شعیب اختر اور نعمان نیاز کا تنازع: پی ٹی وی نے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر شعیب اختر کو ہرجانے، تنخواہ واپسی کا نوٹس جاری کر دیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان ٹیلی وژن نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے آن ایئر استعفے کی وجہ سے پاکستان ٹیلی وژن کو بڑے مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

اس نوٹس میں شعیب اختر کی جانب سے پی ٹی وی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نوٹس میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کے علاوہ تین ماہ کی تنخواہ کے مساوی رقم بھی واپس کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن اور شعیب اختر کے درمیان جو معاہدہ طے پایا تھا، اس کی شق نمبر 22 میں درج ہے کہ دونوں فریق معاہدہ ختم کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے تین ماہ کا نوٹس دینا لازمی ہو گا یا پھر اس کے مساوی تنخواہ کی ادائیگی کرنی ہو گی۔

نوٹس کے مطابق چونکہ شعیب اختر نے 26 اکتوبر کو آن ایئر پی ٹی وی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا لہٰذا وہ نہ صرف اس معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے پی ٹی وی کو غیر معمولی مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ شعیب اختر پی ٹی وی کو بتائے بغیر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران دبئی چلے گئے اور وہاں وہ ایک انڈین ٹی وی شو میں انڈین کرکٹر ہربھجن سنگھ کے ساتھ نظر آئے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ شعیب اختر نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران پی ٹی وی کے پروگرام ’گیم آن ہے‘ سے غیر حاضر رہ کر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اسی دوران اُنھوں نے دو نجی چینلز کے پروگراموں میں شرکت کر کے بھی اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق اس معاہدے کی رو سے وہ اس بات کے پابند تھے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران صرف پی ٹی وی پر ہی پیش ہوں گے۔

شعیب اختر نے پاکستان ٹیلی وژن کی جانب سے قانونی نوٹس بھیجے جانے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ فائٹر ہیں اور وہ اس قانونی جنگ کا مقابلہ کریں گے۔

شعیب اختر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کے وکیل سلمان نیازی قانون کے مطابق اس معاملے کو دیکھیں گے۔

معاہدہ کیا تھا؟

واضح رہے کہ شعیب اختر اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان معاہدہ چار جنوری 2019 سے تین جنوری 2022 تک کا ہے جس کے تحت ان کی ماہانہ تنخواہ 11 لاکھ 11 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق شعیب اختر کی خدمات ماہر، تجزیہ کار، مہمان اور برانڈ ایمبیسڈر کے طور پر حاصل کی گئی تھیں۔

شعیب اختر اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ 26 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شو ʹگیم آن ہےʹ کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز اور شعیب اختر کے درمیان آن ایئر بحث و تکرار تھی۔

شعیب اختر نے جب فاسٹ بولر حارث رؤف اور لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کا ذکر کیا تو نعمان نیاز نے شاہین آفریدی کا نام لیا اور اُنھیں ٹوکا۔

اس موقع پر شعیب اختر نے ان سے کہا کہ وہ حارث رؤف کی بات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ یہاں کام کرنے آئے ہیں، جس پر ڈاکٹر نعمان نیاز بولے آپ تھوڑے سے اکھڑ اور ضرورت سے زیادہ ہوشیار لگ رہے ہیں لہٰذا آپ جا سکتے ہیں اور وہ یہ بات آین ایئر کہہ رہے ہیں۔

بریک سے واپس آنے کے بعد شعیب اختر نے آن ایئر کہا کہ قومی ٹی وی پر قومی ہیرو کی بے عزتی ہوئی ہے لہٰذا وہ نہیں سمجھتے کہ اُنھیں مزید یہاں بیٹھنا چاہیے اور وہ پی ٹی وی سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ڈاکٹر نعمان نیاز کو تحقیقات مکمل ہونے تک پروگرام کی میزبانی کرنے سے روک رکھا ہے۔

ان تحقیقات کا اہم پہلو یہ ہے کہ شعیب اختر اس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے بلکہ اُنھوں نے کہا کہ جو کچھ ویڈیو پر ہے وہی کافی ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر نعمان نیاز نے اس واقعے کے چند روز بعد اپنے کیے پر معافی مانگ لی تھی اور کہا تھا کہ اُنھیں آن ایئر یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کرکٹ بورڈ بھی شعیب اختر سے ناراض

شعیب اختر پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام ʹگیم آن ہےʹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر بہت زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس دوران اُنھوں نے کچھ ایسے ریمارکس بھی دیے جن کا پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ٹیلی وژن کی انتظامیہ سے احتجاج بھی کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے اس سال دو اگست کو پاکستان ٹیلی وژن کے مینیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور کے نام خط میں دونوں اداروں کے درمیان ستمبر 2020 میں ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پی ٹی وی پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی ٹیم کے بارے میں منفی باتیں نہیں کہی جا سکتیں لیکن پروگرام ʹگیم آن ہےʹ میں شعیب اختر نے پی ایس ایل 6 کے آفیشل گانے کے بارے میں انتہائی نامناسب لفظ استعمال کیے۔

بورڈ کے مطابق اسی طرح اُنھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینیئر حکام کے بارے میں بھی چند نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے متعدد بار زبانی طور پر پی ٹی وی کے حکام سے رابطہ کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی جس کے بعد چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کو باضابطہ طور پر پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو خط لکھنا پڑا تھا۔