آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیچ دھماکے میں بچوں کی ہلاکت: ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمے کا اندراج، لواحقین کا بچوں کی میتوں کے ہمراہ دھرنا ختم
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کیچ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو کمسن بہن بھائیوں کی ہلاکت اور ان کے قریبی رشتہ دار بچے کے زخمی ہونے کا مقدمہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر سی ٹی ڈی (کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) تھانہ مکران میں ہلاک ہونے والے بچوں کے دادا محراب بلوچ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے دو کمسن بہن بھائی ہلاک جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا تھا۔ بچوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ واقعہ ایف سی کی جانب سے فائر کیے جانے والے گولے کے پھٹنے سے پیش آیا تاہم ایف سی حکام نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بچوں کی ہلاکت اُس ہینڈ گرینیڈ کے پھٹنے کے باعث ہوئی جس سے وہ کھیل رہے تھے۔
بچوں کے لواحقین نے میتوں کے ہمراہ ابتدا میں ضلع کیچ میں احتجاج کیا تاہم ’انصاف نہ ملنے‘ کے باعث لواحقین نے میتوں کے ہمراہ اپنا دھرنہ کوئٹہ کے گورنر ہاؤس کے سامنے منتقل کر لیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس واقعے کا مقدمہ ایف سی کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف درج کیا جائے۔
گذشتہ روز اس سلسلے میں دائر ایک درخواست کو نمٹاتے ہوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبد الحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ سمیت انتظامیہ کے تین اہلکاروں کو معطل کرنے اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی کا حکم دیا۔
ہائیکورٹ کے حکم کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بچوں کی تدفین کر دی۔
ہلاک ہونے والے بچے کون تھے؟
ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کا تعلق بنیادی طور پر ضلع پنجگور کے علاقے بالگتر سے ہے۔
ان بچوں کے دادا مہراب بلوچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے دونوں بچے بہن بھائی تھے، جن کی عمریں چھ سے سات سال کے درمیان تھی جبکہ زخمی ہونے والا تیسرا بچہ بھی ان کا رشتہ دار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا تھا کہ بچوں کے والد گذشتہ تین سال سے دبئی میں محنت مزدوری کر رہے ہیں اور ان کے یہی دو بچے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
دھرنے میں موجود ایک اور رشتہ دار سردو بلوچ نے بتایا کہ بالگتر میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا خاندان کچھ عرصہ قبل بالگتر سے نقل مکانی کر کے ہوشاپ کے علاقے پرکوٹگ میں آ بسے تھے۔
’ہم وہاں سے اس لیے نقل مکانی کر کے ہوشاپ آئے کہ یہاں محفوظ رہیں گے، لیکن یہاں بھی ہمارے معصوم بچے مارے گئے۔‘
ہائیکورٹ تک یہ معاملہ کیسے پہنچا؟
بچوں کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کے ہمراہ دھرنے کے حوالے سے سینیئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس بلوچستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس معاملے کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران بچوں کے لواحقین کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حکومت بلوچستان ارشد مجید، ایڈیشنل آئی جی پولیس بلوچستان ذوالفقار حمید، ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ نے ڈی ایس آر(Daily Situation Report) کی نقل پیش کی جس کے مطابق نائب تحصیلدار ہوشاپ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ پرکوٹگ کے علاقے میں ایف سی کی جانب سے مارٹر کا گولہ فائر کیا گیا جس میں بچے زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو بچوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچے گھروں کے باہر کھیل رہے تھے کہ ایف سی کی جانب سے راکٹ فائر کیا گیا جس کے باعث دو بچے ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ۔
کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی ایس آر پر نائب تحصیلدار کے دستخط کے باوجود تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
سماعت کے دوران عدالت کے سوالات کا ڈپٹی کمشنر کیچ نے تسلی بخش جواب نہیں دیے ۔
عدالت نے سماعت کے دوران سی ٹی ڈی تھانے میں بچوں کے دادا کے موقف کے مطابق مقدمے کے اندراج کا حکم دیتے ہوئے ڈی آئی جی کرائمز برانچ کو اس واقعے کا صاف اور شفاف انکوائری کے لیے تین سینئر پولیس افسروں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔
عدالت نے حکومت بلوچستان کو حکم دیا کہ وہ زخمی ہونے والے بچے کے علاج معالجے کے اخراجات کی ایڈوانس میں ادائیگی کرے۔
عدالت نے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی تجویز پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ ہلاک ہونے والے بچوں کو شہید قرار دینے اور ان کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے متعلقہ محکمے کے ساتھ اٹھائے۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کیچ ، نائب تحصیلدار ہوشاپ اور اسسٹنٹ کمشنر تربت کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف غفلت اور نااہلی پر تادیبی کاروائی شروع کرنے کا حکم دیا۔
ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ان افسروں کے خلاف تادیبی کاروائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
’بچوں کو خون میں لت پت دیکھا تو میری جان نکل گئی‘
بچوں کی ہلاکت کا واقعہ ضلع کیچ میں ہوشاپ کے علاقے پرکوٹگ میں پیش آیا تھا۔
ہلاک ہونے والے بچوں کے چچا سردو بلوچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے اتوار کے روز جانور ذبح کیا تھا اور یہ تینوں بچے گوشت تقسیم کرنے کے بعد اپنے گھر کے پیچھے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔
’ساڑھے دس بجے کے قریب مجھے گھر کے پیچھے زوردار دھماکے کی آواز سُنائی دی۔‘
’میں جب گھر کے پیچھے گیا تو دیکھا تینوں بچے خون میں لت پت پڑے تھے۔ جس درخت کے نیچے بچے کھیل رہے تھے وہ بھی گولے سے متاثر ہوا تھا اور زمین پر گڑھا بھی پڑ گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دھماکے سے میں پہلے ہی خوفزدہ تھا اور جب چھوٹے بچوں کو خون میں لت پت دیکھا تو میری جان نکل گئی جس کی وجہ سے میرے لیے بچوں کو اٹھانا مشکل ہو رہا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پرکوٹگ میں ان کے دیگر رشتہ داروں کے پندرہ کے قریب گھر ہیں جن کے مرد زیادہ تر کام پر گئے ہوئے تھے اس لیے وہ اور وہاں موجود چند دیگر افراد نے بچوں کو پہلے موٹر سائیکلوں پر ہوشاپ بازار پہنچایا اور اس کے بعد ان کو وہاں سے گاڑی کے ذریعے تربت ہسپتال پہنچایا۔
انھوں نے کہا کہ ’تربت ہسپتال میں ہمیں بتایا گیا کہ دو بچے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمی بچے کی حالت تشویشناک ہے جسے کراچی منتقل کر دیا گیا۔‘
ایف سی اہلکاروں نے شواہد کو مٹایا: لواحقین
سردو بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ بچے جس گولے کے پھٹنے سے ہلاک ہوئے وہ مبینہ طور پر ایف سی کیمپ کی جانب سے فائر کیا گیا تھا۔
جب انھیں بتایا گیا کہ ایف سی اور ڈپٹی کمشنر نے وہاں ایف سی کی جانب سے گولہ فائر کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے تو سردو بلوچ نے بتایا کہ گولہ ایف سی کے اس کیمپ کی جانب سے فائر کیا گیا جو ان کے گھروں سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گولہ گرنے سے وہاں گڑھا پڑ گیا تھا اور وہ درخت بھی متاثر ہوا تھا جس کے نیچے بچے بیٹھے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سب سے پہلے ان کے لیے بچوں کی زندگی بچانا اہم تھا اس لیے انھوں نے شواہد کو محفوظ بنانے کی بجائے بچوں کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے بعد ایف سی اہلکار جائے وقوعہ پر آئے اور مبینہ طور پر لوگوں پر تشدد کرنے کے علاوہ وہاں موجود شواہد کو مٹایا۔ ’وہاں جو گڑھا پڑ گیا تھا اس کو بھرنے کے علاوہ متاثرہ درخت کو آگ تک لگا دی گئی۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ان کے جانے کے بعد اگر سرکار کے لوگوں نے کسی ہینڈ گرنیڈ کا پن وہاں رکھا ہو تو اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے بچے گولے کے پھٹنے سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
ادھر فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار نے رابطہ کرنے پر ان تمام دعوؤں کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ ایف سی کی جانب سے کوئی گولہ فائر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے کوئی شواہد ملے ہیں تاہم ایک ہینڈ گرینیڈ کی پن اس جگہ سے ضرور ملی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ حسین بلوچ نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے حوالے سے جو ابتدائی انکوائری ہوئی اس کے مطابق گولہ گرنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ تحصیلدار اور دیگر حکام بھی جائے وقوعہ پر گئے تھے اور انھوں نے وہاں سے شواہد کے نمونے بھی جمع کیے تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں سے اب تک جو شواہد ملے ہیں وہ ہیٹڈ گرینیڈ کے پھٹنے کے ہیں اور غالباً بچے کھلونا سمجھ کر اس کے ساتھ کھیل رہے تھے جو کھیل کھیل میں پھٹ گیا۔
اس سوال پر کہ اس واقعے کے بعد معاملے کی اصل نوعیت کا تعین کرنے کے لیے کوئی عدالتی ٹریبونل کیوں نہیں بنایا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اب یہ لوگ یہاں سے کوئٹہ گئے ہیں اور یہ دیکھنا ہے کہ وہاں سے حکومت کا کیا فیصلہ آئے گا۔