آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تحریکِ لبیک سے حکومت کے معاہدے کی تفصیل تاحال خفیہ،’800 سے زیادہ کارکن رہا‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیل تو تاحال سامنے نہیں آئی ہے تاہم تنظیم کے سینکڑوں کارکنوں کی رہائی سے بظاہر اس کی شرائط پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔
فرانس کے سفیر کی ملک سے بےدخلی اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی سے لے کر کارکنوں پر درج مقدمات کی واپسی اور جماعت کو کالعدم تنظیموں کے فہرست سے نکالنے جیسے مطالبات لے کر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والی تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان دو روز قبل معاہدہ ہوا تھا۔
پیر کو اس معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قائم کی گئی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے اور ساتھ ساتھ عمل درآمد کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔
تاہم وفاقی کابینہ میں علی محمد خان کے ساتھی اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے منگل کی صبح ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مذہبی شدت پسند گروہوں میں ہجوم کو تشدد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت ہے لیکن ان کی سیاست میں ہلچل مچانے کی صلاحیت ہمیشہ سے محدود ہی رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک وقت تھا کہ سنی تحریک تحریکِ لبیک پاکستان سے کہیں زیادہ پُرتشدد تھی لیکن پھر ختم ہو گئی۔ یہ جماعت بھی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔‘
تحریکِ لبیک پاکستان کا نام لیے بغیر وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ایسی جماعت کا ساتھ دینے کا مطلب عالمی تنہائی ہے۔‘
علی محمد خان نے یہ بھی کہا تھا کہ فیصلوں کے اثرات پیر کی رات سے دکھائی دینے لگیں گے۔ منگل کی صبح ٹی ایل پی کے رہنما مفتی عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی میں شامل ان کی جماعت کے رُکن نے مطلع کیا ہے کہ حکومت نے ایک ہزار کے قریب کارکنوں کو رہا کرنے کے احکامات دیے ہیں اور ان کی رہائی کا عمل پیر کی شام تک مکمل ہو جائے گا جبکہ مزید 1300 سے زیادہ افراد اگلے ایک دو روز میں رہا کر دیے جائیں گے۔
مفتی عمیر کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لانگ مارچ کے دوران صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق منگل کو 800 کے قریب افراد کو رہا کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کے ان کارکنوں کو رہا کیا جا رہا ہے جن کے خلاف اس سے پہلے کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ اہلکار کے مطابق جن افراد کے خلاف لانگ مارچ کے دوران پولیس اہلکاروں کے قتل کرنے کا الزام ہے انھیں کسی صورت رہا نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ بھی تحریک لبیک پاکستان کے تین ایم پی او کے تحت گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد تنظیم کے تمام گرفتار شدہ کارکن رہا ہو جائیں گے۔
بےیقینی کی فضا کسی حد تک برقرار
تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدہ تو طے پا گیا ہے لیکن بےاعتمادی اور بےیقینی کی فضا کسی حد تک برقرار دکھائی دیتی ہے۔
معاہدہ طے پا جانے کے اعلان کے باوجود نہ تو تحریک لبیک نے ابھی تک لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی حکومت نے جی ٹی روڈ سے مکمل طور پر رکاوٹوں کو ہٹایا ہے۔
معاہدے کے اعلان کے بعد گذشتہ روز حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت بعض مقامات سے کنٹینرز کو تو ضرور ہٹایا ہے لیکن انھیں برلب سڑک کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع کچھ پلوں کو جزوی طور پر کھولا گیا ہے تاہم گجرات میں دریائے چناب کے تینوں پلوں پر کنٹینرز بدستور موجود ہیں اور گجرات پولیس نے دریائے چناب کے داخلی پل پر ناکہ بندی مزید سخت کر دی ہے۔
اس جانب سے کوئی بھی شہری بغیر شناختی کارڈ دکھائے وزیر آباد میں داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ عورتوں اور بزرگوں سے بھی شناختی کارڈ طلب کیے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال میں تحریکِ لبیک کے کارکن اور قیادت معاہدے پر عملدرآمد سے قبل وزیرآباد سے واپس جانے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔
ادھر کالعدم تحریکِ لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدے کا اعلان کرنے والے مفتی منیب نے پیر کی رات کہا کہ ٹی ایل پی کے مطالبات میں فرانسیسی سفیر کی واپسی، سفارت خانہ بند کرنے اور یورپی یونین سے تعلقات منقطع کرنے جیسے مطالبات شامل نہیں ہیں۔
تاہم اُنھوں نے بھی یہ نہیں بتایا کہ پھر مطالبات کیا تھے اور معاہدے میں کیا طے ہوا ہے۔ اس بارے میں جب بی بی سی نے تحریکِ لبیک کے ترجمان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مفتی منیب اپنے بیان کی خود وضاحت کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تحریکِ لبیک حکومت کے ساتھ اپنے اس وعدے کی پاسداری کر رہی ہے کہ معاہدے کی شرائط خفیہ رکھی جائیں گی، چنانچہ وہ معاہدے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتے اور یہ معاہدہ حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئے گا۔
تحریک لبیک کی جانب سے یہ دعویٰ پہلے ہی سامنے آ چکا ہے کہ حکومت نے سفیر کی ملک بدری سمیت اُن کے تمام مطالبات پر لچک دکھائی ہے۔
معاہدے پر عملدرآمد ہو گا؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ اس جماعت کے ساتھ ماضی میں کیے گئے معاہدوں سے مختلف نہیں ہے اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ حکومت ان سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری یقینی بنائے گی۔
ان کے مطابق نہ ہی اس بات کی کوئی ضمانت دی جا سکتی ہے کہ اس معاہدے کے بعد اپنے پرانے مطالبات کے ساتھ تحریک لبیک دوبارہ سڑکوں پر نہیں آئے گی۔
انھوں نے کہا کہ نہ تو حکومت فرانس کے سفیر کو ملک بدر کر سکتی ہے اور نہ ہی سعد رضوی اور ٹی ایل پی کی قیادت کے خلاف درج مقدمات کو محض معاہدوں کی روشنی میں ختم کیا جا سکتا ہے۔
کالعدم تنظیموں پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ حکومت کا کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ کوئی پہلی مرتبہ معاہدہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں کالعدم شریعت نفاذ محمدی کے ساتھ بھی معاہدہ ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک سے ہونے والے حالیہ معاہدے پر کس حد تک عملدرآمد ہو گا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن ماضی میں اس جماعت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی حکومتوں نے ’وقت گزاری‘ کے تحت اس جماعت کے ساتھ معاہدے کیے جن پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
حکومتی رٹ کمزور ہوئی؟
عامر رانا کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ معاہدے کر کے حکومت کمزور ہوئی ہے اور یہ معاہدہ کر کے انھوں نے اس تنظیم کی سٹریٹ پاور کو تسلیم کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں گورنننس کمزور ہو وہاں پر ایسے پریشر گروپ تشکیل پاتے ہیں جو کہ اپنے مطالبات کے لیے حکومت اور حتیٰ کہ ریاست کو بلیک میل کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ اگرچہ فوج پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ تحریک لبیک کی مبینہ طور پر پشت پناہی کرتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں فوج کی قیادت نے جس قسم کا کردار ادا کیا ہے اس کے بعد ہی فریقین مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صرف حکومت وقت کو نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو اس بارے میں ڈائیلاگ کر کے اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہو گا اور پاکستان کو بطور ریاست راست اقدامات کرنا پڑیں گے۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں کوئی بھی کالعدم جماعت اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے سڑکوں پر آ سکتی ہے۔
رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن جو کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حصہ تھے، نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی بات نہیں کی تاہم تحریک لبیک کی قیادت کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں آیا۔
تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن پیر عنایت الحق کے مطابق انھوں نے مذاکرات کے دوران حکومت کو تجویز دی تھی کہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا معاملہ قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے اور یہ کمیٹی اس بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ان کی جماعت کو قبول ہو گا۔
مفتی منیب الرحمن نے حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد وزیر آباد میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا تھا کہ چند روز میں انھیں معاہدے پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر آئے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ بھر پور طاقت سے دوبارہ سڑکوں پر ہوں گے۔
اپنے خطاب میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چند روز میں تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
مفتی منیب الرحمن کے کہنے پر لانگ مارچ کے شرکا نے وزیر آباد کے قریب جی ٹی روڈ کو تو خالی کر دیا لیکن انھوں نے لانگ مارچ کو دھرنے میں تبدیل کر کے وہیں پر ایک پارک میں دھرنا دے دیا اور اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک ان کی جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی کو رہا نہیں کیا جاتا۔
کیا سعد رضوی کو معاہدے کی بنیاد پر رہا کیا جا سکتا ہے؟
تحریکِ لبیک کے بڑے مطالبات میں سے ایک ان کے امیر سعد رضوی کی رہائی رہا ہے جو رواں برس اپریل سے حراست میں ہیں۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کا کہنا ہے کہ محض معاہدہ کر کے حکومت تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نہیں نکال سکتی اور نہ ہی سعد رضوی کو رہا کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے سربراہ کو خدشہ نقص امن کے تحت نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ ان کی نظربندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور اس بارے میں عدالتیں ہی فیصلہ کریں گی۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی نظربندی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے نظربندی کے خاتمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ اس معاملے کو دیکھے۔
ڈویژن بینچ میں اس معاملے کی سماعت تین نومبر کو ہو رہی ہے اور سعد رضوی کی فوری رہائی اسی صورت میں ممکن ہے کہ پنجاب حکومت عدالت میں یہ کہہ دے کہ وہ نظربندی کے خاتمے کے فیصلے پر نظرِثانی کی درخواست واپس لے رہی ہے۔
احمد اویس کے مطابق اگر پنجاب حکومت سعد رضوی کی نظربندی کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیتی ہے تو بھی یہ درخواست غیرموثر ہو جائے گی اور ان کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے
احمد اویس کے مطابق کسی بھی جماعت کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کا بھی ایک قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قانونی طریقہ کار پر عمل درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ اس جماعت کو اپنے رویے سے ثابت کرنا ہو گا کہ اسے کالعدم قرار دینے کی ضرورت نہیں۔
’تحریک لبیک کے ووٹ بینک میں کمی آتی جا رہی ہے‘
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اپنے مطالبات کو تسلیم کروانے اور حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے تحریک لبیک پر بھی کافی دباؤ تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک میں روز مرہ کے معاملات متاثر ہو رہے ہوں تو ایسے حالات میں کوئی نہ کوئی بیچ بچاؤ کروانے کے لیے میدان میں اترتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد سے متعلق کسی شخصیت نے اگر کوئی ضمانت دی ہے کہ وہ اس معاہدے پر من و عن عمل درآمد کروائیں گے، تو کم از کم اُن کے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بااختیار حلقوں نے مصلحت کے تحت کالعدم تنظیم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کیونکہ اگر وہ لانگ مارچ کے شرکا کو طاقت سے روکتے تو مزید خون خرابہ ہونے کے امکانات تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کی لیگسی کو آگے لے کر چلنا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک نے اب تک جتنے بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اگر ان کو سامنے رکھا جائے تو ان مظاہروں میں لوگوں کی شرکت میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں تحریک لبیک کے ووٹ بینک میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس تاثر کو زائل نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی تنظیمیں یا جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتیں۔
’مذاکرات کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا‘
حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی تحریک لبیک کی ٹیم میں شامل مفتی عمیر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حکومت کے ساتھ معاہدہ اپنی مرضی سے کیا ہے اور اس میں کسی بھی شخصیت یا ریاستی ادارے کا دباؤ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تین افراد ان مذاکرات میں شامل تھے جن میں شاہ محمود قریشی کے علاوہ سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر مملکت علی محمد خان شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی طرف سے آٹھ افراد ان مذاکرات میں شریک ہوئے جن میں مفتی منیب الرحمن بھی شامل تھے۔
تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کا کہنا تھا کہ مفتی منیب نے اپنے طور پر آرمی چیف سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد انھوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کہا جس پر ان کی جماعت کی مجلس شوری کے ارکان نے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی آٹھ رکنی ٹیم میں شامل مولانا بشیر فاروقی جو کہ ایک ویلفیئر ٹرسٹ بھی چلا رہے ہیں، جب اتوار کے روز وفاقی وزرا کے ساتھ پریس کانفرنس کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل رہے تھے تو صحافی کے سوال کہ حکومت سے کیا معاہدہ ہوا ہے تو انھوں نے اسی جواب پر اکتفا کیا کہ ’آرمی چیف کی برکتوں سے سارا کام ہو گیا۔‘