موٹروے ریپ کیس: نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے مبینہ گینگ ریپ، مرکزی ملزم گرفتار

    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گوجرہ پولیس نے موٹروے ایم فور پر چلتی گاڑی میں لڑکی کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کرنے کے کیس میں مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ سردار ماوران خان نے تصدیق کی ہے کہ کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ باقی نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

گیارہ اکتوبر کو ایک خاتون کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ نوکری کا جھانسہ دے کر نامزد ملزمان نے ان کی 18، 19 سال کی بھانجی کے ساتھ چلتی گاڑی میں ریپ کیا اور بعد ازاں ملزمان متاثرہ لڑکی کو فیصل آباد انٹرچینج کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔

ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ سردار ماوران خان کے مطابق گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ اس کے دوسرے دو ساتھیوں، جن میں ایک خاتون ملزمہ بھی شامل ہیں، کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور پولیس ٹیمیں اس سلسلے میں چھاپے مار رہی ہیں۔

ڈی پی او سردار ماوران خان کے مطابق متاثرہ لڑکی اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون کے بیانات کے مطابق اُن کو 11 اکتوبر کو ملتان سے گوجرہ جاب انٹرویو کے بہانے بلایا گیا تھا اور اسی روز سہ پہر تین بجے کے قریب موٹروے ایم فور پر چلتی گاڑی میں متاثرہ لڑکی کا مبینہ ریپ کیا گیا۔

سردار ماوران کے مطابق 11 اکتوبر کو متاثرہ لڑکی کی خاتون رشتہ دار نے تھانہ گوجرہ سٹی میں تین نامزد ملزمان بشمول ایک خاتون کے خلاف درخواست جمع کروائی تھی۔

’بوتیک پر نوکری کے لیے انٹرویو دینا ہو گا‘

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ان کی 18/19 سالہ بھانجی کو چند روز قبل خاتون ملزمہ کے نمبر سے ایک پیغام کے ذریعے اطلاع دی گئی تھی کہ متاثرہ لڑکی کو بوتیک پر نوکری کے لیے انٹرویو دینا ہو گا جس کے لیے اسے گوجرہ آنا ہو گا۔

پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب وہ 11 اکتوبر کو اپنی بھانجی کے ساتھ بتائی گئی جگہ گوجرہ موڑ پر پہنچیں تو تینوں ملزمان ایک گاڑی میں سوار ہو کر آئے اور خاتون ملزمہ نے کہا کہ ’لڑکی کو ان کے ساتھ بھیج دیں انٹرویو کے بعد واپس چھوڑ جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

درخواست کے مطابق تینوں ملزمان نے متاثرہ لڑکی کو گاڑی میں بٹھایا جبکہ اس کی پھوپھو کو وہیں انتظار کرنے کا کہہ کر گاڑی موٹروے ایم فور پر ڈال دی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزم نے چلتی گاڑی میں متاثرہ لڑکی کا دو بار مبینہ طور پر ریپ کیا جبکہ اس دوران دوسرے ملزم نے لڑکی پر پستول تان رکھا تھا اور مسلسل دھمکا رہا تھا کہ اگر اس نے شور کیا تو جان سے مار دے گا۔

ایف آئی آر کے مطابق بعد میں دوسرے ملزم نے بھی پچھلی نشت پر جا کر لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کیا جس کے بعد ملزمان متاثرہ لڑکی کو فیصل آباد انٹر چینج کے قریب پھینک کر فرار ہو گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی پریشانی کے عالم میں ایک ویگن پر سوار ہوکر واپس گوجرہ موڑ اپنی پھوپھو کے پاس پہنچی اور انھیں سارا واقعہ سُنایا جس کے بعد دونوں نے تھانہ گوجرہ سٹی میں درخواست دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے اور اب ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔

ڈی پی او سردار ماوران خان کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم گوجرہ میں ہی کاروبار کرتے ہیں اور انھیں وہیں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب راؤ سردار نے بھی گوجرہ کے قریب موٹروے پر لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم

سینٹرل پولیس آفس پنجاب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنوری سے ستمبر تک پنجاب پھر میں کل ساڑھے بیس ہزار سے زائد ایسے جرائم رپورٹ ہوئے جن میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پنجاب بھر میں خواتین کے حوالے سے جنسی تشدد کے ُکل 2900 سے زائد کیسیز رپورٹ ہوئے جن میں صرف ریپ اور گینگ ریپ کیسیز کی تعداد 2830 کے لگ بھگ تھی۔

اس دورانیے میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں نامزد اور نامعلوم ملزمان میں سے اب تک کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں دی جا سکی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ رات کے اوقات میں گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جو کئی روز خبروں کی زینت بنا رہا اور یہ سوال کیا جانے لگا کہ پاکستان میں خواتین ایسے خطرناک جرائم سے کس حد تک محفوظ ہیں۔

نو ستمبر 2020 کو پیش آنے والے اس واقعے میں دو ملزموں نے ڈکیتی کے بعد بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا تھا۔ پولیس نے پہلے ایک ملزم شفقت کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے ملزم کی گرفتاری بھی ممکن ہو پائی۔

20 مارچ 2021 کو لاہور کی ایک خصوصی عدالت نے خاتون کو ڈکیتی کے بعد ریپ کا نشانہ بنانے والے دو ملزموں کو موت کی سزا سُنائی تھی، اس کے علاوہ ملزمان کو یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید، اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال کی قید کی علیحدہ علیحدہ سزائیں سنائی گئی تھیں۔

سزائے موت کے علاوہ دونوں مجرموں کو جان سے مارنے کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر دفعہ 440 کے تحت پانچ، پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انھیں جرمانے اور جائیداد ضبطی کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔