آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ کے لاپتہ طالب علم سعید بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاج
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے میڈیکل کالج کے طالب علم سعید بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاج کا سلسلہ چار روز سے جاری ہے۔
سعید احمد بلوچ بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے فائنل ایئر کے طالب علم ہیں۔
وہ پانچ اورچھ مارچ کی درمیانی شب بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے لاپتہ ہو گئے تھے۔
ان کے ایک کلاس فیلو ڈاکٹر عمران نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ ڈاکٹر سعید بلوچ کالج کے ہاسٹل میں فائنل ایئر کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ رات کو ہاسٹل میں دس کے قریب گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار آئے اور ان کو وہاں سے اٹھا کر لے گئے۔
انھوں نے بتایا کہ ان میں وردی والے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سادہ لباس میں اہلکار بھی شامل تھے۔
اگرچہ فائنل ایئر کے طالب علم کو اٹھائے جانے کا الزام سکیورٹی اداروں پر لگایا جارہا ہے تاہم ابھی تک سرکای حکام کی جانب سے ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین رشید کریم بلوچ نے بتایا کہ سعید بلوچ کا کسی بھی طالب علم تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔
سعید بلوچ کی گمشدگی کے خلاف بولان میڈیکل کالج میں نہ صرف طلبہ نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا ہے بلکہ انھوں نے شہر میں احتجاج بھی کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان میں لوگوں کی جبری گمشدگی اور تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات کے بعد پر امن مظاہروں میں لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی لیکن کئی سال بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی طالب علمی کی مبینہ جبری گمشدگی کے واقعے کے خلاف احتجاج میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ان کی بازیابی کے مطالبے کی بازگشت ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے اس احتجاج میں بھی سنائی دی جو کہ سنڈیمن صوبائی ہسپتال میں ان کے دیگر مطالبات کے حوالے سے جاری ہے۔
طلبہ اور ڈاکٹروں کامطالبہ ہے کہ ڈاکٹر سعید بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہیں تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔