آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیرون ملک قید پاکستانیوں کا غم: ’خدا کے نام پر دھوکہ دینے والے رحم نہیں کرتے'
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
'لوگ رحم نہیں کرتے، حالانکہ جس خدا کے نام پر وہ دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ رحم کرتا ہے۔۔۔ اور کسی طرح بچا لیتا ہے۔'
تارکین وطن کے حوالے سے منعقد ہونے والی حالیہ تقریب میں یہ الفاظ جیسے ہی سنے، ذہن میں رہ گئے، اور ساتھ ہی ذہن میں وہ تمام تصاویر دوبارہ سے گردش کرنے لگیں جو اس تقریب میں لوگوں کی بازیابی کے لیے آویزاں کی گئی تھیں۔
یہ تصاویر ان تمام لوگوں کی ہیں جو بیرونِ ملک کام کی تلاش کے دوران یا کسی کے بہکاوے میں آنے کے نتیجے میں گرفتار ہوچکے ہیں اور کئی سال گزرنے کے باوجود ان کی رہائی ممکن نظر نہیں آتی۔
ہر سال 18 دسمبر کو تارکینِ وطن کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں غیر ملکی قیدیوں کے بارے میں عرصہ دراز سے بات کی جاتی رہی ہے اور یہ بات بارہا سامنے آئی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار افراد جو بیرونِ ملک، خاص طور پر خلیجی ممالک جانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا اچھی نوکری یا مفت عمرے کے لالچ میں آکر جعلسازوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مدد کے لیے پکارے جانے پر دن رات دیکھے بغیر تیار ہوجاتے تھے۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد سے بات کرکے احساس ہوا کہ ان کے لیے مدد کرنے کی یہ عادت کتنی مہنگی ثابت ہوئی۔
’کچھ نہیں بتاتے کہ وہ کب اور کیسے قید میں ہیں‘
اسی تقریب میں ایک تصویر رضوانہ اور ان کے خاوند کی تھی۔ کوٹلی سے تعلق رکھنے والی رضوانہ نے بتایا کہ وہ انھیں بچپن سے جانتی تھیں۔
اگر کوئی آدھی رات کو بھی کام کہہ دے تو وہ بنا کوئی سوال کیے ساتھ چل پڑتے تھے۔ رضوانہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر انھیں بتا کر گئے کہ وہ اسلام آباد جارہے ہیں اور بار بار باہر جا کر فون استعمال کررہے تھے۔
’ایسا انھوں نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ جانے کی عجلت اتنی تھی کہ کلائی میں ہر وقت باندھی ھوئی گھڑی بھی، گھر پر بھول کر چلے گئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رضوانہ نے بتایا کہ ان کے شوہر کے اسلام آباد سے جانے کے بعد کچھ پتا نہیں چلا کہ کیا ہوا، اور وہ کہاں گئے۔
’پھر ایک روز اچانک فون کرکے بتایا کہ میں سری لنکا میں قید میں ہوں۔ میں پوچھتی رہ گئی کہ کیا ہوا، کیسے قید میں ہو، لیکن انھوں نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ اب بھی فون کرکے بچوں کا پوچھتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں بتاتے کہ وہ کب اور کیسے قید میں ہیں۔'
رضوانہ کے شوہر ان متعدد پاکستانیوں میں سے ہیں جنھیں منشیات سمگلنگ کے الزام میں سری لنکا کی جیل میں قید کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اب تک اپنے گھر والوں کو یہ بیان نہیں کر پائے ہیں کہ وہ وہاں کیوں اور کیسے پہنچے ہیں۔
اکثر ایسے واقعات میں ایجنٹ کے ذریعے مزدور پیشہ افراد باہر جانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ پاکستانی قیدیوں کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق، غیر ملکی جیلوں میں قید زیادہ تر پاکستانیوں کا تعلق غریب طبقے سے ہے جنھیں اس شرط پر باہر بھیجا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ منشیات بھی دوسرے ملک میں سمگل کریں گے۔
ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے گھر یا خاندان کا ایک فرد اپنے پاس رکھ لیا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ شخص منشیات سمگل نہ کرلے تب تک اس کے رشتہ دار کو نہیں چھوڑا جاتا۔
اسی طرح ایک خاموش تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اپنی سزا پوری کرکے کسی طرح پاکستان واپس لوٹ آئے ہیں اور وہ اسے کسی معجزے سے کم نہیں سمجھتے۔
’میری زندگی کے دس سال ختم ہوکر رہ گئے‘
مری سے تعلق رکھنے والے ندیم کی مثال بھی کچھ یوں ہی ہے۔ ندیم راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی وین میں کنڈکٹری کرتے تھے۔
اس دوران ان کو ایک شخص نے بتایا کہ انھیں ڈیڑھ سے دو لاکھ مل سکتے ہیں اگر وہ سعودی عرب جا کرگاڑی چلائیں۔ انھیں ذاتی کمرہ ہونے اور والدین کو عمرہ کرانے کا لالچ بھی دیا گیا۔
سننے میں یہ بات بہت اچھی لگی۔ ندیم کے ساتھ ان کے دوست بھی جانے کے لیے آمادہ ہوگئے لیکن جانے سے کچھ روز پہلے اس شخص نے ندیم سے اسے دو لاکھ روپے دینے کا کہا۔ ندیم نہ دے سکا تو اس نے ندیم کے دوست کا بھائی کو اپنے پاس رکھ لیا اور اسے کہا کہ ریاض پہنچ کر فون کرے۔
ایئرپورٹ پہنچ کر جہاں ندیم کو یہ معلوم چلا کہ ان کے بیگ میں منشیات رکھی گئی ہے۔ وہیں انھیں یہ بھی احساس ہوگیا کہ اب ان کا یہاں سے زندہ نکلنا ممکن نہیں ہے۔
ندیم اگلے دس سال تک سعودی جیل میں قید رہے۔ اس دوران ان کے ساتھ قید ہونے والے ساتھی کا سر قلم کردیا گیا۔ انھیں اس دوست کی والدہ سے جھوٹ کہنا پڑا کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے مرگیا ہے۔
انھیں خود کو بچانے کے لیے قرآنِ پاک سیکھنا پڑا تاکہ ان کی سزا کی مدت کم کی جاسکے۔ لیکن ان کے بجائے ایک سعودی شہری کو رہائی دے دی گئی۔
صرف ایک بات کا انتظار انھوں نے نہیں کیا، وہ تھا سفارتخانے کے افسران سے ملنے کا انتظار۔ کیونکہ ندیم نے بتایا کہ ان دس سالوں میں پاکستانی سفارتخانے کا ایک بھی رکن ان سے ملنے نہیں آیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی قید کا احوال ندیم نے کچھ یوں سنایا۔
’جیل کا ماحول باہر سے کچھ بتایا جاتا ہے اندر سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سعودی اور پاکستانی قیدیوں کے لیے دہرا معیار ہے۔ میری زندگی کے دس سال ختم ہوکر رہ گئے۔ میں واپس آنے کے بعد کئی کئی گھنٹے کمرے میں بند رہتا ہوں۔ زیادہ بات نہیں کرتا۔ کسی سے ملنا نہیں چاہتا۔ اپنے دوست کی والدہ سے بھی نہیں ملا۔ انھیں کیا بتاؤں کہ میں نے ان سے جھوٹ بولا تھا؟ پیسے کہاں سے لاؤں گا، مجھے کام کون دے گا؟ میرے سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔اس سب کے باوجود میں نیکی کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔'
پاکستانی سفارتخانے سے اپنے قیدیوں کے لیے کچھ نہ کرنے کا گلہ
رضوانہ اور ندیم ان چند افراد میں سے ہیں جن کی کہانیاں کسی طرح سامنے آسکی ہیں۔ لیکن ایسے کئی پاکستانی اب بھی غیر ملکی جیلوں میں قید ہیں جن کی روداد سننے والا یا انھیں جیل سے نکالنے والا کوئی نہیں ہے۔
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے اپریل 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت گیارہ ہزار پاکستانی غیر ملکی جیلوں میں قید ہیں۔
ان میں سے سات ہزار مشرقِ وسطی یعنی مِڈل ایسٹ میں قید ہیں۔ ان اعداد و شمار میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہی کیونکہ اس دوران دنیا بھر میں کووڈ کی وبا پھیلنے کے باعث جیلوں کا دورہ کرنا محدود ہو کر رہ گیا تھا جبکہ اس دوران دنیا بھر میں سماجی کارکنان کی جانب سے قیدیوں کے لیے رحم کی اپیل بھی کی گئی تھی۔
اس دوران سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان نے ان قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیا تھا جنھوں نے اپنے قید کی ایک بڑی مدت گزار لی ہے۔
پاکستانی قیدیوں کے لواحقین کی شکایت ہے کہ ایسے مواقعوں پر پاکستانی سفارتخانہ اپنے قیدیوں کے لیے تگ و دو نہیں کرتا۔
جبکہ حکومتِ پاکستان کے مطابق پچھلے چند سالوں میں پاکستان نے غیر ملکی جیلوں سے تقریباً 16000 پاکستانی رہا کروائے ہیں۔
فروری 2019 میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر دو ہزار سے زیادہ پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن صرف تین سو کے قریب قیدی رہائی پاسکے تھے۔
اسی بارے میں وزیرِ اعظم کے سابق معاونِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز ذوالفقار بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قوانین کا اطلاق ان قیدیوں کو رہا کرانے میں ایک رکاوٹ پیدا کرتا رہا ہے۔
’ہماری کوشش ہے کہ ہم کسی طرح ان ممالک کے ساتھ بات جاری رکھیں تاکہ ہمارے قیدیوں کی سزائیں یہاں آکر ختم کرنے کی اجازت ہو۔ لیکن ہم اتنی نرمی بھی نہیں برت سکتے کہ لوگ اس قانون کی آڑ میں سمگلنگ کرنا شروع کردیں کیونکہ انھیں امید رہے کہ رہائی مل سکتی ہے۔ خلیجی ممالک کے معاملے میں بات پیچیدہ ہوجاتی ہیں۔ جبکہ سری لنکا کے ساتھ ہم نے حال ہی میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں منتقل کرواکر انھیں پاکستان بلوا لیا ہے۔‘
اگر حکومتی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو نومبر 2020 تک سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 2495، متحدہ عرب امارات میں 1610، عمان میں 302، بحرین میں 62 جبکہ ایران میں 146 پاکستانی کو منشیات لے جانے کے مقدمات میں سزا مل چکی ہے۔
پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے یعنی پرزنر ٹرانسفر اگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں۔
ایک اور مثال سری لنکا کی ہے جہاں نومبر 2020 میں 44 پاکستانیوں کی وطن واپسی اس لیے ممکن ہوسکی تھی کیونکہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2004 میں قیدیوں کے تبادلے پر معاہدے پر دستخط ہوچکے تھے۔
اسی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ان پاکستانیوں کو وطن واپس لانا آسان بنا تھا۔ اسی معاہدے کی ایک شِق کے مطابق پاکستانی اپنی بقیہ سزا پاکستان واپس آکر پوری کرسکتے ہیں۔
یہ تمام باتیں سننے کے بعد جب دوبارہ تقریب کا رُخ کیا تو ایک اور ایسے ہی متاثرہ شخص سعید کی تصویر کی طرف نگاہ پڑی۔ سعید کی اہلیہ کو مفت عمرے کا جھانسہ دے کر سعودی عرب لے جایا گیا تھا اور ان کے سامان سے منشیات برآمد ہوئی جس سے انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
انھیں اپنے گھر والوں کو کچھ نہ بتانے کی تلقین بھی کی تھی۔ سعید نے اپنے ریکارڈ کردہ بیان میں وہ ہی الفاظ کہے تھے جو اس تقریب کے شروع میں چلائی گئی ویڈیو میں دہرائہ گئے تھے کہ 'بیشک خدا تو رحم کرتا ہے، لیکن اس کے نام پر دھوکہ دینے والے رحم نہیں کرتے۔'