آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نسلہ ٹاور: ’مستقبل میں کنٹونمنٹ کی زمینیں دفاعی مقاصد کے علاوہ استعمال نہیں ہوں گی‘، سیکریٹری دفاع کا سپریم کورٹ میں بیان
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی وزارت دفاع نے ملک کی عدالتِ عظمی کے سامنے کہا ہے کہ مستقبل میں کنٹونمنٹ کی زمینیں دفاعی مقاصد کے علاوہ کسی کام کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے انھیں مسلح افواج کے سربراہان نے آگاہ کر دیا ہے۔
جمعے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سیکریٹری دفاع پیش ہوئے جہاں چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ غیر قانونی تجاوزات اور کنٹونمنٹ کی زمینوں پر ہاؤسنگ اور کمرشل سرگرمیوں کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو زمین کس مقصد کے لیے دی گئی۔ اس پر سیکریٹری دفاع نے کہا ’دفاعی مقاصد کے لیے اور یہ رولز اینڈ ریگولیشنز میں موجود ہے۔‘
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’سینما ہال، کمرشل سرگرمیاں کیا ڈیفنس اور سٹریٹیجک ہیں؟ سی او ڈی (سینٹرل آرڈیننس ڈیپو) کو شادی ہال میں تبدیل کر دیا، ایئر بیس شادی ہال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘
سیکریٹری دفاع نے انھیں بتایا کہ ’تمام چیف آف سروسز نے مستقبل میں اس قسم کے استعمال کو روکا ہے، جو ہیں انھیں فوری ہٹایا جائے گا۔‘
اسی دوران ایک شہری نے نشاندہی کی کہ ماڑی پور ایئر بیس کو انڈسٹریل پارک بنایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’دیکھیں، مسرور ایئر بیس، فیصل ایئر بیس اور کورنگی ایئر بیس کا بھی کمرشل استعمال ہوگا۔‘
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ انھوں نے کینٹ ایریا سے اشتہارات ہٹانے کے لیے کہا تھا۔ ’انھوں نے پہلے دیوار بنائی اس کے بعد عمارت بنالی۔ جتنے بھی عسکری رہائشی فیز بنے ہوئے ہیں وہ کینٹ کی زمینوں پر بنے ہوئے ہیں۔ کیا سٹریٹیجک رہے گا اور کیا ڈیفنس رہے گا؟‘
چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’آپ تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں کرنل اور میجر کِنگ بنے ہوئے ہیں۔ ہر چیز کر رہے ہیں، عدالت کے کسی آرڈر کو نہیں مانتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ ’کسی حکمت عملی کے ساتھ آئیں جس میں ایریا، طریقہ کار وغیرہ واضح ہو۔‘ چیف جسٹس نے ان کی تائید کی۔ سیکریٹری دفاع نے ایک بار پھر موقف دہرایا کے ’چیفس نے واضح کیا ہے اب زمین مستقبل میں تبدیل نہیں ہوگی۔‘
چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ ’تمام کینٹس کو آگاہ کیا جائے اور اس کی تشہیر کی جائے۔‘
انھوں نے سیکریٹری دفاع کو مکمل حکمت عملی کے ساتھ منگل کو اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو بھی شامل کریں۔
’یہاں سیاست نہ کریں‘
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور مسمار کرنے اور اس کام پر چار سو مزدور لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔
کمشنر کراچی اقبال میمن نے عدالت میں پیش ہو کر پیشرفت رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ آپ عمارت کے پلر توڑ رہے ہیں اس سے تو نقصان ہوسکتا ہے۔ ’کیا کسی انجینیئر یا ماہر سے مشاورت کی ہے؟ عمارت کو تو آخری منزل سے توڑنا چاہیے۔‘
کمشنر نے انھیں بتایا کہ پہلے دیواریں، واش رومز اور ٹینکیوں کو توڑا جائے گا، پھر اوپر سے مسمار کیا جائے گا۔
اس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ ’کتنے وقت میں یہ مکمل ہوجائے گا؟‘
کمشنر نے بتایا کہ کام جلد مکمل کیا جائے گا اور کہا کہ ’اس وقت دو سو لوگ کام کر رہے ہیں‘ جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ’چار سو لوگ لگائیں اور ایک ہفتے میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کریں۔‘
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان عدالت میں پیش ہوئے اور متاثرین کے لیے معاوضے کی بات کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا آپ نسلہ (ٹاور) کے رہائشی ہیں؟ یہاں سیاست نہ کریں۔‘
اس پر حافظ نعیم نے کہا کہ ’یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا۔‘ جواباً چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’یہ آپ عدالت میں ہیں۔ توہین عدالت کا نوٹس ہوسکتا ہے۔ یہاں سیاسی تقریر کی اجازت نہیں۔‘
’کینٹ کی زمینوں پر کمرشل اور ہاؤسنگ منصوبے غیر قانونی ہیں‘
بدھ کو کراچی میں غیر قانونی تجاوزات اور فلاحی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی زمینوں کے حوالے سے مقدمات کی سماعت کے بعد چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ کنٹونمنٹ کی زمینوں پر ہاؤسنگ اور کمرشل سرگرمیاں کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 اور لینڈ اکیوزیشن ایکٹ 1937 کی خلاف ورزی ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو زمینیں الاٹ کی ہیں وہ صرف کینٹ مقاصد کے لیے ہیں اور وہاں کمرشل اور ہاؤسنگ منصوبے غیر قانونی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری ڈیفنس، اٹارنی جنرل آف پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کراچی کے تمام کنٹومنٹ بورڈز کو ایکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر طلب کیا تھا۔
کراچی کنٹومنٹ بورڈ سمیت شہر میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن میں، منوڑہ، کورنگی کریک، ملیر، کلفٹن اور فیصل کنٹونمنٹ بورڈ شامل ہیں۔
سماعت کے موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے تھے کہ کینٹ کی زمین کسی کی ذاتی زمین نہیں ہے جو تقسیم کر دی، یہ ریاست کی زمین ہے آپ کے (کینٹ کے) مقصد کے استعمال میں نہیں تو اس کو واپس کر دیں۔
انہوں نے مسرور بیس، فیصل ایئر بیس کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سینٹرل آرڈیننس ڈپو کی زمین پر کمرشل کامپلیکس بنائے گئے ہیں شادی ہال بنے ہوئے ہیں، سکول بنا لیے، ایئربیس ایک سٹریٹجک جگہ ہے وہاں سوسائٹیز بنادی گئی ہیں۔
وکلا نے نشاندہی کی کہ عدالت نے شادی ہال ختم کرنے کے لیے کہا تھا اور الزام لگایا کہ لیکن رات کو بتیاں بند کر کے تقریبات کی جارہی ہیں اور یہ کہ عسکری پارک بھی پبلک کے لیے نہیں کھولا گیا۔
ایک وکیل نے الزام لگایا کہ ڈی ایچ اے فیز ون مسجد طوبیٰ کے ساتھ پارک تھا وہاں پہلے سلاخیں لگائی گئیں اس کے بعد پبلک کے لیے بند کر دیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس نے کنٹونمنٹ افسر سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کا طریقہ واردات یہ ہی ہے ناں پہلے دیوار بناتے ہیں اس کے بعد اندر ہی اندر پتہ نہیں کیا ہوتا ہے اور پھر عمارت بن جاتی ہے۔ انھوں نے افسر سے سوال کیا کہ کنٹونمنٹ کے اس پارک سمیت کتنے پارک ہیں اور ان کی صورتحال کیا ہے، اس سے عدالت کو آگاہ کریں۔
کراچی میں شہری حقوق کی تنظیم ’شہری‘ کی کارکن امبر بھائی نے عدالت کو شہر میں دفاعی پلاٹوں، پارکوں اور میدانوں پر مبینہ قبضے کی تفصیلات فراہم کیں اور اللزام لگایا کہ سابق میئر نعمت اللہ خان نے کراچی کی 29 سڑکوں کو کمرشل ایریا میں تبدیل کردیا، ان کا مقصد سرمائے کا حصول تھا جس کی سول سوسائٹی نے مخالفت کی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی غیر مقبول ہوئی، اس کے بعد ایم کیو ایم آئی اس نے اس کو کاروبار بنالیا، کمرشلائزیشن تو کی گئی لیکن شہری منصوبہ بندی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ شہر میں جو بگاڑ ہے اس کی بڑی وجہ نعمت اللہ خان کا وہی فیصلہ تھا، جہاں 400 گز کے پلاٹ پر ایک خاندان رہتا تھا اب اس پلاٹ پر عمارت بننے کے بعد بیس پچیس خاندان رہتے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ اس کا حل کیا ہے، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کیا کر رہی ہے، وہ کیسے نقشے پاس کرلیتی ہے۔
مرتضی وہاب نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں سترہ ادارے کام کر رہے ہیں جن میں سے 11 وفاقی ہیں، ان میں تعاون کا فقدان ہے۔ امبر بھائی نے تجویز دی کہ ایک مشترکہ ادارے یا اتھارٹی قائم کی جائے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضی وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تو سیاسی مقاصد ہیں آپ تو سیاسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں یہ (ایڈمنسٹریٹر) ایک انتظامی منصب ہونا چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے جواب میں کہا کہ وہ عوام کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ شہر ان کا ہے اس کے لیے کام کریں گے، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ مشترکہ اتھارٹی بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ کورنگی برج (جام صادق پل) کے ساتھ جو غیر قانونی تجاوزات اور عمارتیں بنی ہوئی ہیں انھیں ہٹایا جائے اور وہاں رفاع عامہ کے لیے زمین مختص کی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے گٹر باغیچہ میں کے ایم سی کوآپریٹو سوسائٹی کی الاٹمنٹ رد کردی اور وہاں زمین پبلک پارک کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی۔
امبر بھائی نے عدالت کو بتایا کہ 1161 ایکڑوں پر گٹر باغیچہ تھا جہاں قیام پاکستان سے قبل پانی کی نکاسی ہوتی تھی، اس زمین پر تجاوزات کے خلاف وہ جدوجہد کرتے آئے ہیں اور یہ کہ ان کا ایک کارکن نثار بلوچ اس میں قتل ہوچکا ہے۔ انپوں نے الزام عائد کیا کہ اس پارک کے 200 ایکڑ کے ایم سی نے خود کو ’گفٹ‘ کردی اور سوسائٹی کی الاٹمنٹ کر دی۔
جسٹس اعجاز الحسن نے حیرت کا اظہار کیا کہ کے ایم سی نے اپنی زمین خود کو تحفے میں دے دی یہ کیسے ہوا، عدالت کے استفسار پر ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب نے عدالت کو بتایا کہ اس زمین پر تعمیرات نہیں ہوئیں صرف چالان جاری کیے گئے ہیں، عدالت نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔
نسلہ ٹاور کیس
اس سے قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جیسے ہی سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ نسلہ ٹاور کو منہدم کرنے کا کیا ہوا، کمشنر اقبال میمن نے انھیں بتایا کہ کام شروع کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے انھیں ہدایت کی کہ فوری ہیوی مشنری لے کر جائیں اور کام مکمل کریں۔
یاد رہے کہ کراچی میں شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع 15 منزلہ نسلہ ٹاور کو سپریم کورٹ نے مسمار کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ 1044 سکوائر یارڈ میں سے 780 سکوائر یارڈ غیر قانونی تجاوزات ہے کیونکہ یہ سروس روڈ کا حصہ تھا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کمشنر سے سوال کیا کہ کتنی بلڈنگ گری ہے، کتنا کام ہوا ہے، اس کی تفصیل سے آگاہ کریں اور کمشنر کی سرزنش کے بعد چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ’جاؤ اور سارے شہر کی مشنری اور سٹاف لے کر نسلہ ٹاور گراؤ‘۔
اس حکم ہر عملدرآمد کرتے ہوئے انتظامیہ نے عمارت کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور پہلے روز شام سات بجے تک گراؤنڈ فلور کی دیوراین گرائی گئیں۔
یاد رہے کہ بجلی، پانی اور گیس کنیکشن منقطع ہونے کے بعد رہائشی سامان لیکر چلے گئے تھے۔