بلوچستان یونیوسٹی کے لاپتہ طالبعلم: ’میں نہیں کہتی تھی کہ میرے چھوٹے بچے کو میری نظروں سے دور نہ کرو'

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

'بھائی کی گمشدگی کا سن کر ہماری والدہ نے کہا کہ دیکھو میں نے کہا تھا کہ میرے بیٹے کو میری آنکھوں سے دور مت کرو اور اسے باہر پڑھنے کے لیے مت بھیجو تاکہ انھیں کچھ ہو نہ جائے'۔

یہ کہنا تھا کہ جمیل احمد بلوچ کا جن کا بلوچستان یونیورسٹی میں زیر تعلیم چھوٹا بھائی سہیل بلوچ اپنے ایک اور ہم جماعت فصیح بلوچ کے ہمراہ یکم نومبر سے لاپتہ ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ 'دوسرے طلبا اور نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات کے بارے میں جب میری والدہ سنتی تھیں تو وہ پریشان ہوکر یہ کہتی تھیں کہ میرے بیٹے کو کسی گیرج میں بھیجو لیکن باہر پڑھنے کے لیے نہیں بھیجو'۔

دونوں طالب علموں کی گمشدگی کے خلاف یونیورسٹی کے طلبا نے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس سے یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں بلکہ مڈ ٹرم امتحانات بھی نہیں ہوسکے۔

طلبا کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی کو تاحکم ثانی بند کیا گیا ہے جبکہ حکومت بلوچستان نے طلبا کے احتجاج کے حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

لاپتہ ہونے والے طلبا کون ہیں؟

بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ ہونے والے دونوں طالب علموں کا تعلق ضلع نوشکی سے ہے۔

ان میں سے سہیل بلوچ نے نوشکی سے ایف اے کرنے کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان میں داخلہ لیا تھا۔ تاہم فصیح بلوچ اپنے والد کی کوئٹہ میں ملازمت کی وجہ سے میٹرک اور پھر ثانوی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔

دونوں بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ پاکستان سٹڈیز کے طالب علم تھے اور دونوں کلاس فیلو یونیورسٹی کے ہوسٹل میں بھی ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ ان کے بھائی سہیل محنت کرنے والے طالب علم تھے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان بھر میں بی ایس کے جن پانچ سو طلبا کی کارکردگی کے حساب سے درجہ بندی کی گئی تو اس میں ان کے بھائی کا نمبر نواں تھا۔

فصیح بلوچ کے بڑے بھائی شہنشاہ بلوچ نے بتایا کہ فصیح سات بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا اور وہ اپنی محنت کے باعث بی ایس کے تیسرے سمسٹر میں تیسرے نمبر پر آیا تھا۔

انھوں نے کہا چونکہ کوئٹہ میں وہ کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے اور گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے فصیح گھر میں پڑھائی کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے سکتا تھا اس لیے وہ ہاسٹل منتقل ہوئے تاکہ وہ اپنی پڑھائی پر بہتر انداز سے توجہ دے سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں کلاس فیلو مقابلے کا امتحان دینا چاہتے تھے اس وجہ سے دونوں کی زیادہ توجہ پڑھائی پر ہی رہتی تھی۔

خود غربت کے باعث زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرسکے لیکن چھوٹے بھائی کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا

جمیل احمد نے بتایا کہ ہم پانچ بھائیوں میں سہیل احمد سب سے چھوٹا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کلاس فور کے ملازم تھے اس لیے وہ انھیں معمولی تنخواہ میں زیادہ نہیں پڑھا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چار بڑے بھائیوں نے دیکھا کہ چھوٹا بھائی نہ صرف قابل ہے بلکہ ان کو پڑھائی کا شوق بھی زیادہ ہے اس لیے ہم چار بڑے بھائی جب برسر روزگار ہوئے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم مل کر سہیل احمد کو پڑھائیں گے، جس کے پیش نظر ہم نے ان کو بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ دلایا۔

جمیل احمد نے بتایا کہ پہلے سہیل کوئٹہ میں ان کے ساتھ رہتا تھا لیکن جب انھوں نے یہ دیکھا کہ وہ گھر پر صحیح معنوں میں پڑھائی نہیں کرسکتے تو وہ یونیورسٹی کے ہاسٹل منتقل ہو گئے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ سہیل احمد نے لاپتہ ہونے سے ایک روز قبل فون کر کے بتایا تھا کہ وہ مضمون نویسی سیکھنے کے لیے ایک سینٹر میں داخلہ لے رہے ہیں، جس کی فیس دس ہزار روپے ہے۔

'میں نے بھائی کو بتایا کہ میرے جیب میں تو ایک ہزار روپے ہے تاہم پیسوں کا انتظام کرنے کے لیے گھر والوں کو بتادوں گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ جب گھر والوں نے پیسوں کا انتظام کرکے انھیں ایزی پیسہ کیا تو میں نے یکم نومبر کی شام پانچ چھ بجے کے قریب ان کو فون کیا تو ان کا فون بند جارہا تھا۔

'میں سمجھا کہ شاید پڑھنے میں مصروف ہو گا اس لیے فون بند کیا ہو گا لیکن رات کو بھی فون بند ملنے کے علاوہ دو نومبر کو بھی ان کا فون مسلسل بند جارہا تھا'۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم یونیورسٹی آئے اور ان کے دوستوں سے پوچھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ نہ صرف سہیل احمد بلکہ ان کا دوست فصیح بھی لاپتہ ہے۔

چھوٹے بیٹے کی گمشدگی سے والدہ سب سے زیادہ پریشان

جمیل احمد نے بتایا کہ سہیل احمد اور ان کے دوست کی گمشدگی سے نہ صرف دونوں خاندان پریشانی میں مبتلا ہیں بلکہ ہماری والدہ کو چھوٹے بیٹے کے لیے سب سے زیادہ بے چینی ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ پہلے سے ضیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

'والدہ کی بے چینی اور پریشانی کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ وہ جب دوسروں کے بچوں کی گمشدگی کی خبریں سنتی تھیں تو وہ ہم لوگوں کے لیے پریشان ہوتی تھیں۔

اب جب بھائی لاپتہ ہوا ہے تو وہ مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ ’میں نہیں کہتی تھی کہ میرے چھوٹے بچے کو میری نظروں سے دور نا کرو'۔

جمیل احمد نے کہا کہ والدہ ہم بڑے بھائیوں سے یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے چھوٹے بچے کو فوری طور پر لاﺅ اور انھیں مزید پڑھانے کی ضرورت نہیں۔

دونوں طلبا کی گمشدگی کے بعد طلبا کا احتجاج اور یونیورسٹی کی بندش

یونیورسٹی میں مختلف طلبا تنظیموں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو یونیورسٹی کے احاطے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

طلبا نے پہلے ان کی بازیابی کے لیے یونیورسٹی کے احاطے میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں لیکن بازیابی نہ ہونے پر منگل کے روز انھوں نے یونیورسٹی کے تمام گیٹوں کو بند کر کے باہر دھرنا دے دیا۔

طلبا کے احتجاج کی وجہ سے نہ صرف یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں متاثرہوئیں بلکہ منگل کے روز جن شعبوں کے امتحانات ہو رہے تھے وہ بھی نہیں ہوسکے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کے احتجاج کے پیش نظر دس نومبر سے یونیورسٹی کو تاحکم ثانی بند کردیا ہے۔

یونیورسٹی کے احاطے میں طلبا تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سیکریٹری اطلاعات بالاچ قادر بلوچ نے کہا کہ دونوں طلبا کی بازیابی تک طلبا کا احتجاج جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں طلبا کو یونیورسٹی کے احاطے سے لاپتہ کیا گیا ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اور سکیورٹی کے سربراہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کررہے ہیں، جس کی وجہ سے طلبا احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن جب ہم نے کہا کہ جس وقت ان کو اٹھایا گیا تو ان کیمروں کے ڈیٹا کے ذریعہ دیکھا جائے کہ کون ان کو اٹھا کر لے گیا تو بتایا گیا کہ اس وقت کیمرے بند تھے کیونکہ بجلی نہیں تھی۔

اس موقع بی ایس او پچار کے چیئرمین زبیر بلوچ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما جعفرخان اچکزئی پر یونیورسٹی ہاسٹل میں تشدد کر کے انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ مطالبہ کیا گیا کہ ملزمان کا سی سی ٹی وی کیمروں سے سراغ لگایا جائے تواس وقت بھی یہی بتایا گیا کہ کیمرے بند تھے۔

بالاچ قادر نے بتایا کہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی کی موجودگی کے باوجود طلبا کی گمشدگی کے بارے میں انتظامیہ کی جانب سے لاعلمی کا اظہار سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ طلبا کی گمشدگی کا مقدمہ وائس چانسلر اور سکیورٹی چیف کے خلاف درج کیا جائے لیکن پولیس نے اسے نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا ہے۔

بالاچ قادر نے بتایا کہ اس سے قبل خضدار میں تعلیمی ادارے کے ہاسٹل سے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے بھائی کو اٹھا کر غائب کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات سے طلبا میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے اور وہ احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں اور اگر ان طلبا کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تو طلبا کے احتجاج کو بلوچستان بھر کے تعلیمی اداروں تک وسعت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

دونوں طلبا کی گمشدگی کے حوالے سے جب بی بی سی نے فون پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک میٹنگ میں ہیں اس لیے کچھ دیر بعد رابطہ کیا جائے تاہم بعد میں جب رابطے کے لیے کال کی گئی تو انھوں نے کال وصول نہیں کی۔

تاہم ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے طلبا کے احتجاج کو نوٹس لیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے طلبا سے مذاکرات کے لیے تین رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی طلبہ سے بات چیت کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔