عمران خان کے کووڈ ریلیف پیکیج کی آڈٹ رپورٹ میں ’اربوں روپے کی بےضابطگیوں‘ کی نشاندہی لیکن ذمہ دار کون؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سنہ 2020 میں پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے امدادی پیکیج کی جانچ پڑتال کی رپورٹ میں اربوں روپوں کی بےضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ 'ان بے ضابطگیوں کی توثیق کی جا چکی ہے۔'
اس رپورٹ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، وزارت دفاع اور دیگر محکموں کے اکاؤنٹس اور ان کو کووڈ 19 کی وبا سے نمٹنے کی مد میں دی گئی رقم کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
رپورٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بارے میں جب وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف اس رپورٹ سے 'مطمئن' ہے جبکہ اس رپورٹ میں موجود بے ضابطگیوں کی 'توثیق' کی جا چکی ہے۔
تاہم انھوں نے ان محکموں اور اداروں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف کسی قدم اٹھائے جانے یا انکوائری شروع کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے بی بی سی نے اسی بابت سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں اب تک آنے والی خبریں آڈٹ کے نظام اور طریقہ کار سے اپنی لاعلمی کا مظہر ہیں۔
’اس رپورٹ کے تمام پیرا کے جوابات دے دیے گئے ہیں اور اور اے جی پی آفس اور آئی ایم ایف، دونوں ہی ان جوابات سے مطمئن ہیں۔‘
حکومتی موقف کے علاوہ بی بی سی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا اے جی پی کی جانب سے دی گئی سفارشات میں سے کسی پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔
اس رپورٹ کو تیار کرنے والوں میں شامل اے جی پی آفس کے اعلیٰ افسر تفاخر علی اسدی سے بی بی سی نے جب اس رپورٹ اور اے جی پی کی سفارشات کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ رپورٹ پارلیمان میں پیش ہو چکی ہے اور طریقہ کار کے مطابق اس پر بحث کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو پیش کی جاتی ہے۔ وہاں پر اے جی پی کے نمائندے بھی ہوں گے اور حکومتی ٹیم بھی ہوگی جن کے سامنے سوالات رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قواعد کے تحت یہ تمام عمل میڈیا کے سامنے ہوگا۔
تفاخر علی اسدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ کے بعد اس رپورٹ میں ’بے ضابطگیوں‘ کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا مطلب ’غبن‘ نہیں ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی جانب سے تیار کی گئی یہ رپورٹ 30 جون 2020 کے مالی سال کے اختتام پر کورونا امدادی سرگرمیوں میں شامل وفاقی محکموں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے بعد رواں سال جون میں مکمل کی گئی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے اس رپورٹ کی اشاعت آئی ایم ایف کی ان پیشگی شرائط میں سے ایک ہے جو آئی ایم ایف کی جانب سے اگلی ایک بلین ڈالر قرض کی قسط حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر لاگو کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ برس مارچ میں حکومت پاکستان کی جانب سے کووڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے کُل 1240 ارب روپے (یعنی 1.24 ٹریلین روپے) مختص کیے گئے تھے جس میں سے حکومتِ پاکستان کی اپنی رقم اور غیر ملکی اداروں کی جانب سے دی گئی امداد اور قرضے شامل ہیں۔ اس میں آئی ایم ایف کی جانب سے کووڈ کی امداد کی مد میں دیے گئے تقریباً 1.4 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔
تاہم 30 جون 2020 تک اس مجموعی رقم میں سے 354 ارب روپے مختلف محکموں کو جاری کیے گئے تھے جن کی جانچ پڑتال اس رپورٹ میں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ہفتے کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو کووڈ کے امدادی پیکج کی جانچ کرنی تھی اور ان نتائج کو وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر اپریل 2021 تک شائع کرنا تھا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے یہ رپورٹ ویب سائٹ پر 26 نومبر کو شائع کی گئی اور اس تعطل کے بارے میں بھی جب مزمل اسلم سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔
اس رپورٹ میں کن بے ضابطگیوں کا ذکر کیا ہے؟
دو سو سے زائد صفحات پر مبنی اے جی پی کی اس رپورٹ میں این ڈی ایم اے، بی آئی ایس پی، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، وزارت دفاع اور دیگر سرکاری محکمہ جات کو کووڈ امدادی پیکج کے تحت دی جانے والی رقوم کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں کم از کم چالیس ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کو اس عرصے میں 33 ارب روپے دیے گئے جس میں ادارے نے تقریباً 23 ارب روپے استعمال کیے۔
تاہم اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے بعد بتایا گیا کہ آڈٹ کے دوران متعدد ایسے مشاہدات سامنے آئے جس میں سامان حاصل کرنے کے عمل میں بے ضابطگیاں، معاہدوں اور مالیاتی معاملات میں نگرانی کے عمل میں کمزوریاں نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھیے
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کئی مواقعوں پر طلب کیا گیا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے ساتھ ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے کیے گئے تقریباً سوا چار کروڑ روپے کے معاہدے پر رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ 'معاہدہ کی کوئی توجیہ نہیں ہے‘ کیونکہ این آئی ٹی بی کے پاس اس نظام کو نافذ کرنے کی ’اہلیت نہیں تھی اور نہ ہی اس معاہدے کو اتنی جلد بازی میں کرنے کی توجیہ قابل قبول ہے۔‘
اسی طرح رپورٹ میں این ڈی ایم اے کے ایک اور منصوبے کا ذکر کیا گیا کہ چین کی جانب سے چالیس لاکھ ڈالر کی رقم 250 بستروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے عطیہ کی گئی۔
این ڈی ایم اے، جس کے اُس وقت سربراہ لیفٹننٹ جنرل محمد افضل تھے، نے اس ہسپتال کی تعمیر کا ٹھیکہ فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دیا اور اس مد میں ایف ڈبلیو او کو دو قسطوں میں 60 کروڑ روپے ہسپتال کی تعمیر کے لیے دیے گئے۔
آڈٹ کی جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ این ڈی ایم اے نے اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے چینی عطیے کی رقم کے بجائے کووڈ فنڈ سے رقم استعمال کی جبکہ عطیہ کی گئی چینی رقم استعمال نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے این ڈی ایم اے نے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل محمد افضل کے حکم پر ایف ڈبلیو او کو کُل بیس کروڑ روپے عوامی فنڈز سے دیے جبکہ راولپنڈی اور کراچی میں مختلف تعمیرات کے لیے مزید نو کروڑ روپے دیے۔
اے جی پی کے آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ان دونوں پراجیکٹس کے لیے ایف ڈبلیو او کو دی گئی 29 کروڑ روپے کی رقم کے لیے مجاز حکام سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔
این ڈی ایم اے نے آڈٹ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ادارے کے چیئرمین نے کووڈ میں ایمرجنسی کے باعث یہ رقم دینے میں جلدی کی تاہم اے جی پی نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قواعد کی بے ضابطگی ہے۔
یاد رہے کہ لیفٹننٹ جنرل محمد افضل این ڈی ایم اے کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ایف ڈبلیو او کے سربراہ تھے۔
دوسری جانب آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری اہلکاروں اور ان کی بیوی/شوہر بی آئی ایس پی کی جانب سے دی گئی رقم کے حقدار نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود آڈٹ سے پتا چلا کہ 1.8 ارب روپے انھیں دیے گئے ہیں جو کہ بے ضابطگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وزارت دفاع کو دی گئی رقوم کے آڈٹ کے بعد رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملٹری ہسپتال راولپنڈی، سی ایم ایچ اٹک اور سی ایم ایچ جہلم کو 16 کروڑ سے زیادہ کی رقم دی گئی تھی تاہم جب آڈٹ کے لیے اس کی تفصیلات مانگی گئیں تو وہ رپورٹ تیار ہونے تک فراہم نہیں کی گئیں۔
اے جی پی نے اس بارے میں رپورٹ میں تبصرہ کیا کہ نہ صرف آڈٹ کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے بلکہ تفصیلات نہ دینے والے افراد کا تعین کرنے کے لیے انکوائری بھی کی جائے۔
آرمی کے امراض قلب کے ادارے کے بارے میں اے جی پی رپورٹ کا کہنا تھا کہ انھیں کووڈ 19 فنڈ سے 20 کروڑ روپے دیے گئے لیکن آڈٹ سے پتا چلا کہ وہ تمام رقم پرانے قرضہ جات اتارنے یا دل کے امراض کی ادویات خریدنے کے لیے استعمال کی گئی۔
اے جی پی نے ہسپتال کی دی گی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کی سفارش کی۔
رپورٹ میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے بارے میں بتایا گیا کہ چینی کی خریداری میں 1.4 ارب روپے جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی خریداری کی مد میں 1.6 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔












