نور مقدم کیس: تھیراپی ورکس کے مالک سمیت چھ ملزمان کی ضمانت منظور

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں گرفتار تھیراپی ورکس کے مالک سمیت چھ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

ضمانت پر رہا ہونے والے دیگر ملزمان بھی تھیراپی ورکس کے ہی ملازم ہیں۔ ان ملزمان پر جائے حادثہ سے شہادتوں کو ضائع کرنے اور مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی قتل میں معاونت کا الزام ہے۔

اس سے پہلے پیر کے روز ضمانت کی ان درخواستوں پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت نے ملزمان کو 50 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عدالت نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور ان کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درحواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

مرکزی ملزم کے والدین کے ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں اس لیے یہ ملزمان ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔

ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی پر بھی ملزم کی جرم میں معاونت کرنے، حقائق چھپانے اور شواہد ضائع کرنے کا الزام ہے۔

اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پیر کے روز تھیراپی ورکس کے مالک محمد طاہر سمیت چھ ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

ملزم محمد طاہر ظہور کے وکیل کے دلائل

ملزم محمد طاہر ظہور کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کا نام تو ایف آئی آر میں بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے موکل تھیراپی کا کام کرتے ہیں اور لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل پولیس ان کے ’بیان ریکارڈ کرنے کے بہانے سے تھانے میں بلاتی رہی ہے‘ اور ان کے موکل سمیت تھیراپی سینٹر کے پانچ ملازمین متعقلہ پولیس سٹیشن میں پیش بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا اور جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد بھی جب ان کے خلاف مواد نہیں ملا تو انھیں جیل بھیج دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کے موکل کے خلاف تفتیش میں کوئی بات ثابت ہوئی ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے ضمانت کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وقوعہ کے روز طاہر ظہور کے ملازم گھر کے اندر دروازہ توڑ کر داخل ہوتے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کیا اور پھر اپنے والدین کو بتایا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے تھیراپی سینٹر والوں کو کال کی کہ وہاں جا کر ان کے بیٹے کو دیکھیں اور اس کی مدد کریں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جو الزام ’ہمارے پر لگائے گئے ہیں سب جھوٹے ہیں‘۔ انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ ہم نے بھیجے انھوں نے ہی ملزم کو گرفتار کیا‘۔

انھوں نے کہا کہ تھیراپی سینٹر کے لوگ ملزم ظاہر جعفر کے حملے میں زخمی بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود ’ہمیں ہی گرفتار کیا گیا‘۔ انھوں نے کہا کہ ملزم طاہر ظہور تھیراپی سینٹر کے مالک اور عمر رسیدہ ہیں اس کے علاوہ ان کے موکل دل کے مریض، ان کا گردہ متاثر ہے اور وہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ سماعت کے دوران ملزم کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کی ضمانت کی درخواست کو منظور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

اس مقدمے میں گرفتار ایک اور ملزم امجد کے وکیل شہزاد قریشی نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ان کے موکل کو ظاہر جعفر نے چھری کے وار کر کے زخمی کیا۔ انھوں نے کہا کہ تھیراپی سینٹر کے پانچ لوگ جائے حادثہ پر پہنچے اور اگر ثبوت مٹانے ہوتے تو ان کے موکل کو ملزم کی طرف سے زخمی کیوں کیا جاتا۔

شہزاد قریشی نے دعویٰ کیا کہ ان کے موکل نے زخمی ہونے کے بعد انھوں نے ہی پولیس کو فون کر کے جائے حادثہ پر بلایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو وقوعہ کے 18 روز بعد اس مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

سرکاری وکیل کے دلائل اور الزامات

اس مقدمے کے سرکاری وکیل کا دعویٰ ہے کہ دلیپ کمار نامی شخص جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی تھیراپی سینٹر کا ملازم ہے، ملزم امجد کو لیکر ہسپتال گیا اور ہسپتال والوں کو بتایا کہ وہ ٹریفک حادثے میں زخمی ہوا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کو اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور الزام عائد کیا کہ ملزمان نے جائے حادثہ سے ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کی طرف سے پولیس کو مطلع نہیں کیا گیا بلکہ وہاں سے گزرنے والے ایک راہگیر نے علاقے میں پیٹرولنگ کرنے والی پولیس کی ٹیم کو بتایا تھا کہ فلاں گھر میں لڑنے جھگڑنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت اسی لیے نہیں مانی گئی کیونکہ انھوں نے پولیس کو نہیں بتایا تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس مقدمے کے شریک ملزمان ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی وقوعہ کے روز شام کو نو بجے کے قریب جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے پولیس کو مطلع نہیں کیا حالانکہ جائے وقوعہ سے متعقلہ پولیس سٹیشن دس منٹ کی مسافت پر ہے۔

مدعی مقدمہ اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور کا دعویٰ ہے کہ جب تھیراپی ورکس کے ملازمین جائے وقوعہ پر پہنچے تو امجد زخمی ہوا لیکن اس نے پولیس کو واقعے کی اطلاع نہیں دی۔

وکیل شاہ خاور کا دعویٰ ہے کہ امجد کو پہلے پرائیویٹ ہسپتال لے کر گئے لیکن ہسپتال والوں نے کہا کہ یہ پولیس کیس ہے، جس کے بعد امجد کو پرائیویٹ ہسپتال سے پمز لے کر جایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ امجد کی سرجری ہوئی جس کے بعد وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوا لیکن اس کے باوجود ان کا معاملہ پولیس کو نہیں دیا گیا۔ مدعی مقدمہ کے وکیل کا دعویٰ تھا کہ پولیس کا امجد کو ملزم نامزد کرنا غلط نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے دو شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت کا فیصلہ بھی آیا جس میں ان کی درخواستوں کو مسترد کیا گیا اور ملزمان کی طرف سے اس عدالتی فیصلے کو ابھی تک چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔

ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

نور مقدم کیس میں گرفتار ملزم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر، عصمت آدم جی سمیت چار ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی ہے۔

ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ مقصود احمد انجم نے ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزمان ذاکر جعفر، عصمت آدم جی، افتخار اور جمیل کو بخشی خانہ تو لایا گیا لیکن ان کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کی بذریعہ روبکار حاضری لگا کر جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی ہے۔