آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کیا پاکستانی جوہری سائنسدان کی ایٹمی حملے کی دھمکی نے پاکستان، انڈیا جنگ ٹالی تھی؟
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, صحافی
28 جنوری 1987 کی سہ پہر پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے E-7 میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ اکیلے تھے جب سکیورٹی افسر نے چند 'بن بلائے مہمانوں' کی آمد کی اطلاع دی۔
سکیورٹی افسر نے ڈاکٹر خان کو بتایا کہ مہمانوں میں سے ایک کو وہ پہچانتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے معروف صحافی مشاہد حسین سید ہیں۔ ڈاکٹر خان نے سکیورٹی افسر سے کہا کہ مہمانوں کو اندر لے آئیں اور انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں۔
ڈاکٹر خان مہمانوں سے ملنے آئے تو مشاہد حسین نے دوسرے مہمان کا تعارف کلدیپ نیئر کے طور پر کرایا جو انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مشہور صحافی تھے۔
مشاہد حسین نے ڈاکٹر خان کو بتایا کہ کلدیپ نیئر شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں۔ یہ تقریب اس ملاقات سے ایک ہفتے بعد ہونا تھی۔ چائے پیتے ہوئے ڈرائنگ روم میں موجود تینوں افراد کے درمیان انڈیا، پاکستان تعلقات، انڈین تاریخ اور ہندو مسلم تعلقات اور پاکستان کے جوہری پروگرام تک کے موضوعات پر طویل بات ہوئی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام حال ہی میں ڈاکٹر اے کیو خان کی زیر نگرانی شروع ہو چکا تھا۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر اے کیو خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہ ملاقات یاد ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’مشاہد حسین کی شادی تھی اور کلدیپ نیئر اس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ہوائی اڈے سے مشاہد حسین سید انھیں سیدھا میرے گھر لے آئے۔ میرے گھر میں کوئی ملازم نہیں لہذا میری بیگم صاحبہ نے ہمارے لئے چائے بنائی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر خان نے ماضی میں جھانکتے ہوئے کلدیپ نیئر کی یہ گفتگو دہرائی کہ ’میں سیالکوٹ سے ہوں اور اب نئی دہلی میں رہتا ہوں۔آپ (ڈاکڑ خان) بھوپال سے ہیں اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ کلدیپ نیئر کا استدلال تھا کہ تقسیم برصغیر ایک ’سراب‘ تھا۔ ڈاکٹر خان نے بتایا کہ میں نے جواب میں ان سے کہا تھا کہ ’آپ نے جو کہا ہے وہ اب تاریخ کا حصہ ہے اور کوئی تاریخ بدل نہیں سکتا۔ آگے چلیں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں۔‘
اس پر کلدیپ نیئر کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ دس بم بنائیں گے تو ہم ایک سو بنائیں گے۔‘ میرا جواب تھا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں بم بنانے کی ضرورت نہیں۔ تین یا چار ہی دونوں طرف کافی ہوں گے۔‘
ڈاکٹر خان بتاتے ہیں کہ 'میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس قابل ہیں کہ مختصر ترین مدت میں بم بنا لیں۔'
ڈاکٹر اے کیو خان نے دعویٰ کیا کہ ’کلدیپ نیئر نے میرے ساتھ ہونے والی اس غیر رسمی گفتگو کو انٹرویو بنا کر ’لندن آبزور‘ کو 20 ہزار پاونڈز میں بیچ دیا۔ انٹرویو تو ہوا نہیں تھا۔ یہ تو چائے پر ہونے والی محض ایک گپ شپ تھی۔‘
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی تھی جب پاکستان اور انڈیا کی فوجیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے راجستھان اور پنجاب سیکٹرز میں عالمی سرحد پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا تھیں۔
سرحد کے دونوں جانب حملہ کرنے والی بری افواج کے دستے جمے ہوئے تھے، فضائیہ ہائی الرٹ پر تھی جبکہ توپ خانے بھی سرحد کے قریب پہنچا دیاگیا تھا۔ اس بحران کو براس ٹیک (انڈین فوج کی جنگی مشق) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس پر محققین میں بہت عالمانہ بحث ہوئی ہے لیکن اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ بڑے پیمانے پر انڈیا کی ان جنگی مشقوں نے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر دیے تھے اور پاکستانی سلامتی کے منصوبہ سازوں کو جلدی میں جوہری آپشن کی تیاری پر سنجیدگی سے کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
سنہ 1986 کی آخری سہ ماہی میں انڈین فوج نے براس ٹیک کی فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا۔ یہ برصغیر کی تاریخ میں ’ڈویژن‘ اور ’کور‘ کی سطح کی سب سے بڑی فوجی مشقیں تھیں۔
پاکستان کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان انڈین جنگی مشقوں کا رُخ اور پیش قدمی پاکستان کی طرف ہے جو پاکستان کے سیاسی خلفشار کا شکار صوبہ سندھ پر بڑے حملے میں بدل سکتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا جوہری پروگرام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور پاکستان باقاعدہ جوہری حیثیت حاصل کرنے سے 12 سال دور تھا۔
اس زمانے میں ’براس ٹیک‘ کو پاکستان کی سالمیت کے لیے سٹرٹیجک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔
کلدیپ نیئر کے نام سے لندن آبزرور میں شائع ہونے والی خبر یا انٹرویو میں بعدازاں ڈاکٹر اے کیو خان سے منسوب کر کے یہ بات لکھی گئی تھی کہ ’کوئی پاکستان ختم نہیں کر سکتا اور نا ہی ہم تر نوالہ ہیں۔ ہم قائم رہنے کے لیے بنے ہیں اور کوئی شک میں نہ رہے کہ اگر ہماری بقا کو خطرہ ہوا تو ہم بم چلا دیں گے۔‘
یہ بات بھی ڈاکٹر خان سے منسوب کی گئی کہ پاکستان نے ہتھیاروں میں استعمال کی سطح تک یورینیم کو افزودہ کر لیا ہے اور یہ کہ لیبارٹری میں اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں عوام اور میڈیا نے عام طور پر یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ کلدیپ نئیر کی خبر میں مخفی اس ’جوہری دھمکی‘ نے انڈیا کو پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے سے روکا تھا۔
پاکستانی معاشرے اور میڈیا میں یہ لوک داستان بن گئی تھی۔ پاکستان میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی جس میں جامع اور تجزیاتی انداز میں ان لاتعداد عوامل کا جائزہ لے کر بتایا جاتا کہ سنہ 1986 سے سنہ 1990 کے درمیان انڈیا میں فوجی فیصلہ سازی میں تبدیلی کا اصل محرک کیا تھا۔
صرف مستقبل کا تاریخ دان ہی شاید یہ سراغ لگانے کے قابل ہو کہ سنہ 1998 میں پاکستان کے اپنے جوہری صلاحیت ہونے کے عملی اظہار میں افسانہ نویسی نے کیا کردار ادا کیا ہے۔
بی بی سی نے ڈاکٹر اے کیو خان سے استفسار کیا کہ کیا کلدیپ نئیر سے ان کی گفتگو سے متعلق اخباری خبر نے کشیدگی کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا؟ ان کا جواب تھا کہ ’بالکل۔ ایسا ہوا۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے پیچھے ایک اور وجہ بھی تھی۔‘
’زیادہ کردار ضیا کی دھمکی نے ادا کیا جب وہ جے پور میں راجیو گاندھی سے ملے تھے جہاں وہ کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے۔ ضیا نے راجیو سے کہا کہ اگر بھارتی فوج فوری واپس نہ ہوئی تو وہ جوہری حملے کا حکم دے دیں گے۔ راجیو اس پر گھبرا گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے بھارتی فوج کی فوری واپسی کا حکم دے دیا۔‘
ڈاکٹر قدیر بتاتے ہیں کہ براس ٹیک سے چند ہفتے قبل انھوں نے جنرل ضیا کو ایک تحریری پیغام بھجوایا تھا کہ پاکستان دس دن کے نوٹس پر جوہری بم بنانے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس سے ضیا کو راجیو گاندھی سے بات کرنے اور دھمکی دینے کا اعتماد ملا تھا۔‘
’مبینہ جوہری دھمکی نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا‘
جنوبی ایشیائی امور کے ماہر سٹیون کوہن نے اس ضمن میں تاریخ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
سنہ 1994 میں انڈین پروفیسر پی آر چاری اور جنوبی ایشیائی امور کے ممتاز امریکی ماہر سٹیون کوہن نے پانچ ماہرین پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا جس میں پاکستان سے ڈاکٹر پرویز اقبال چیمہ بھی شامل تھے۔
اس گروپ نے سرحد کے دونوں جانب براس ٹیک واقعات اور سرگرمیوں سے متعلق کلیدی فوجی اور سول حکام سے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مطالعہ سے حاصل ہونے والے نتائج کو امریکہ میں ’براس ٹیک اور اس سے آگے: جنوبی ایشیا میں بحران اوراس کی تفہیم‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔
انڈیا کی طرف سے دو ماہرین میں جواہر لعل یونیورسٹی کے تخفیف اسلحہ کے استاد کانتی باجپائی اور نیویارک میں ہنٹر کالج کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر سُومِت گنگولی بھی شامل تھے۔
اس گروپ نے نومبر 1986 سے ہونے والے واقعات کی ترتیب اور وجوہات جاننے کی کوشش کی جب انڈین فوج کی براس ٹیک جنگی مشقوں کا آغاز ہوا تھا اور فروری1987 میں جب پاکستان اور انڈیا نے آخرکار افواج کی سرحد سے واپسی کا فیصلہ کر کے کشیدگی ختم کی اور فوجی اعتماد سازی کے متعدد معاہدات پر دستخط کیے تھے۔
اس گروپ نے انڈیا، پاکستان اور امریکہ میں مختلف فوجی اور سول حکام سے انٹرویو کیے تاکہ اس فوجی بحران کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔ گروپ کے ارکان نے اپنی حتمی رپورٹس میں خاص طور پر امریکی انتظامیہ کا شکریہ کیا کہ انھوں نے گروپ کو اس معاملے کو سمجھنے میں مدد دی۔
اگرچہ گروپ نے سرحد کے دونوں جانب کے اعلی فوجی کمانڈرز کے نام تو نہیں بتائے جن سے انٹرویوز کیے گئے تھے تاہم اس مطالعے میں فوج سے متعلق معلومات اس نوعیت کی ہیں جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ اعلی فوجی قیادت کے علاوہ فیلڈ کمانڈرز کے انٹرویوز ہیں۔
اس مطالعہ کے حصے کے طور پر گروپ نے دو کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے پہلی کتاب ’براس ٹیک اور اس سے آگے: جنوبی ایشیاءمیں بحران اوراس کی تفہیم‘ ہے جو فوجی واقعات کی تاریخ وار ترتیب اور دونوں ممالک کے درمیان براس ٹیک فوجی بحران کی شدت کے دوران سرحد کے دونوں جانب ہونے والے سیاسی اور سفارتی واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔
دوسری کتاب ’چار بحران اور امن عمل‘ میں خاص طور پر براس ٹیک بحران پر باب باندھا گیا ہے۔
گروپ اس نتیجہ پر پہنچا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کی مبینہ جوہری دھمکی نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا کیونکہ بحران اس سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا جب ڈاکٹر خان کی انڈین صحافی سے ملاقات ہوئی۔
دوسری بات گروپ نے یہ اخذ کی کہ دونوں طرف رابطے(کمیونیکیشن) کے فقدان نے بہت ساری غلط فہمیوں کو جنم دیا تھا جس سے دونوں طرف کشیدگی بڑھی۔ گروپ کی رپورٹ کے مطابق ’سنہ 1980 میں بلاشبہ دونوں طرف بڑے پیمانے پر ہونے والی فوجی نقل وحرکت اور جنگی مشقوں سے متعلق نیم ہم آہنگی تھی۔
ایک اعلی فوجی افسر کے مطابق سنہ 1984 میں جنرل کے ایم عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا گیا جن کی اپنے انڈین ہم منصب جنرل اے ایس ویڈیا سے ایسی مفاہمت ہو چکی تھی۔ درحقیقت جنرل کے ایم عارف ہی جنرل ضیا کی آشیر باد سے فوج کے امور انجام دینے کے مجاز تھے اور یہ وہی افسر تھے جو جنرل ضیا اور وزیراعظم جونیجو کی منظوری سے فوجی حکمت عملی کے مکمل ذمہ دار تھے۔‘
انڈین فوج کے کم از کم ایک اعلی جنرل کا دعویٰ ہے کہ اس انتظام کو باضابطہ بنانے کے لیے کسی خط کا نیم سرکاری بنیاد پر تبادلہ نہیں ہوا تھا اور انڈین آرمی چیف جنرل سندر جی اس سے آگاہ نہیں تھے۔ ’پاکستان آرمی کو جنگی مشقوں سے متعلق انڈین فوج کی جانب سے مکمل معلومات نہ دینے کی وجہ سے بہت ساری غلط فہمیوں اور غلط نکتہ ہائے نظر نے جنم لیا۔‘
گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں افواج کے درمیان غلط فہمیوں کا نتیجہ پورے خطے میں جنگ کی صورت میں نکل سکتا تھا۔
فوجی کشیدگی میں بتدریج اور مسلسل اضافہ
’براس ٹیک‘ مشقیں سیاسی خلا میں نہیں ہوئی تھیں، اس کے برعکس یہ کہاگیا کہ انڈین فوجی منصوبہ ساز چاہتے تھے کہ انڈیا کے مشرقی پنجاب صوبہ میں پاکستانی دباؤ کو ختم کیا جائے جو بڑے پیمانے پر سکھوں کی شورش میں گھرا ہوا تھا۔
انڈیا چاہتا تھا کہ یہ دباؤ پاکستانی صوبہ سندھ کی طرف موڑ دیا جائے جہاں ضیا کے خلاف سیاسی تحریک جاری تھی۔
گروپ کی دوسری اشاعت ’چار بحران اور امن عمل‘ میں براس ٹیک جنگی مشقوں کی منصوبہ بندی کے وقت انڈین فوجی قیادت کی سوچ کو بیان کرتے ہوئے کہاگیا کہ ’براس ٹیک سیاسی منظرنامہ تاثر دیتا ہے کہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں شورش کی وجہ سے صورتحال ہاتھ سے نکلتی جا رہی تھی جبکہ سکھ جنگجوؤں نے آزاد سکھ قوم کے لیے ’خالصتان تحریک‘ کا اعلان کر دیا تھا جس سے پاکستان کو حوصلہ ملا کہ کشمیر اور خالصتان دونوں کو انڈیا سے جدا کر دیا جائے۔‘
پاکستان کی فوجی حکومت اپنے جواز کے بحران سے دوچار تھی جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی اور سندھ قوم پرستوں کی قیادت میں ضیا کے خلاف تحریک جاری تھی۔ یہ حیران کن نہیں تھا کہ مذہبی جماعت جماعت اسلامی جو جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے ساتھ تھی، اس وقت انڈین بدنیتی کو قصور وار ٹھہرانے میں پیش پیش تھی۔
سرحد کے دونوں جانب سے جنگی اشتعال انگیز بیانات کی گولہ باری جاری تھی، ایسے میں پاکستانی مذہبی دائیں بازو کے رہنماؤں نے عوام سے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ انڈیا پاکستان کے صوبہ سندھ پر حملہ کرنے والا ہے۔
امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور اسی جماعت کے ایک اور رہنما میاں طفیل محمد اس ضمن میں پیش پیش تھے۔
فوجی بحران کے دوران سیاسی اور فوجی رابطے
جنوبی ایشیائی امور کے امریکی ماہر سٹیون کوہن نے دونوں ممالک کی اعلی فوجی و سیاسی قیادت کے درمیان رابطے (کمیونیکیشن) کے فقدان کو جنوبی ایشیا میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ کی پس پردہ بڑی وجہ کے طور پر نشاندہی کی ہے۔
مطالعہ میں مرتب کردہ واقعات کی تاریخ وار ترتیب میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 15 نومبر 1986 میں انڈین ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ انڈیا راجستھان سیکٹر میں جنگی مشقیں شروع کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے فوجی دستوں کی نقل و حرکت کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔
پاکستان کی طرف سے شکایت کی گئی کہ پاکستان کو فراہم کردہ معلومات نامکمل ہیں اور ان جنگی مشقوں کو پاکستان اپنے لیے خطرہ تصور کرتا ہے کیونکہ ان مشقوں کی سمت اور محور پاکستانی سرحد کی جانب ہے۔
دسمبر 1986 کے وسط میں دونوں افواج آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں۔ ذرا سی غلط فہمی یا غلط حرکت دونوں طرف مکمل جنگ میں بدل سکتی تھی۔ گروپ کی رپورٹ کے مطابق ’فوجی نکتہ نگاہ سے آٹھ دسمبر 1986 کے آغاز سے 23 جنوری 1987 تک ڈیڑھ ماہ کشیدگی انتہائی عروج پر تھی۔‘
مطالعہ میں قرار دیا گیا کہ آٹھ دسمبر سے 23 جنوری 1987 تک پاکستان اور انڈیا کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ پاکستان کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے اپنے انڈین ہم منصب کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا کہ پاکستانی فوجی مشقوں کی مدت میں 15 دسمبر 1986 سے مزید توسیع کر دی گئی ہے جس میں حملہ آور دستے بھی شامل تھے کیونکہ پاکستانی فوج کے نکتہ نظر سے براس ٹیک جنگی مشقوں کے پیچھے انڈیا کے نیک ارادے نہیں تھے۔
دسمبر 1986 کے وسط میں انڈین میڈیا نے خبر دی کہ پاکستانی توپ خانہ (آرمرڈ رجمنٹ) بہاولپور میں ایام امن کے مقام سے آگے سرحد کے قریب ڈیرے لگا چکا ہے۔ فوجی منصوبہ سازوں نے اس خبر کو ہوا میں اڑا دیا تاہم سرحد کے دونوں طرف پراسرار سرگرمیاں جاری رہیں۔
نومبر 1986 میں پاکستان کی فضائیہ نے ’ہائی مارک‘ مشقوں کا آغاز کر دیا، ان کے مکمل ہونے کے باوجود بھی پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) کے سیٹلائٹ اڈے پوری طرح فعال تھے۔
24 جنوری 1987 میں پاکستان کے انگریزی اخبار ’پاکستان ٹائمز‘ نے خبر شائع کی کہ پاکستانی آرمرڈ ڈویژنز (توپ خانہ ومشینی دستے) کے انڈین سرحد کے قریب نقل وحرکت کی وجہ سے انڈین فوج اور فضائیہ کو ’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے۔
اسی روز نئی دہلی میں پاکستانی سفیر ہمایوں خان کو انڈین وزیرمملکت برائے خارجہ امور نٹور سنگھ نے بلایا اور پاکستانی حکومت کو پیغام دیا کہ پاکستانی فوج خاص طور پر’آرمرڈ ڈویژنز‘ کی پیش قدمی ’جارحانہ اور اشتعال انگیز‘ ہے۔
کہا گیا کہ افواج کی حالت امن کے مقام پر واپسی کے ذریعے سے پاکستان اپنی نیک نیتی کا ثبوت دے سکتا ہے۔ گروپ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ’پاکستان ریزور نارتھ‘ کہلانے والی حملہ کرنے کی قوت کی حامل پاکستان کی بری افواج شکرگڑھ کے علاقے میں انڈین سرحد کے نزدیک مشقیں شروع کر چکی تھیں۔
پاکستانی افواج کی اول اور دوم درجے کی ہراول صفوں میں اسلحہ بھی تقسیم کیا جا چکا تھا۔ تمام علاقوں سے شہری عام آبادی نقل مکانی کر چکی تھی۔ سرحد کے قریب علاقوں اور پلوں پر بارودی سرنگیں بچھا دی گئی تھیں جبکہ فوجی افسروں اور جوانوں کی چھٹیاں منسوخ ہو چکی تھیں۔
اس مطالعہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعلی ترین سیاسی سطح پر رابطے اس وقت شروع ہوئے جب وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اپنے انڈین ہم منصب راجیو گاندھی سے انڈین شہر بنگلور میں سارک سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جہاں راجیو گاندھی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو بتایا کہ بھاری اخراجات کی وجہ سے براس ٹیک جنگی مشقوں میں کمی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی طرف سے انڈین وزیراعظم کی پاکستانی ہم منصب کو دی جانے والی اس اطلاع کو جھوٹ اور فریب سمجھا گیا کیونکہ زمین پر ایسی کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ دونوں طرف سے سیاسی رابطے اور سفارتی بات چیت جاری رہی اور بالآخر چار فروری 1987 کو معاہدہ ہوگیا اور کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔
انڈین صحافی کے ذریعے دی جانے والی جوہری دھمکی نئی نہیں تھی
سٹیون کوہن کی سرکردگی میں براس ٹیک مطالعاتی گروپ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان کی طرف سے انڈین صحافی کے ذریعے دی جانے والی جوہری دھمکی نئی نہیں تھی اور اس بحران کے دوران اور اس سے پہلے بھی (ڈاکٹر اے کیو خان) سمیت پاکستانی حکام کا اس طرح کی باتیں کرنا عام عمل بن چکا تھا۔
سنہ 1980 کے وسط میں پاکستانی حکام کی جانب سے یہ اس نوع کی مخفی جملہ بازی یا واضح بیانات معمول تھے جن میں اپنی بقا کو خطرہ لاحق ہونے پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا تاثر دیا جاتا تھا۔
اس کی تصدیق ڈاکٹر اے کیو خان نے بھی اس نمائندے سے اپنے انٹرویو کے دوران کی۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہر چند ماہ بعد جنرل ضیا مجھے بیان دینے کے لیے کہتے کہ انڈین شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ یہ اس وقت ضروری تھا۔‘
مطالعاتی گروپ نے قرار دیا کہ جب ڈاکٹر خان اور انڈین صحافی کی ملاقات ہوئی، اس سے پہلے بحران کا وقت گزر چکا تھا۔ سٹیون کوہن کی قیادت میں مطالعاتی گروپ کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ 28 جنوری تک بحران کسی نہ کسی طور پر ختم ہو چکا تھا۔
اگر فوری یہ پیغام دیا جاتا تو شاید انڈین حکومت اس کا ادراک کرتی لیکن ایسے غیرروایتی انداز کے حوالے سے یہ کہنا الگ بات ہے۔ صداقت شعاری سے ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ واقعات کی اس تعبیر کی بعد ازاں ڈاکٹر اے کیو خان نے تردید کی تھی جنھوں نے یہ الزام عائد کیا کہ دھوکے سے ان سے انٹرویو کیاگیا۔
گروپ کی رپورٹ میں بار بار جوہری دھمکیاں دینے کے پاکستانی رویہ کو بیان کرتے ہوئے کہاگیا کہ ’بظاہر پاکستان محسوس کرتا ہے کہ انڈین خطرے کے تصور کو جوہری قوت سے رفع کرنے کے بار بار اعلانات سے ان کے احساس تحفظ کا اعادہ ہوتا ہے۔‘
پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کے لیے اس بحران اور خطرے کے نتیجے میں علاقائی اور قومی سطح پر پاکستان میں دو پیش ہائے رفت ہوئیں۔ علاقائی سطح پر یہ ہوا کہ واشنگٹن پاکستان اور انڈیا میں مستقبل میں کسی ایسے بحران کی شدت میں کمی کے لیے روابط کے فروغ پر کاربند ہوا۔ اعتماد سازی کے بہت سارے اقدامات ہوئے، وہ پابندیاں ختم ہوئیں جو سویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے تناظر میں فوجی امور سے متعلق تھیں اور سٹرٹیجک حکمت عملی کے تحت جنوبی ایشیا میں عائد کی گئی تھیں۔
اول یہ کہ پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملے میں پہل نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں ہر نئے سال کے پہلے دن دونوں ممالک اپنی جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ بعدازاں دونوں ممالک نے کشیدگی کی صورت میں اعتماد سازی کے بہت سارے اقدامات پر دستخط کیے۔