آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نور مقدم قتل کیس: مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست مسترد، تحریری فیصلہ جاری
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جمعرات کو سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ اس حوالے سے تحریری فیصلہ جمعرات کو جاری کیا جائے گا۔
جمعرات کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے اس کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔
چار صفحات پر مشتمل حکم نامے میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے قرار دیا ہے کہ مرکزی ملزم اپنے والدین کے ساتھ ٹرائل کا سامنا کرتا رہا ہے اور اس دوران ظاہر جعفر کے والدین یا کسی عزیز نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دائر نہیں کی۔
تحریری فیصلے کے مطابق آٹھ دسمبر کو بھی ملزم ظاہر جعفر کا طبی معائنہ ہوا اور اس دوران کوئی شواہد نہیں ملے کہ ملزم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں نیز میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کے ساتھ ظاہر جعفر کا کوئی سابقہ میڈیکل نہیں لگایا گیا جو ظاہر کرتا ہو کہ انھیں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نور مقدمہ کا ٹرائل اب اختتام پذیر ہونے والا ہے اس لیے یہ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ ملزم ظاہر جعفر کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست ملزم کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔
اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے بدھ کے روز نور مقدم قتل کے مقدمے کی سماعت کی تو اس واقعہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے والے استغاثہ کے گواہ مدثر کا بیان قلمبند ہونے کے بعد اس پر جرح کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت کے دوران ایک موقع پر جب نور مقدم قتل سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کو کمرہ عدالت میں چلانے کی بات آئی تھی تو ملزمان کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ غیر متعقلہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے۔
عدالت نے ملزمان کے وکلا کی اس استدعا کو منظور کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سمیت دیگر غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کا حکم دیا تھا اور بیس منٹ تک قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی اِن کیمرہ ہوئی تھی۔
استغاثہ کے گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سکندر ذوالقرنین نے عدالت کو بتایا تھا کہ اُن کے موکل کی ذہنی صحت کے بارے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے لیے درخواست دی گئی تھی لہٰذا عدالت اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ابھی تک اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اور ذوالقرنین نامی وکیل ریاست کی طرف سے ملزم کو فراہم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس مقدمے کے مدعی اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس درخواست پر نہ تو ملزم کے دستخط ہیں اور نہ ہی کسی کو پاور آف اٹارنی دی گئی ہے تو پھر ایسی درخواست کو قابل سماعت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
انھوں نے کہا تھا کہ ملزم ظاہر جعفر قتل کے اس مقدمے میں عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے کبھی کوئی وکیل اور کبھی کوئی وکیل پیش ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملزم نے عدالتی کاغذ پر دستخط کیے تھے، لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
گذشتہ سماعت پر اس مقدمے کے پبلک پراسیکیوٹر حسن عباس نے عدالت کو بتایا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے جس وکیل کی طرف سے درخواست دائر کی گئی ہے وہ سٹیٹ کونسل یعنی سرکار کی طرف سے فراہم کیا گیا وکیل ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ملزم کو نور مقدم قتل کے مقدمے میں جب جائے حادثہ سے گرفتار کیا گیا تھا تو اس کا میڈیکل چیک اپ کروایا گیا تھا، جس میں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ تھا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم اس وقوعہ سے پہلے ایک نجی سکول میں بچوں کی کونسلنگ بھی کرتا رہا ہے اس کے علاوہ وہ اپنے والد اور اس مقدمے کے شریک ملزم ذاکر جعفر کی کمپنی میں ایک عہدے پر بھی فائز رہا ہے۔
پبلک پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جس گھر میں نور مقدم کا قتل ہوا وہ گھر شریک ملزم ذاکر جعفر کی کمپنی کا برانچ آفس تھا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اس مقدمے کے ٹرائل کے آغاز میں میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کیوں نہیں دی؟ انھوں نے استدعا کی ملزم کے وکیل کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔
ملزم کے وکیل سکندر ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج ہے جس میں انھوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔
دلائل کے بعد عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر تھا جو تحریری طور پر آج جاری کر دیا گیا۔
اس مقدمے میں شامل ملزمان کے وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اس مقدمے کی پیروی کرنے پر سوشل میڈیا پر انھیں بُرا بھلا کہا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ انھیں 'ننگی گالیاں' بھی دی جا رہی ہیں جس پر مدعی مقدمہ کے وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔
اس مقدمے کے مدعی شوکت مقدم کا بیان بدھ کے روز بھی ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ ملزمان کے وکلا نے اس مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر ایڈشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں اس مقدے پر فیصلہ کرنے کے لیے چھ ہفتوں کی مذید مہلت دی ہے جس میں سے دو ہفتے پہلے ہی گزر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عدالت اس مقدمے کو جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پندرہ جنوری تک ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت پر نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا بیان قلمبند کیا جائے گا اور اسی روز ان پر ملزمان کے وکلا جرح بھی کریں گے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نور مقدم کے قتل کے مقدمے کے تمام ملزمان کو عدالتی کارروائی ختم ہونے سے آدھا گھنہ پہلے عدالت میں پیش کیا گیا اور پھر سماعت ختم ہونے کے بعد مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کو سخت سکیورٹی میں واپس بخشی خانہ میں لے جایا گیا جہاں سے انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔