کنسرٹس میں ہراسانی کے واقعات: ’کیوں ایسی حرکتوں سے پابندی لگوانا چاہتے ہیں‘

سندھ میں 2017 میں منعقد ہونے والے ایک نسرٹ کی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

'میں گزشتہ چار سال سے اسلام آباد میں ہونے والے تمام کنسرٹس اور ایسی تقریبات میں جا رہی ہوں جو فیملیز کے لیے منعقد کی جاتی ہیں لیکن حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔۔۔ اب میں آئندہ کبھی زندگی میں کسی ایسی تقریب میں نہیں جاؤں گی۔'

21 سالہ حبا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی چار دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک کنسرٹ میں گئیں کیونکہ وہ عاصم اظہر کی بہت بڑی مداح ہیں۔ اس تقریب میں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ جگہ مختص تھی۔

وہ بتاتی ہیں کہ 'میں اپنی دوستوں کے ساتھ تقریب انجوائے کر رہی تھی کہ اچانک لڑکوں کی ایک بڑی تعداد ہماری طرف بھاگتی ہوئی آئی اور ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ وہ اوباش نوجوان گیٹ توڑ کر تقریب میں داخل ہوئے تھے۔ ہم نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ہمیں راستہ نہ ملا۔'

'کسی نے ہماری بات نہیں سنی'

'اسی دوران کسی لڑکے نے میری شرٹ کھینچنی شروع کر دی۔ میں نے پیچھے مڑ کر روکا اور چلائی کہ مت کرو یہ۔ اس کے بعد کسی لڑکے نے میری گردن پر جلتی ہوئی سگریٹ لگائی تو میں نے چیخیں ماریں اور رونا شروع کر دیا۔ وہ سب لڑکے یہ دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ اس کے بعد میں نے اور میری دوستوں نے اونچی آواز میں چیخنا شروع کر دیا تو قریب لوگوں نے وہاں شور مچا کر ہمیں اس گروہ کے چنگل سے نکالا۔'

حبا کے مطابق جب انہوں نے اس سارے معاملے کی شکایت کرنے کی کوشش کی تو ان کی بات کسی نے نہیں سنی۔ 'وہاں ایک سکیورٹی والا نظر آیا۔ جب اسے بتایا تو وہ کہنے لگا کہ میری ڈیوٹی تو گیٹ پر ہے آپ سٹیج والوں کو جا کر بتائیں۔ وہاں اور لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا گیا تھا جس کے بعد عاصم اظہر نے سٹیج سے اعلان کیا کہ اگر کسی نے کسی سے بدتمیزی کی تو میں کنسرٹ چھوڑ کر چلا جاؤں گا لیکن نا تو ہماری شکایت سنی گئی اور نا ہی اس معاملے پر ہماری مدد کی گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنے والد کو فون کر کے بلایا اور میں گھر چلی گئی۔'

آئمہ بیگ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@IAimaBaig

،تصویر کا کیپشنآئمہ بیگ کہتی ہیں کہ وہ خود بھی پرفارمنس کے دوران نظر رکھتی ہیں کہ ایسا نہ ہو

'آپ ان کو کیسے روک سکتے ہیں'

حبا اکیلی نہیں، نہ تو وہ اس طرح کے واقعہ کی شکایت کرنے والی پہلی خاتون ہیں اور نہ ہی یہ ایسا پہلا کنسرٹ تھا جہاں کھلم کھلا ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہو۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستان کے متعدد شہروں میں کئی کنسرٹ منعقد ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر تقریب کے بعد ہراسانی کی کوئی نہ کوئی ویڈو سوشل میڈیا پر نظر آئی۔ اس معاملے پر گلوکارہ آئمہ بیگ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ انتہائی شرمناک سوچ ہے، کچھ لوگ کسی تقریب میں صرف اس نیت سے آئیں کہ وہ لوگوں کو ہراساں کریں گے۔'

آئمہ بیگ کے مطابق وہ اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ ان کا کنسرٹ کروانے والی کمپنی سکیورٹی کے اچھے انتظامات کرے تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ خود بھی پرفارمنس کے دوران نظر رکھتی ہیں کہ ایسا کچھ بھی ہو تو لوگوں کو روکا جا سکے۔

'اس کے باوجود اگر کوئی شخص ایک گندی سوچ کے ساتھ آتا ہے تو آپ اسے کیسے روک سکتے ہیں۔ اتنے بڑے گراؤنڈ میں ہر کونے پر نظر رکھنا مشکل ہوتا ہے۔'

آئمہ بیگ کا خیال ہے کہ عام لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ کورونا کی وبا کے بعد تقریباً دو سال بعد تفریح کے مواقع ممکن ہوئے ہیں۔ 'آپ کیوں ایسی حرکتوں سے پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔'

'لوگ جگہ اور صلاحیت سے بڑی تقریب رکھ لیتے ہیں'

ہراسانی کے ایسے ہی واقعات کے باعث حال ہی میں لاہور شہر میں ایسی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے نئے سال کے موقع پر شہر بھر میں کنسرٹ اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کی وجہ پر بات کرتے ہوئے ڈی سی لاہور عمر چٹھہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہمیں کئی شاپنگ مالز، برانڈز، ریسٹورنٹس اور دیگر لوگوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئیں کہ وہ نئے سال کی رات کو کنسرٹ یا تقریبات منعقد کرنا چاہتے ہیں جس کی اجازت ہم نے نہیں دی۔'

عمر چٹھہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں دیکھا ایسی تقریبات میں غیر قانونی کام جیسے شراب نوشی اور منشیات کا استعمال بھی دیکھا گیا 'جس کے بعد لڑکے اور لڑکیاں اپنے حواس میں نہیں رہتے اور ہراسانی کے واقعات ہوتے ہیں۔'

عمر چٹھہ کے مطابق ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ کئی منتظمین بڑی تقریب کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

ڈی سی لاہور عمر چھٹہ

،تصویر کا ذریعہDC OFFICE LAHORE

،تصویر کا کیپشنہراسانی کے واقعات کے باعث حال ہی میں لاہور شہر میں ایسی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

ڈی سی لاہور کہتے ہیں کہ 'کئی مقامات ہیں جہاں اگر دو ہزار لوگوں کی جگہ ہے تو منتظمین نے چار ہزار ٹکٹیں فروخت کی ہیں۔ یہ سب لوگ صرف اپنے اپنے برانڈز کی مارکیٹینگ کے لیے یہ کرتے ہیں اور بعد میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔ پچھلے دنوں بھی جب ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تو پتا چلا کہ کلب والوں نے خود تقریب کروانے کے بجائے جگہ کسی اور کو کرائے پر دی تھی۔ اس لیے ہم نے اس مرتبہ کسی کو اجازت نہیں دی۔ اور اگر کوئی شخص اس پابندی کی خلاف ورزی کرے کا تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔'

یہ بھی پڑھیے

تقریبات میں ہراسانی کے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایونٹ آرگنائزر حسن رشید کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے انتہائی چوکس رہنا پڑتا ہے اور اچھے انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔ 'سب سے پہلے لوگوں کی جانچ پڑتال کرنی ہوتی ہے کہ کس قسم کے لوگ تقریب میں شرکت کریں۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا ڈیٹا ضرور اکٹھا کرنا چاہیے تاکہ اگر کوئی ایسا واقع ہو تو ملوث شخص کو پکڑا جا سکے یا اس کی شناخت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی بہت سخت ہونی چاہیے جس میں گارڈز اور باؤنسرز شامل ہوں۔'

حسن رشید نے ایک مثال دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ایک تقریب کے دوران صارفین کو کیو آر کوڈ والے پاس مہیا کیے جن پر شناختی کارڈ نمبر دینا ضروری تھا۔ 'ساتھ ہی ساتھ ہم نے تقریب کی جگہ کو بھی بارہ گھنٹے پہلے تک پوشیدہ رکھا جو صرف پاس لینے والوں کو کوڈ کے ذریعے ہی معلوم ہو سکتی تھی تاکہ کسی غیر متعلقہ شخص کو پتا ہی نہ ہو کہ تقریب ہو کہاں رہی ہے اور نہ ہی کوئی گیٹ توڑ کر اندر آئے۔'

وہ بتاتے ہیں 'اس کے باوجود بھی اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ہمارے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو تقریب سے باہر نکال دیا جائے یا پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔'

کسی تقریب کے دوران ہراسانی کا شکار ہونے پر کیا کرنا چاہیے؟

حسن رشید کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوتی ہے۔

'ہم جب کوئی بھی تقریب منعقد کرتے ہیں تو گراؤنڈ کے اندر ہماری ٹیمیں گشت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کرتے ہیں تاکہ ہر شخص پر نظر رکھی جا سکے۔'

حسن کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ منتظمین کی جانب سے ہراسانی یا دیگر شکایات کے تدارک کے لیے واضح حکمت عملی اور کاوئنٹر بنایا جائے جس کے بارے میں تقریب میں شامل ہونے والوں کو اطلاع دی جائے۔

ڈی سی لاہور عمر چٹھہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاتون کو ہراسانی کی شکایت ہو تو سب سے پہلے سکیورٹی یا منتظیمن کو اطلاع دی جائے۔ لیکن اگر وہاں پر ان کی شکایت پر داد رسی نہ ہو تو 'فوری طور پر پولیس کو کال کریں۔ ایسے واقعات کی آن لائن شکایت بھی درج کروائی جا سکتی ہے جس کے بعد قانون کے مطابق متعلقہ شخص اور منتظمين کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔'

آئمہ بیگ کہتی ہیں کہ اگر کوئی بھی ایسی مشکل کا شکار ہو تو انہیں سب سے پہلے تو اس جگہ سے نکل جانا چاہیے۔ 'پھر منتظمین کو شکایت کریں تاکہ کارروائی ہو۔'

آئمہ بیگ کے مطابق ان واقعات کی ویڈیوز منظر عام پر آنے سے ان کا نام بھی خراب ہوتا ہے۔ 'صرف ایک یا چند مخصوص لوگوں کی وجہ سے سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔'