آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان: ضلع کیچ میں اپنے گھر میں قتل کیے جانے والے نوجوان کے لیے انصاف کا مطالبہ
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’ان ظالموں نے میرے نوجوان بیٹے کو قتل کر کے میرے گھر کو تو اجاڑ دیا۔ اب میں چاہتی ہوں کہ کسی اور ماں کے ساتھ ایسا نہ ہو اس لیے میرے بیٹے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔‘
ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے دور دراز ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کی رہائشی خاتون بی بی سعیدہ کے نوجوان بیٹے سراج بلوچ کو دو افراد نے گذشتہ ہفتے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
پچیس دسمبر کی شب پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں سعیدہ بلوچ نے بتایا کہ دونوں افراد رات کو دیر سے اُن کے گھر آئے اور اُنھوں نے گھر کے اندر اُن کے بیٹے کو قتل کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن کے خاندان کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ اُنھیں انصاف فراہم کیا جائے۔
اس واقعے کے خلاف ضلع کیچ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ واقعے کا مقدمہ لیویز فورس کے تھانہ بلیدہ میں درج کیا گیا ہے۔
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تیسرے کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
سراج بلوچ کون تھے؟
سراج بلوچ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کے رہائشی تھے۔ چھ بھائیوں اور ایک بہن میں تیسرے نمبر پر تھے۔
سعیدہ بلوچ نے بتایا کہ غربت کی وجہ سے سراج بلوچ زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے اور کاشتکاری اور محنت مزدوری میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سراج بلوچ کا کسی بھی سیاسی جماعت یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
لیویز تھانہ بلیدہ میں سراج بلوچ کے قتل کی ایف آئی آر ان کے بہنوئی عابد حسین کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق عابد حسین نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کی 25 تاریخ کو رات 10 بج کر 20 منٹ پر اُنھیں فون پر ان کے سسر شیر محمد نے اطلاع دی کہ سراج احمد گھر کے دیگر افراد کے ہمراہ گھر پر موجود تھے۔
اُنھوں نے بتایا کہ رات 10 بجے دو افراد قمبر اور جہانزیب ان کے گھر پر ہنڈا موٹر سائیکل پر آئے اور ان کے پاس کلاشنکوف بھی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق اُنھوں نے بتایا کہ وہ سراج سے بات کریں گے جس پر سراج ان کو کمرے میں لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق سراج کی والدہ کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی ہو کر ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ ’قمبر نے سراج سے کہا کہ شاہ میر میرا قاصد تھا، آپ لوگوں نے ان کے ساتھ کیوں جھگڑا کیا۔ سراج نے کہا کہ اُنھوں نے شاہ میر کو اپنے گھر آنے سے منع کیا تھا وہ گھر نہ آئیں تو وہ پھر کیوں آیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق اس بات پر قمبر نے طیش میں آ کر فائرنگ کر کے سراج کو قتل کر دیا اور بعد میں دونوں افراد فرار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
سراج بلوچ کی والدہ کا کیا کہنا ہے؟
فون پر بی بی سی کو سراج بلوچ کی والدہ سعیدہ بلوچ نے بتایا کہ واقعے کی شب گھر والوں میں سے بعض سوئے ہوئے تھے اور بعض سونے کی تیاری کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی ایسا سانحہ رونما ہونے والا ہے۔‘
’چونکہ میں ماں تھی اس لیے جب دونوں افراد اسلحے کے ساتھ ہمارے گھر میں داخل ہوئے تو میں نے خطرہ محسوس کیا، اس لیے میں کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑی ہو کر ان کی باتیں سننے لگی۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ کچھ دیر تلخ کلامی کے بعد اُنھیں فائرنگ کی آواز سنائی دی جس پر وہ کمرے میں گئیں تو وہاں سراج خون میں لت پت پڑے تھے۔
بی بی سعیدہ نے ملزمان کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ وہ علاقے میں پہلے بھی منفی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سراج بلوچ کی بہن کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ’بلوچستان کے لوگوں‘ سے اپیل کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اُنھیں انصاف دلوایا جائے ورنہ ’بہت ساری ماؤں‘ کے بیٹے مارے جائیں گے۔
سراج بلوچ کے قتل کے واقعے کے خلاف نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ تربت، بلیدہ اور بعض دیگر علاقوں میں بھی احتجاج ہو رہا ہے۔
انتظامیہ نے اب تک کیا کاروائی کی ہے؟
سراج بلوچ کے ایک رشتے دار نے بتایا کہ اگرچہ دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اس واقعے کے ’اصل ملزم‘ قمبر کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ قمبر سیکورٹی فورسز کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ ملازم ہے جس کی وجہ سے ان کو گرفتار نہیں کیا جا رہا اور ان کو فرار کا موقع دیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ملزم قمبر کسی سکیورٹی فورس ک حاضر سروس ملازم ہے بلکہ اُن کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں ملازم تھے لیکن فورس سے بھاگنے کے بعد اب وہ ملازم نہیں ہیں۔
اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نامزد ملزمان میں سے دو افراد جہانزیب اور شاہ میر کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے اور توقع ہے کہ وہ بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔