آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ نے پاکستان کو ’ریڈ لسٹ‘ سے ہٹا دیا: پاکستان سے سفر کی صورت میں 22 ستمبر سے کیا کرنا ہوگا؟
برطانیہ نے پاکستان کو کووڈ 19 کے دوران سفر کے لیے خطرناک سمجھے جانے والے ممالک کی ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔
سفری پابندیوں میں نرمی کا اطلاق بدھ 22 ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے ہوگا۔ اس اعلان کے علاوہ برطانیہ کی جانب سے بدھ کو Tier 2 سسٹم سے متعلق اعلان کیا گیا ہے جس کا اطلاق 4 اکتوبر سے ہوگا۔
اس پابندی کو ہٹائے جانے سے متعلق اعلان برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر کرسچیئن ٹرنر نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کیا ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بخوشی اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ گذشتہ پانچ ماہ آپ کے لیے کتنے مشکل تھے۔‘
انھوں نے اپنے ٹویٹ میں اس سارے عرصے میں تعاون کرنے پر اسد عمر سمیت پاکستان اور برطانیہ کے صحت کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔
برطانوی حکومت نے دو اپریل کو پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کے باعث ملک پر سفری پابندی کا اعلان کیا تھا تھا جس کا باقاعدہ اطلاق نو اپریل کو ہو گیا تھا۔
پاکستان کا ردعمل
صحت سے متعلق پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون فیصل سلطان نے اس خبر کا خیر مقدم قرار دیتے ہوئے اسے ’سفر کے منتظر افراد کے لیے بڑی خوشخبری‘ قرار دیا اور برطانوی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا۔
فیصل سلطان کا ایک ٹویٹ میں ان کہنا تھا کہ وہ ’برطانیہ کی حکومت کے دیگر افراد کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہماری ٹیم کے ساتھ تعاون کرتے رہے اور وبا کے حوالے سے ردعمل کے ہمارے نظام کو گہرائی سے سمجھا اور ساتھ ساتھ بیماریوں کی حفاظت کو فعال کرنے کے لیے ڈیٹا اور معلومات کے اشتراک میں مصروف ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان سے سفر کی صورت میں 22 ستمبر سے کیا کرنا ہوگا؟
اس نرمی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان سے انگلینڈ جانے والے مسافروں کو اب ہوٹل میں قرنطینہ نہیں کرنا ہوگا۔ لیکن اگر آپ 4 اکتوبر سے قبل انگلینڈ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں تو آپ کو روانگی سے قبل اور انگلینڈ آمد کے بعد قواعد کے مطابق پی سی آر ٹیسٹ کروانے ہوں گے۔
لیکن اگر آپ 4 اکتوبر کے بعد پاکستان سے روانہ ہو رہے ہیں تو روانگی سے قبل ویکسین کی دونوں خوراکیں لگی ہونے کی صورت میں آپ کو پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروانا ہوگا۔ آپ کو انگلینڈ پہنچنے کے دو دن بعد یعنی ’ڈے ٹو‘ (اگر آپ جمعے کو کسی بھی وقت انگلینڈ پہنچے ہیں تو آپ کا ’ڈے ٹو‘ اتوار ہوگا) پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا جس کا متبادل 4 اکتوبر سے کم قیمت ’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ ہوگا۔’
4 اکتوبر سے کیا ہوگا؟
برطانیہ کی جانب سے بدھ کو Tier 2 سسٹم سے متعلق اعلانات کیے گئے ہیں جس کا اطلاق 4 اکتوبر سے ہوگا:
- ممالک کو ریڈ، ایمبر اور گرین لسٹ میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
- ایمبر اور گرین لسٹ کی جگہ ممالک کو ایک نئی فہرست Rest of World ( ROW) میں شامل کیا جائے گا۔
- اس لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کو اگر ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہوں گی تو انھیں انگلینڈ روانگی سے قبل تین دن کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروانا ہوگا۔
- لیکن ان مسافروں کو اپنی آمد کے دو دن بعد یعنی ’ڈے ٹو‘ ٹیسٹ کروانا ہوگا لیکن 4 اکتوبر سے نئے قوانین کے اطلاق کی صورت میں پی سی آر کی جگہ کم قیمت والا ’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ کروانا ہوگا۔
- ریڈ لسٹ رہے گی اور اس میں شامل مملک سے آنے والے افرد کو 11 راتیں ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اکیلے سفر کرنے والے مسافروں کو اس کے لیے دو ہزار دو سو پچاسی پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔
اس Tier 2 سسٹم کے لاگو ہونے سے پہلے جن آٹھ ممالک کو 22 ستمبر سے ریڈ لسٹ سے ہٹایا جا رہا ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان ممالک میں ترکی، پاکستان، مالدیپ، مصر، سری لنکا، عمان، بنگلہ دیش، اور کینیا شامل ہیں۔
برطانیہ آنے والوں کے لیے ریڈ لسٹ ممالک سے سفر کرنے کا کیا مطلب ہے؟
ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے کسی ایک فرد کے لیے قرطینہ ہوٹل کے کمرے کی فیس 2285 پاؤنڈ ہے جس میں ٹرانسپورٹ، کھانے اور ٹیسٹوں کی لاگت بھی شامل ہے۔ ایک اضافی بالغ یا 11 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے یہ فیس 1430 پاؤنڈ تھی ور پانچ سے 11 سال تک کے بچے کے لیے 325 پاؤنڈ ادا کرنا لازم تھے۔
اور اگر آپ انگلینڈ روانگی سے قبل قرنطینہ پیکیج کا انتظام نہیں کرتے تو آپ کو اوپر دی گئی رقم کے علاوہ 4 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
قرنطینہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو دس ہزار پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔