پاکستانی قانونِ شہریت: غیر ملکی مردوں سے شادیاں کرنے والی پاکستانی خواتین کن مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں؟

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’سنہ 2001 میں اپنے خاندان کے ہمراہ یہ سوچ کر پاکستان آئی تھی کہ پاکستان میری جائے پیدائش ہے۔ اس بنیاد پر میرے خاوند سید عامر علی کو آسانی سے پاکستانی شہریت مل جائے گی۔ لاہور پہنچ کر جب درخواست جمع کروائی تو اس وقت ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی جب پتا چلا کہ پاکستانی خواتین جو غیر ملکیوں سے شادی کرتی ہیں ان کے شوہروں کو شادی کی بنیاد پر پاکستانی شہریت نہیں دی جا سکتی۔‘

پنجاب کے شہر لاہور میں رہائش پذیر چار بچوں کی ماں علیمہ عامر کے خاوند انڈین شہری ہیں اور اس وقت وہ پاکستان میں عدالت سے حکم امتناع حاصل کر کے رہائش پذیر ہیں۔

علیمہ عامر 1996 میں بیاہ کر انڈیا چلی گئی تھیں۔ دونوں میاں بیوی نے 2001 میں اپنے خاندان سمیت پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

علیمہ عامر کو وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب وہ اپنے خاندان کے ہمراہ انڈیا سے پاکستان منتقل ہو رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں نہیں پتا تھا کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون موجود ہے۔ ہمارا تو خیال تھا کہ دونوں میاں بیوی یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔‘

مگر جب پاکستان منتقل ہوئے تو ’ہمیں پتا چلا کہ ایسا ممکن نہیں ہے، تو اس وقت کے بعد ہی سے ہمارے اور ہمارے بچوں کے لیے لاتعداد مسائل پیدا ہو گئے۔ یہ تو شکر ہے کہ عدالتیں اور پاکستانی حکام ہمارے کیس کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر دیکھتے رہے۔ ورنہ پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہو جاتا۔‘

یہ صرف ایک علیمہ عامر کی کہانی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں ایسی کئی خواتین ہیں جن کو غیر ملکی مردوں سے شادیوں کے بعد مسائل کا سامنا ہے۔

حال ہی میں خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والی سمیعہ روہی نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کی ہے جس میں انھوں نے اپنے افغان خاوند کو پاکستان کی شہریت دینے کی استدعا کی ہے۔

رٹ پیٹیشن میں سمیعہ روہی کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ بچے ہیں، ان کے خاوند کویت میں کام کرتے ہیں جن کو کورونا سے پہلے بچوں سے ملنے کے لیے ایک ماہ کا ویزہ دیا جاتا تھا لیکن اب وہ بھی نہیں مل رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خاوند کے بغیر مسائل کا شکار ہو چکی ہیں۔

سمیعہ روہی کہتی ہیں کہ انھیں بچوں کو تعلیم دلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی قانونی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں، ایسے میں ان کے والد کی غیر موجودگی اور ان کے پاس پاکستانی شہریت کا نہ ہونا بچوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کے پاس کوئی مکمل ڈیٹا تو موجود نہیں ہے کہ ایسی کتنی پاکستانی خواتین مسائل کا شکار ہیں مگر عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو افسر ندا علی ایڈووکیٹ کے مطابق ایسے کئی کیسز موجود ہیں۔

’ہماری اطلاع کے مطابق ایک پیٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں بھی ایسی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسے کیسز کی تعداد زیادہ ہو۔‘

پاکستانی شہریت کا قانون کیا ہے؟

پاکستانی شہریت کے حوالے سے سیٹیزن شپ ایکٹ 1951 موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کون پاکستانی شہریت کا حامل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔

اس ایکٹ کی دفعہ 10 میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ شادی کی صورت میں کون پاکستانی شہریت کا حق دار ہوگا اور کون نہیں۔

اس دفعہ کے تحت پاکستانی مرد اگر کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرتے ہیں تو ان کی ساتھی اس بات کی حق دار ہے کہ وہ پاکستانی شہریت حاصل کر سکے۔ مگر یہ حق خاتون کو نہیں دیا گیا ہے۔

سنہ 2000 میں حنا جیلانی ایڈووکیٹ کی سپریم کورٹ سے رٹ پٹیشن منظور ہونے کے بعد اس قانون میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے تحت پاکستانی شہریت کے حامل ماں یا باپ کے بچوں کو پاکستانی شہریت کا حق دیا گیا ہے۔ تاہم یہ ہی حق پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شہریت کے حامل شوہروں کو نہیں دیا گیا۔

سنہ 2007 میں اس ایکٹ پر فیڈرل شریعت کورٹ نے سوموٹو ایکشن لیا تھا۔ عدالت میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہروں کو پاکستانی شہریت دینے سے کسی بھی ملک کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے ایجنٹ پاکستان میں داخل کر سکیں، جس سے کئی مسائل پیدا ہوں گے۔

فیڈرل شریعت کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ قانون میں ایسی اجازت دینے سے افغانستان، بنگلہ دیش سے غیر قانونی امیگریشن کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے اور جنوبی ایشیا کے کچھ ایسے ممالک کے لوگوں کے لیے راستے ہموار ہو سکتے ہیں جو اپنے ممالک میں واپس نہیں جانا چاہتے۔

بی بی سی نے وزیر برائے انسانی حقوق شیرین مزاری اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ قائم کر کے جاننا چاہا کہ کیا ان کی حکومت بھی فیڈرل شریعت کورٹ میں دیے گئے مؤقف پر ہی قائم ہے تو انھوں نے اس پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

انڈیا کا معاملہ ’حساس‘

تاہم انسانی حقوق کے وکیل امان ایوب ایڈووکیٹ کی رائے میں یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ان کے مطابق ’چاہے مرد ہو یا خاتون شادی کی صورت میں دونوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ اگر ان کے ساتھی پاکستان کی شہریت حاصل کرنا چاہیں تو وہ ایسا کر سکیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی شہریوں اور ’غیر ملکی شہریت کے حامل لوگوں کے درمیاں شادیاں ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں کئی ناگزیر ہیں۔ ایسے میں کسی کو بھی اس کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انڈیا کے معاملے کو حساس تصور کیا جاتا ہے۔‘

ندا علی ایڈووکیٹ کے مطابق برصغیر کے ’مختلف ممالک کے لوگوں کی آپس میں بڑی قریبی رشتہ داریاں ہیں۔ پاکستان افغانستان کے بارڈر پر بسنے والے کئی قریبی رشتہ دار ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اسی طرح کا معاملہ بنگلہ دیش، انڈیا، چین اور پھر کچھ اور ممالک کا ہے۔ اکثر اوقات مختلف ممالک میں بٹے ہوئے رشتے دار اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے شادیاں کرتے ہیں۔ پاکستان سے جن خواتین کی غیر ملکی شہریت کے حامل مردوں سے شادیاں ہوئی ہیں ان کی بڑی اکثریت آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں۔‘

ندا علی ایڈووکیٹ کے مطابق ’ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ انڈیا میں بھی اگر پاکستان سے کوئی خاتون یا مرد شادی کر کے وہاں کی شہریت حاصل کرنا چاہے تو اس کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے قانون میں مرد یا عورت، شادی کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کر کے اپنے ساتھی کے لیے انڈین شہریت حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تو اپنی پالیسی کے مطابق قانون میں بڑا واضح کیا ہوا ہے کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے غیر ملکی مرد کو پاکستانی شہریت نہیں ملے گی۔ ’اس سے کئی خاندان بہت زیادہ مسائل سے گزر چکے ہیں۔‘

ندا علی کا کہنا تھا کہ انڈیا کے معاملے میں تو صورتحال حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی ’حساس‘ ہو جاتی ہے جس وجہ سے ایسے شادی شدہ افراد جو شادی کی بنیاد پر خاتون کے پاکستانی ہونے کی بنیاد پر شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں، انھیں کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

’ہمیں امید ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر مبنی یہ امتیازی قانون تبدیل ہو جائے گا۔‘

’کبھی بھی شوہر کو تنہا باہر نہیں جانے دیا‘

علیمہ عامر بتاتی ہیں کہ ’ہماری شادی ارینج میرج تھی۔ میری ساس یعنی عامر کی والدہ بھی پاکستانی شہریت کی حامل ہیں۔ ان کی شادی بھی انڈیا میں ہوئی تھی۔ میری دو نندوں یعنی عامر کی دو بہنوں کی شادیاں پاکستان میں ہوئی تھیں۔ میری جیٹھانی یعنی عامر کے بڑے بھائی کی اہلیہ پاکستانی شہریت کی حامل ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عدالتی حکم امتناعی پر کئی سال پاکستان میں ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود میرے لیے اپنے خاندان کے ہمراہ کسی دوسرے شہر آسانی سے جانا ممکن نہیں ہے۔ کئی جگہوں پر پولیس اہلکار شناختی کارڈ مانگتے ہیں۔ اس موقع پر میں اپنا شناختی کارڈ پیش کرتی ہوں اور بہانہ بناتے ہیں کہ عامر صاحب کا شناختی کارڈ گھر رہ گیا ہے۔‘

علیمہ عامر کہتی ہیں کہ ’کبھی بھی عامر صاحب کو تنہا باہر نہیں جانے دیا۔ جب بھی باہر جانا ناگزیر ہو میں ہر صورت میں ان کے ہمراہ رہتی ہوں بالخصوص وہ وقت تو کبھی نہیں بھول سکتی جب پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ عروج پر تھی۔ اس دوران سکیورٹی بڑی سخت تھی۔ ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا کہ پتا نہیں اب کیا ہو جائے۔‘

ان کے مطابق ’عامر صاحب شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی کاروبار اور ملازمت نہیں کر سکتے۔ انڈیا سے جو زمین جائیداد فروخت کر کے پاکستان آئے تھے، وہ جمع پونجی چند ماہ ہی میں ختم ہوگئی تھی۔‘

’ڈرتی ہوں کہ اگر انھوں نے والد کا شناختی کارڈ مانگا تو‘

علیمہ عامر کہتی ہیں کہ ’سکولوں اور کالجوں کے سربراہوں کو یہ سمجھانے میں بہت دقت ہوتی تھی کہ بچے پاکستانی ہیں۔ اکثر اوقات تو اس طرح بھی ہوا کہ بچوں کا سال بھی ضائع ہوگیا۔‘

علیمہ عامر کہتی ہیں کہ زندگی کی بھاگ دوڑ کے لیے ’میں نے گھر میں خاموشی کے ساتھ کیٹرنگ کا سلسلہ کئی سال تک چلایا تھا۔ میرے چاروں بچے میرے ساتھ مدد کرتے تھے۔ میری بڑی بیٹی نے جو اب سافٹ ویئر انجینیئر ہے، ہوش سنبھالتے ہی ٹیوشن پڑھانا شروع کر دی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ’میرے بیٹے بھی مختلف ملازمتیں کرتے تھے۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر میرے بچے صرف تعلیم ہی حاصل کرتے تو آج بہت بڑے مقام پر کھڑے ہوتے۔ تمام مشکلات کے باوجود میری بیٹی اب سافٹ ویئر انجینیئر ہے۔‘

ان کی بیٹی کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ ملی ہے۔ ’ہر وقت ڈرتی ہوں کہ اگر انھوں نے والد کا شناختی کارڈ مانگا تو پھر کیا ہوگا۔ کیا اس سے سکالر شپ واپس لے لی جائے گی؟‘