اُنھیں ہمت دلاتا ہوں کہ خدا نے آپ کو کسی بھی دوسرے مرد کی طرح ہاتھ پیر اور دماغ دیا ہے اور آپ وہ سب کر سکتی ہیں جو کوئی مرد کرتا ہے۔‘
اشفاق کے مطابق کسی ڈرائیور میں خود اعتمادی اُس وقت آتی ہے جب روڈ پر دوسرے ڈرائیور اُسے آزادی سے گاڑی چلانے کی جگہ دیں۔ اگر ہر کوئی ٹریفک قوانین کا احترام کرے اور دوسرے ڈرائیورز کے حقوق کا خیال رکھے تو مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔
وہ خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ قوانین کے مطابق گاڑی چلائیں اور اگر کوئی دوسرا اُنھیں بلا وجہ ہارن یا ڈپر مار کر تنگ کرنے کی کوشش کرے تو اُس پر بالکل بھی توجہ نا دیں۔
ٹریننگ کی آخری کلاس میں اشفاق اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو ایک دلچسپ مشورہ بھی دیتے ہیں۔
’آخری دن میں اُنھیں ٹائر تبدیل کرنا سکھاتا ہوں۔ ازراہِ مذاق میں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ گاڑی میں لوہے کا پائپ بھی رکھیں۔ اِس کی مدد سے وہ وہیل کے نٹ بغیر طاقت لگائے باآسانی کھول سکیں گی اور کسی کے ہراساں کرنے پر اپنا دفاع بھی کر پائیں گی۔‘











