پیٹرول سمیت تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ صارفین تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
گھروں میں کام کرنے والی زینت کراچی میں واقع ایک کواپریٹو سوسائٹی میں پانچ کلومیٹر کی مسافت پبلک ٹرانسپورٹ پر طے کر کے آتی ہیں۔
بدھ کے روز انھوں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے پندرہ روپے کرایہ ادا کیا۔ جمعرات کے روز بھی انھوں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے پندرہ روپے ہی کرایہ ادا کیا جبکہ حکومت نے گذشتہ روز ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا جس کا اطلاق بدھ کی رات بارہ بجے سے ہو گیا تھا۔
ادھر بشیر احمد اسلام آباد میں سرکاری ملازمت کرتے ہیں اور دفتر آنے جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دفتر آنے جانے کے لیے انھیں 120 روپے روزانہ ادا کرنا پڑتے ہیں جو آج سے مہینہ ڈیڑھ مہینہ پہلے سو روپے تھے۔
بشیر احمد نے بتایا کہ ان کا ایک طرف کا کرایہ ساٹھ روپے بنتا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی اور ان کا بدھ کی رات سے اطلاق ہونے کے باوجود انھوں نے دفتر جانے کے لیے ساٹھ روپے ادا کیے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور کھانے پینے کی چیزوں میں اضافے فوراً کر دیے گئے تھے۔ تاہم قیمتوں میں کمی کے بعد کرایوں اور کھانے پینے کی چیزوں میں کمی یا تو نہیں ہوتی یا پھر بہت کم کی جاتی ہے۔
کراچی میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ شہزاد احمد نے بتایا کہ جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور انھوں نے کارگو کی ترسیل کے لیے کمپنیوں سے کرایے بڑھانے کے لیے کہا تو انھوں نے کرایے بڑھا دیے لیکن اس تناسب سے نہیں جس تناسب سے تیل کی قیمتیں بڑھی تھیں، اس لیے اب تھوڑی سی کمی ہوئی ہے تو اس بنیاد پر گاڑیوں کے کرایے میں کمی نہیں لا جا سکتی۔
کراچی میں رکشہ ڈرائیور منیر نے بتایا کہ جب تیل کی قیمتیں بڑھی تھیں تو اس وقت جب سواری سے زیادہ پیسے مانگتے تھے تو اس پر اچھی خاصی بحث و تکرار ہوتا تھا اور سواری بھی تیل کی قیمتوں کی مناسبت سے زیادہ کرایہ نہیں دیتی تھی۔ ’اب اگر تھوڑی سی کمی ہوئی تو یہ ناممکن ہے کہ رکشے والے کرایے بہت زیادہ کم کر دیں۔‘ انھوں نے کہا کہ تھوڑی بہت کمی تو ہو سکتی ہے تاہم زیادہ بڑی کمی کا امکان نہیں۔
پاکستان میں عوام کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور حکومت کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تک جا پہنچی جس کی ایک بڑی وجہ تیل کی مصنوعات میں نومبر کے مہینے میں ہونے والے بے تحاشہ اضافوں کو بھی قرار دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستان میں تیل کی مصنوعات میں کمی کا اثر فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور کھانے پینے کی چیزوں پر نہیں پڑا۔ یعنی یہ ایسا نہیں جیسے کہ تیل کی قیمت بڑھنے پر کرایوں اور اشیا کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین نے پاکستان میں قیمتوں کے کنٹرول کے حکومتی نظام میں خامی کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی کیا واقعی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے مطابقت رکھتی ہے، اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس کمی کو پوری طرح عوام کو منتقل نہیں کیا جس کی بڑی وجہ اس پر ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر ٹیکس میں اضافہ کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حکومت نے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کتنی کمی کی؟
حکومتی اعلان کے مطابق پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے کی کمی کر دی گئی ہے جس کے بعد فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 142.62 روپے سے کم ہو کر 137.62 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں بھی پانچ روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے جو 145.82 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 140.82 روپے ہو گئی ہے۔
پاکستان میں ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 102.95 روپے ہے تاہم اس میں حکومت کے ٹیکسوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن کو شامل کر کے اس کی قیمت کو 137.62 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسی طرح پیٹرول کی فی لیٹر ایکس ریفائنری قیمت 108.01 روپے ہے جس میں حکومتی ٹیکسوں اور کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کو شامل کر کے صارفین سے 140.82 روپے فی لیٹر قیمت وصول کی جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کیا بین الاقوامی منڈی کے رجحان کے مطابق ہے؟
پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا جائزہ لیا جائے اور بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو حکومت نے عالمی منڈی میں ہونے والی قیمت میں کمی کو مکمل طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا۔
عارف حبیب لمٹیڈ میں تیل و گیس کے شعبے کے ماہر ارسلان حنیف نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین نظر ثانی یکم دسمبر سے پندرہ دسمبر تک تیل کی عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس عرصے میں تیل کی بین الاقوامی منڈی میں قیمت تقریباً 75 ڈالر کے قریب رہی جس کی وجہ سے پاکستان میں ریفائنری سے تیار ہو کر نکلنے والی تیل مصنوعات کی قیمتوں میں کی گئی۔
ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 111روپے فی لیٹر سے گر کر 103.78روپے فی لیٹر ہو گئی جبکہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 115.45 روپے فی لیٹر سے گر کر 106.50 روپے فی لیٹر تک آگئی۔
یعنی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں آٹھ سے دس روپے کی کمی ریفائنری کی طرف سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی قیمت میں کمی آئی جبکہ پاکستان میں صارفین کو پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت پر پانچ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
ارسلان نے بتایا کہ حکومت نے اس بار پیٹرولیم لیوی میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی تاہم سیلز ٹیکس کی شرح پیٹرول و ڈیزل پر بڑھا دیا جس کی وجہ سے پوری طرح بین الاقوامی منڈی میں ہونے والی کمی کا فائدہ صارفین تک نہیں پہنچ سکا۔
ایک لیٹر ڈیزل پر حکومت نے سیلز ٹیکس کی شرح 9.79 روپے سے بڑھا کر 11.46 روپے کر دی جبکہ پیٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 2.34 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 6.41 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔ اسی طرح پیٹرول پر ڈیلرز اور کمپنیوں کے مارجن میں بھی ڈیڑھ روپے تک اضافہ کر دیا گیا اور ڈیزل پر بھی اس مارجن میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ارسلان نے بتایا پیٹرول و ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت کو دیکھا جائے تو حکومت کو بھیجے جانے والی سمری میں دس روپے تک کمی کی سفارش کی گئی تھی جو اس سے مطابقت رکھتی ہے تاہم حکومت نے ان پر پیٹرول و ڈیزل پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر ٹیکس کی وصولی کو بڑھایا۔ تو دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز کے نفع میں بھی اضافہ کیا جس کا معاہدہ حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ اس وقت ڈیلرز سے کیا گیا جب انہوں نے مارجن کے اضافے کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے ہڑتال کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تیل مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں ہو رہا؟
تیل مصنوعات میں اضافے پر فوری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے تاہم تیل کی مصنوعات میں کمی کا فوری اثر دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان میں پائیدار ترقی کے ادارے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تیل کی مصنوعات میں کمی وفاقی حکومت کا اختیار ہے اور اس کمی کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے صوبائی و مقامی حکومتوں کا کردار ہوتا ہے۔
یعنی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے اور اسی طرح مقامی منڈیوں میں اشیائے خورد و نوش میں قیمتوں کو کنٹرول کرنا صوبائی و مقامی حکومتوں کا کام ہے۔
تاہم ان کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان میں صوبائی سطح اور مقامی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظام کمزور پڑ چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مقامی سطح پر ضلعی مجسٹریٹ منڈیوں میں قیمتوں کے نظام کو دیکھتا تھا لیکن اب یہ کہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ’اول تو پاکستان میں مقامی حکومتوں کو قائم نہیں ہونے نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی مقامی حکومت ہے بھی تو اس کا کام موثر نہیں ہے۔‘
’اسی طرح مارکیٹ کمیٹی کا نظام بھی ختم ہو چکا ہے کہ جو مقامی حکومت کے ذریعے چلایا جاتا تھا اور اس کے ذریعے مارکیٹ میں قیمتوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔‘
ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ صوبائی حکومت بھی پرائس کنٹرول کے لیے مقامی اور ضلعی انتظامیہ پر انحصار کرتی ہے کیونکہ چیف سیکریٹری ضلعی ڈی سی اور اے سی کے ذریعے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کرتا ہے تاہم اب اس پر کوئی موثر عمل نہیں ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی طرح صوبائی حکومت کے پرائس کنٹرول ادارے کا بھی اب ذکر سننے کو نہیں ملتا۔
ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ صارفین کو قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہنچانے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں سب کا کردار ہے۔ ’وفاقی حکومت قیمت کرنے کا اعلان کرتی ہے اور اب اس کا فائدہ صارفین تک پہنچانے کے لیے ضلعی سطح پر موثر نظام ہو جو فی الحال موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے صارفین کو فوری کمی کے ثمرات نہیں پہنچ پاتے۔‘












