آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست بنام سرکار جس پر فیصلہ اُن کی وفات تک نہ ہو سکا
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ممتاز جوہری سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے اعتراف کے بعد انھیں جس غیر اعلانیہ نظربندی کا سامنا تھا وہ اس کے خاتمے کا انتظار کرتے کرتے اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔
جس نظربندی کا آغاز 2004 میں ہوا تھا وہ 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ’ختم‘ ہوئی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر اپنی مرضی سے لوگوں سے ملنے اور ایک آزاد زندگی گزارنے جیسے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے مرتے دم تک عدالتوں سے ریلیف کے منتظر ہی رہے۔
اس غیراعلانیہ نظربندی کے خلاف ڈاکٹر خان نے مختلف اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دائر کیں۔ آخری درخواست پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں دو سال قبل یعنی سنہ 2019 میں دائر کی گئی تھی جس پر نہ تو کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ہی ان کے وکلا کو سکیورٹی کے نام پر ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔
درخواست گزار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکلا شیخ احسن الدین اور توفیق آصف کے مطابق جب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی ہے اس وقت سے اب تک اس کی صرف پانچ سماعتیں ہوئی ہیں جبکہ پہلی سماعت درخواست دائر کرنے کے نو ماہ بعد ہوئی تھی۔
ایک سماعت کے دوران تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سپریم کورٹ لایا گیا لیکن متعلقہ حکام نے انھیں کمرہ عدالت میں لے کر جانے کے بجائے اُنھیں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں بٹھا دیا گیا اور پھر وہیں سے ہی اُنھیں ان کے گھر منتقل کر دیا گیا۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کی تھی اور درخواست گزار کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے مؤکل کو اگر کمرہ عدالت میں نہیں بلایا جاسکتا تو بینچ کے سربراہ انھیں اپنے چیمبر میں ہی سن لیں، تاہم عدالت نے ان کی استدعا پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
عدالت نے بہرحال اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ان کے گھر پر جا کر ملاقات کر کے آئیں اور اُن سے پوچھیں کہ انھیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔
عدالتی حکم پر اس وقت کے اٹارنی جنرل نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کی تھی جبکہ عدالت نے 24 جون سنہ 2020 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکلا کی اپنے مؤکل کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت دی لیکن درخواست گزار کی ان کے وکلا سے ملاقاتیں یہ کہہ کر نہیں کروائی گئی کیونکہ اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کا انتقال ہو گیا تھا اس سے ایسے حالات میں درخواست گزار کی ان کے وکلا سے ملاقات کروانا ممکن نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
سماعت کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکلا نے اپنے مؤکل کے گھر کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا کہ جس جگہ ان کے مؤکل کو سکیورٹی کے نام پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اس علاقے سے بہت کم لوگوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی وہاں سے دو بار گزر جائے تو وہاں پر موجود سکیورٹی کے اہلکار اسے پکڑ لیتے ہیں اور اس سے تفتیش شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے ادھر آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کی عمر 85 سال سےزیادہ ہے اور اس عمر میں انھیں اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنے کی ضرورت ہے لیکن انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکلا کے مطابق تقریباً ایک سال کے بعد ان کی درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی چوتھی سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے ڈاکٹر عبدالقدیر حان سے گذشتہ سات سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے ایسا کوئی ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔
درخواست گزار یعنی عبدالقدیر خان کے وکلا کی طرف سے ذمہ داروں کے خلاف عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن عدالت نے متعلقہ حکام کو ایک ماہ میں دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
اس درخواست کی پانچویں سماعت جو کہ آخری ثابت ہوئی، کے دوران جب درخواست گزار یعنی عبدالقدیر خان کی صحت کا ذکر ہوا تو ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو کہ کورونا کا شکار تھے، صحت یاب ہوکر گھر واپس آ گئے ہیں۔
اس پر بینچ کے سربراہ عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وینٹیلیٹر لگنے کے باوجود صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹے ہیں۔
اس پر درخواست گزار کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ سب عوام کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکلا نے بینچ کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کی صحت یابی کے لیے انھوں نے بھی دعائیں کی ہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی اور خاموشی اختیار کی۔
ان کے وکلا نے یہ بھی کہا کہ جب ڈاکٹر عبدالقدیر بیمار تھے تو نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی کسی وزیر نے ان کی صحت کے بارے میں پوچھا اور نہ ہی ان کی تیمار داری کی۔
اس درخواست کی آخری سماعت 15 ستمبر کو ہوئی تھی اور عدالت نے یہ سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی تھی تاہم درخواست کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اس کی اگلی تاریخ نہیں دی تھی۔
اس سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی مبینہ نظربندی کے خاتمے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس درخواست کی سماعت کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
جبری طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ وفاق نے دائر کیا تھا لیکن اُنھیں سزائے موت سنانے والے بینچ کو لاہور ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا تھا، اور اب اُسی لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی درخواست کو یہ کہہ کر سننے سے انکار کر دیا ہے کہ یہ ان کے دائرہ سماعت میں ہی نہیں آتا۔
سنہ 2008 میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی غیر اعلانیہ نظربندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تو اس میں عدالت نے انھیں نقل و حرکت کی اجازت تو دے دی تھی لیکن اس کو ان کی سکیورٹی کے ساتھ مشروط کر دیا تھا۔
اس عدالتی احکامات کے بعد کچھ عرصے کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر کو محدود پیمانے پر آنے جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن اس کے بعد سکیورٹی کے نام پر اس عدالتی حکمنامے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔
واضح رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب عبدالقدیر سے ایک ٹی وی بیان میں ایٹمی پھیلاؤ کے بارے میں اعتراف کروایا گیا تھا اور بعد میں انھوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں ایسا کرنے کا مشورہ سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور سابق وزیر قانو ن ایس ایم ظفر نے دیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ اس مشورہ میں ان دونوں کا کہنا تھا کہ اس بیان کے بعد ان کے لیے کوئی پریشانی نہیں ہو گی اور وہ باقی زندگی آرام سے گزاریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور جوں ہی سرکاری ٹی وی پر ان کا اعترافی بیان ختم ہوا تو ڈاکٹر عبدالقدیر کے بقول کچھ لوگ زبردستی انھیں اٹھا کر اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔
ڈاکٹر قدیر کا آخری خط اور شکوہ
ڈاکٹر قدیر زندگی کے آخری ایام میں کافی رنجیدہ نظر آتے تھے، جس کا اظہار ان کے ایک خط میں بھی نظر آتا ہے جو انھوں نے چار اکتوبر کو سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو لکھا تھا۔
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سید مراد علی شاہ نے ان کی صحت دریافت کی تھی اور نیک تنماؤں کے ساتھ گلدستہ بہیجا تھا، جس کے جواب میں ڈاکٹر قدیر نے انھیں جوابی خط تحریر کیا، جس میں انھوں نے مراد علی شاہ کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ اب کافی بہتر ہیں۔
دو پیرا گراف کے اس خط کے دوسرے پیرا گراف میں وہ لکھتے ہیں کہ ’جب وزیراعظم، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ میری وفات کی گڈ نیوز سننے کے منتظر ہیں میرے صوبے اور شہر کے وزیر اعلیٰ نے مجھے اس مشکل حالات میں یاد کیا ہے۔‘