مینارِ پاکستان کیس: متاثرہ لڑکی کے ساتھی ریمبو سمیت آٹھ ملزمان گرفتار

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی، لاہور

لاہور پولیس نے مینارِ پاکستان کے مقام پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے والی متاثرہ لڑکی کے بیان کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 13 نامزد ملزمان میں سے لڑکی کے ساتھی عامر سہیل عرف ریمبو سمیت اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

گذشتہ روز متاثرہ لڑکی نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور شارق جمال کے سامنے پیش ہو کر اپنا تحریری بیان جمع کروایا تھا جس میں انھوں نے گریٹر اقبال پارک واقعے کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کو ٹھہرایا تھا، جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

پولیس نے گرفتار کیے گئے ملزمان کو سنیچر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ کی عدالت میں پیش کر کے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزم ریمبو نے دعویٰ کیا کہ وہ گذشتہ دو ماہ سے مذکورہ خاتون کا ساتھ دے رہے ہیں۔

عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ’گریٹر اقبال پارک میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بننے والے دیگر عناصر‘ کی نشاندہی کے لیے ملزمان کا ریمانڈ دیا جائے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزمان سے مختلف ویڈیوز اور دیگر چیزیں برآمد کرنی ہیں۔

استغاثہ کے مطابق یہ ایک ’انتہائی اہم‘ معاملہ ہے جس کی بازگشت ’پوری دنیا‘ میں سنی گئی، اس لیے عدالت تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ دے۔

استغاثہ کا عدالت میں مزید کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

دوسری طرف ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ہمیشہ ٹک ٹاکر کے ساتھ رہے۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیوز موجود ہیں کہ ریمبو سمیت دیگر نے رواں سال اگست میں پیش آئے واقعے کے روز ٹک ٹاکر لڑکی کی جان بچائی تھی۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کیا کہا؟

متاثرہ لڑکی نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو بتایا تھا کہ '14 اگست کو اقبال پارک جانے کا منصوبہ ریمبو نے ہی بنایا تھا۔‘

پولیس کو دیے گئے بیان میں متاثرہ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھی ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کی نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان انھیں بلیک میل کرتے ہیں۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ریمبو انھیں بلیک میل کر کے اب تک 10 لاکھ روپے لے چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی کیونکہ ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے اور مجھے بلیک میل کرتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

متاثرہ لڑکی کے بیان کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی اور 13 نامزد ملزمان میں سے ریمبو سمیت آٹھ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق نامزد دیگر افراد کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’منظرعام پر آنے والی ویڈیو ایک سال پرانی ہے‘: ریمبو کا دعویٰ

دوسری طرف عدالتی پیشی کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ملزم ریمبو کا کہنا تھا کہ ’میں تو دو ماہ سے متاثرہ لڑکی کا ساتھ دے رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سمیت گرفتار تمام ملزمان متاثرہ لڑکی کے کیس کے گواہ بھی ہیں۔

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ مذکورہ خاتون کے ساتھ اُن کی منظر عام پر آنے والی حالیہ ویڈیو کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو ملزم ریمبو نے دعویٰ کیا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ لڑکی کی مرضی سے ہی ہوا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’منظرعام پر آنے والی ویڈیو ایک سال پرانی ہے۔‘

ملزم ریمبو کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’متاثرہ لڑکی مقدمے کے ملزموں سے پانچ، پانچ لاکھ روپے لینا چاہتی تھی جس پر اسے سمجھایا کہ رقم کے پیچھے نہ بھاگو جس پر متاثرہ لڑکی نے غلیظ زبان استعمال کی اور مبینہ طور پر دھمکی بھی دی کہ اگر اس کے کہے کے مطابق بیان نہ دیا تو ہمیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔‘

ملزم ریمبو کا مزید کہنا تھا کہ 'متاثرہ لڑکی نے راتوں رات ان سب پر پرچہ کروا کر گرفتار کروا دیا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر حوالات میں بند ملزم ریمبو کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کر رہے ہیں۔

مینارِ پاکستان کیس

،تصویر کا ذریعہShahid Aslam

پولیس کے مطابق ویڈیو بیان جاری کرنے پر تھانہ لاری اڈہ کے چار اہلکاروں پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 155 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں انچارج انویسٹیگیشن، محرر انویسٹی گیشن، محرر آپریشن اور ڈرائیور انویسٹیگیشن لاری اڈہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اگست میں متاثرہ لڑکی کے ساتھ گریٹر اقبال پارک میں پیش آنے والے واقعے پر 400 سے زیادہ افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں کئی درجن لوگ گرفتار بھی ہوئے تھے۔

وائرل ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کو مدد کے لیے چیخ و پکار کرتے بھی دیکھا اور سُنا جا سکتا تھا۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی تھی کہ ملک کے بڑے شہروں میں بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔