خواتین پر تشدد: اسلام آباد میں درخت سے پتلا لٹکا کر پھانسی کی سزا کے مطالبے پر بحث

اسلام آباد
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ایک مرکزی چوراہے پر ایک پتلے کو پھانسی پر لٹکا کر معاشرے میں عورتوں کے ساتھ مظالم کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ پر فیصل مسجد کی جانب جاتے ہوئے اچانک سے نگاہ درخت پر لٹکتی ہوئی لاش پر پڑی۔ ایک سیکنڈ کے لیے لگا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فوراً گاڑی روکنے پر میری طرح کئی اور لوگ بھی یہی سوال پوچھتے ہوئے درخت کے پاس کھڑے لاش کی جانب دیکھتے نظر آئے۔

واضح رہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں خواتین کے قتل اور ان پر تشدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

اس دوران میری طرح کئی اور لوگ بھی یہی سوچتے ہوئے اس لاش کی جانب بڑھے کہ شاید ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ لیکن دماغ ماننے کو تیار نہیں تھا۔

نزدیک جا کر دیکھنے پر سمجھ آیا کہ یہ کوئی لاش نہیں بلکہ انسانی پتلا تھا جو درخت سے لٹکایا گیا ہے۔ اور اسی کے ساتھ نگاہ درخت کے ساتھ لگی ایک پرچی پر پڑی جس پر لکھا تھا 'اپ سیٹ دی سیٹ اپ' جس کے عام الفاظ میں معنی بنتے ہیں موجودہ نظام کو جھنجھوڑیں۔

کپڑے اور رسی سے لپٹا ہوا یہ پتلا اب وہاں موجود نہیں ہے۔ اور یہ نہیں پتا کہ وہ پتلا گیا کہاں؟

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ وہ معلوم کرنے کے بعد تصدیق کرسکتے ہیں کہ یہ آرٹ کب اور کس نے ہٹایا۔

بہرحال، یہ پتلا دو روز تک اسی درخت پر لٹکا رہا۔ فریال یزدانی نامی آرٹسٹ نے اپنے انسٹاگرام پیج پر اسی پتلے کی تصویر لگا کر لکھا کہ 'قاتلوں اور ریپ کرنے والوں کے لیے پھانسی کی سزا۔'

اب اس دوران فریال کے انسٹاگرام پیج اور دیگر پلیٹ فارمز پر صرف یہی بات کی جارہی ہے کہ عورتوں کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دینی چاہیے۔

اب کچھ لوگ فریال کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ کرنے پر سراہ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس مطالبے پر تنقید کر رہے ہیں۔

سلمیٰ نامی ایک صارف نے فریال کے انسٹاگرام پیج پر لکھا ہے کہ 'اسے (یعنی لاش نما آرٹ کو) ہر سگنل پر لٹکانا چاہیے۔'

میوورک نامی صارف نے لکھا کہ 'قاتلوں کو جیل نہ بھیجیں بلکہ سرِ عام پھانسی دیں تاکہ آگے آنے والے لوگ اس سے عبرت حاصل کرسکیں۔'

اسلام آباد
،تصویر کا کیپشنفیصل مسجد کے قریب اس چوارہے پر لوگ یہ پتلا لٹکا دیکھ کر حیران رہ گئے

اسی طرح سیف نامی صارف نے لکھا ہے کہ 'اسی طرح کا ایک پتلا سپریم کورٹ کے سامنے لٹکا دینا چاہیے۔'

پھانسی کے اس مطالبے کی کڑی ملتی ہے اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں ہونے والے نور مقدم کے قتل کیس سے۔ اس قتل کی دل دہلا دینے والی تفصیلات سامنے آنے کے بعد نور کے قاتل کو پھانسی پر لٹکانے کے بارے میں بحث کافی دنوں سے جاری ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان میں ریپ یا قتل کے بعد پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہو۔ اس سے پہلے بھی سات سالہ بچی زینب کے ریپ اور قتل کے بعد اس کے قاتل کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن اس دوران سماجی و انسانی حقوق پر کام کرنے والے افراد کہتے آئے ہیں کہ پھانسی کی سزا دینے سے ریپ اور قتل کے واقعات میں کمی ہونے کے بجائے مزید تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔

سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں حیران ہوں کہ اس طرح کا آرٹ اسلام آباد کی سڑکوں پر لٹکایا گیا ہے۔ پاکستان میں ویسے ہی انتہا پسندی اور تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس میں اس طرح کی بات کرنا مزید تشدد کو جنم دے گا۔ میری کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے گزارش ہے کہ اس مجسمے کو پہلی فرصت میں وہاں سے ہٹا دیں۔'

اسلام آباد
،تصویر کا کیپشنپتلا لٹکانے والے کا دعوی ہے کہ وہ لوگوں کو جھنجھوڑنا چاہتا تھا

اسی طرح وکیل اور سماجی کارکن ریما عمر سے جب ٹوئٹر پر پوچھا گیا کہ کیا وہ پھانسی کی سزا کی حمایت کرتی ہیں؟ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ 'اصولی طور پر میں پھانسی کی سزا کے خلاف ہوں۔'

فریال یزدانی نے کہا کہ 'مجھے پتا تھا کہ میرے کام پر تنقید کی جائے گی۔ میرا مقصد لوگوں کو جھٹکا دینا تھا۔ جس ڈگر پر یہ ملک چل رہا ہے، تو اس وقت ہمیں جلدی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ صرف زندہ ہیں، جی نہیں رہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'میں ذہنی امراض کے بارے میں بات کرنے کو ترجیح دیتی ہوں۔ لیکن اگر میرا کام آپ کو اپ سیٹ کرتا ہے، تو مجھے اس بات کی خوشی ہے۔ یہ کوئی جذباتی کام نہیں ہے۔ اس وقت یہ ہماری ضرورت ہے کہ ان تمام واقعات کا کوئی حل نکالیں۔ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔'