تربت حملے میں بچ جانے والے حیدر علی: ’کچھ پتہ نہیں تھا کہ بلوچستان میں اس طرح کے حالات ہیں‘

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سیالکوٹ

گذشتہ ہفتے صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت میں دو مختلف واقعات میں 20 شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے جو غیر قانونی طور پر یورپ جانا چاہتے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ روزگار کی تلاش میں بلوچستان کے راستے غیر قانونی طور ملک سے باہر جاتے ہوئے یہ افراد مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کا نشانہ بنے۔

مزید پڑھیے

ہلاک ہونے والوں میں پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے قیصر محمود کا 17 سالہ بیٹا ماجد گھمن شامل ہے اور بچ جانے والوں میں اسلم کے 16 سالہ بیٹے حیدر علی ہیں جو آج یعنی پیر کو ہی گھر لوٹے ہیں۔

ماجد گھمن اور حیدر علی سمیت سیالکوٹ کے گاؤں جیتھیکے کے تین لڑکے اس قافلے کا حصہ تھے جسے حکام کے مطابق مبینہ طور پر 'بلوچ علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا'۔ یہ تمام افراد روزگار کی تلاش میں ایجنٹس کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکی اور یونان جا رہے تھے اور انھیں پہلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے انتہائی غیر محفوظ علاقے کا انتخاب کیا گیا۔

حیدر علی اس گاڑی میں سوار تھے جو حملہ آوروں کا نشانہ بننے والی گاڑی سے کچھ فاصلے پر تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حیدر علی نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت گاؤں سے تو ساتھ ہی نکلے تھے تاہم کوئٹہ پہنچنے پر انہیں کچھ لوگوں نے 'مار پیٹ کر الگ الگ کیا اور دو گروپس بنا کر دو الگ الگ گاڑیوں میں سوار کر دیا'۔

’ہم پندرہ لڑکے تھے اور مزید پندرہ بعد میں سوار ہوئے۔ انھوں نے مکس کر دیے اور اس طرح 30 ہو گئے جن میں پندرہ اگلی گاڑی اور پندرہ پچھلی گاڑی میں سوار تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہماری گاڑی کو پتہ نہیں کیا ہوا اور لوگ اسے چیک کرنے لگ پڑے جبکہ دوسری گاڑی تھوڑا آگے گئی تو فائرنگ کی آواز آنے لگ گئی۔ فائرنگ بہت زیادہ ہو رہی تھی اس لیے ہم ڈر گئے اور بھاگنے لگے۔ ہم ساری رات بھاگتے رہے۔ چائے کا ایک کھوکھا ملا جہاں ایک پٹھان کو ہم نے بتایا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے تو اس نے پنجگور کی گاڑی کی ٹکٹیں لے کر دیں۔'

حیدر علی کہتے ہیں کہ وہ اس بات سے لا علم تھے کہ انھیں غیرمحفوظ راستوں سے سفر کرنا پڑے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ بلوچستان میں اس طرح کے حالات ہیں۔ اس (ایجنٹ) نے کہا کہ ہمیں ایک ہفتے کے اندر ترکی پہنچا دیں گے اور ادھر جا کر ہی کما کر پیسے دیں گے۔‘

حیدر علی کا کہنا ہے کہ ایجنٹ کے ساتھ ایک لاکھ 35 ہزار روپے معاوضے میں معاملہ طے ہوا تھا تاہم واقعے کے بعد یہ سے ایجنٹ غائب ہے۔

حیدر علی تنہا نہیں ہیں بلکہ ان جیسے کئی نوجوان روزگار کی تلاش میں ایجنٹ کے ہاتھوں اور اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حیدر علی کے ساتھی ماجد گھمن کی لاش تربت سے ملی۔

ماجد گھمن کی والدہ کہتی ہیں کہ جس ایجنٹ کے ذریعے وہ ملک سے باہر جا رہے تھے وہ ان سے غلط بیانی کرتا رہا۔

'ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے پتا چلا ورنہ ایجنٹ نے کہنا تھا کہ آپ کے بچوں کو ایران کی سرحد پر پکڑ لیا گیا ہے۔ اس نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ آپ کے بچے کی موت ہوگئی ہے۔'

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں غیرقانونی طور پر ملک سے باہر لے جانے والے ایجنٹس زیادہ تر لوگوں سے 'ایڈوانس رقم لیتے ہیں جو ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے'۔ تاہم بعض اوقات یہ ایجنٹ وقتی طور پر نصف رقم لیتے ہیں اور 'باقی رقم یہ کہہ کر وصول کرتے ہیں کہ باہر جانے والا فرد گرفتار یا اغوا ہو گیا ہے، رہائی یا بازیابی کے لیے رقم درکار ہوگی'۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت میں پندرہ افراد کے قتل میں ملوث مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ایف سی نے تربت کے علاقے ایلندر عبدالرحمن میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کر کے کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے جنگجو کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔