نور مقدم قتل: ملزم ظاہر جعفر کو عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنے اور بدتمیزی کرنے پر باہر نکال دیا گیا

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بدھ کو نور مقدم قتل کیس کی سماعت کے دوران جب استغاثہ کے گواہ اپنا بیان قلمبند کروا رہے تھے تو مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ اس پر عدالت نے کچھ دیر تو برداشت کیا لیکن پھر پولیس اہلکاروں کی مدد سے ملزم کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔

بدھ کو جب نور مقدم قتل کیس کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو تین سرکاری گواہان کو گواہی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔

ایک سرکاری گواہ عامر شہزاد نے جو کہ ایک نقشہ نویس ہیں، جب جائے وقوعہ کی تفصیلات بتانا شروع کیں تو ملزم نے بولنا شروع کر دیا۔ جب عدالت کے جج نے انھیں خاموش رہ کر کارروائی کا حصہ بننے کا کہا تو ملزم نے اونچی آواز میں کہا کہ ’یہ میری کورٹ ہے اور میں نے بات کرنی ہے۔‘

اس دوران عدالت نے ملزم کے وکیل اکرم قریشی سے پوچھا کہ کیا ظاہر جعفر کی کارروائی میں ضرورت ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت نے نائب کورٹ کے ذریعے جب ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کا کہا تو اس دوران ملزمہ عصمت آدم جی جو کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ ہیں، کے وکیل اسد جمال نے مرکزی ملزم کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد ظاہر جعفر خاموش کھڑے ہو گئے اور کمرہ عدالت کے دروازے کے ساتھ لگ کر عدالتی کارروائی کو سنتے رہے۔

کچھ دیر تو ملزم نے عدالتی کارروائی کو خاموشی سے سنا لیکن اس کے بعد کمرہ عدالت میں انگریزی میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔

ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزم کو بولنے سے روک دیا، جس کے کچھ دیر بعد ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں لگے پردے کو پہلے تو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اونچی آواز میں بولا کہ ’پردے کے پیچھے کیا ہے؟‘

ایڈشنل سیشن جج جو کہ کافی دیر سے ملزم کی طرف سے بار بار اونچی آواز میں بولنے کو برداشت کر رہے تھے، ان کا صبر بھی جواب دے گیا اور انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم یہاں پر خبر بنانے کے چکروں میں ہے اور ڈرامے بازی کر رہا ہے۔

عدالت نے وہاں پر سکیورٹی پر مامور پولیس انسپیکٹر کو حکم دیا کہ ملزم کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔

عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پولیس انسپیکٹر نے ظاہر جعفر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے کی کوشش کی تو ملزم نے پولیس انسپیکٹر سے کمرہ عدالت میں ہی جھگڑا شروع کر دیا اور پولیس افسر کا گریبان پکڑ لیا۔

یہ بھی پڑھیے

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہاں پر تعینات دیگر پولیس اہلکار اپنے ساتھی کی مدد کو پہنچے اور ملزم ظاہر جعفر کو نہ صرف زبردستی کمرہ عدالت سے باہر نکالا بلکہ پولیس اپنے روایتی انداز میں ملزم کو اٹھا کر بخشی خانے لے گئی۔

واضح رہے کہ بخشی خانے میں ان ملزمان کو عارضی طور پر رکھا جاتا ہے جن کو مقدمات کے سلسلے میں مختلف عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کسی پولیس اہلکار کے یونیفارم پر ہاتھ ڈالنا ایک قابل سزا جرم ہے۔

مقتولہ نور مقدم کے والد اور مدعی مقدمہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور کا کہنا ہے کہ عدالت مسلسل اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جارحانہ رویے کو نوٹ کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب تک اس مقدمے میں 12 سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی اگلی دو سماعتوں میں سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند ہو جائیں گے جبکہ اس کے بعد ملزمان اپنے دفاع میں گواہ پیش کریں گے۔

اس مقدمے کی اگلی سماعت اب دس نومبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ہفتوں میں اس مقدمے کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔