مینارِ پاکستان: قراردادِ لاہور کی یادگار جس کی تعمیر کی رقم سینما گھروں اور گھڑ دوڑ کی ٹکٹوں سے جمع کی گئی

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

یہ تحریر پہلی مرتبہ 26 جولائی 2021 کو شائع کی گئی تھی جسے آج کے دن کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

منٹو پارک میں تل دھرنے کی جگہ تک نہیں تھی۔ یہ جولائی کا موسم تھا یا اس موقع کی اہمیت، فضا خاصی بھاری تھی اور سب کی نظریں سامنے سٹیج پر بیٹھی قیادت پر مرکوز تھیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ نے اس جلسے کے لیے لاہور شہر کا انتخاب کیا تھا۔ اس سے قبل بھی لاہور کئی بڑے چھوٹے سیاسی اجتماعات دیکھ چکا تھا تاہم یہ جلسہ اپنی نوعیت کا ایک اجتماع تھا۔

سنہ 1940 تھا اور دن 23 مارچ کا تھا۔ برصغیر کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے محققین بتاتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ مسلمانوں کی اکثریت کے علاقوں پر مشتمل ایک الگ خطہ بنانے کی باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی تو مجمع ہزاروں کا تھا۔

اس قدر بڑا اجتماع اس سے قبل لاہور کے لوگوں نے اس مقام پر نہیں دیکھا ہو گا۔ یہ جلسہ اور اس میں الگ خطے کے لیے قرارداد اس لیے بھی ایک منفرد عمل تصور کیا جاتا ہے کہ ان دنوں پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی جو پنجاب کے اتحاد کی حامی اور برصغیر کی تقسیم کی مخالف تھی۔

ان دنوں خاکسار تحریک کے نام سے چلنے والی ایک تحریک بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ نہیں تھی اور اندیشہ تھا کہ اس کے حامی جلسے کے دوران بد نظمی پھیلانے کی کوشش کر سکتے تھے۔ ان حالات میں بھی آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کا جلسہ اسی مقام پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سات برس بعد ہی پاکستان وجود میں آیا اور اس کے قیام کی جدوجہد میں 23 مارچ 1940 کے منٹو پارک میں ہونے والے اس جلسے کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔

اسی تاریخی حیثیت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے قریباً 12 برس بعد اس مقام پر ایک یادگار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم لاہور شہر کے منتظمین اس یادگار کو نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کی نمائندہ 'جدوجہدِ آزادی پاکستان' کی علامت کے طور پر بنانا چاہتے تھے۔ اس خاص کام کے لیے نمایاں شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ کس قسم کی نشانی تعمیر کی جائے۔ روایتی طور پر برصغیر پاک و ہند میں آنے والے مسلمان حکمران اپنی فتوحات کے بعد مساجد تعمیر کرتے تھے۔ کمیٹی کی طرف سے مانگی گئی تجاویز میں مسجد بھی سامنے آئی تھی تاہم اس پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا۔

کمیٹی نے اتفاقِ رائے سے اس مقام پر ایک مینار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ اس خطے کے لیے ایک نیا خیال تھا۔ سنہ 1960 میں اس مینار کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا اور اگلے آٹھ برس تک اس کی تعمیر جاری رہی تھی۔

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مینار پاکستان کی تعمیر کے لیے 70 لاکھ کہاں سے آئے؟

گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابق سربراہ ڈاکٹر طاہر کامران برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر مقالے تحریر کر چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'مینارَ پاکستان' کی تعمیر پر اس قدر طویل عرصہ کام جاری رہنے کی وجہ یہ تھی کہ منتظمین اس کی تعمیر پر آنے والا خرچ چندے یا قرض کے ذریعے جمع نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین نے ایک تجویز دی جس پر عمل کیا گیا۔ 'مینارِ پاکستان کی تعمیر پر لگ بھگ 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے اور یہ رقم سینما گھروں اور گھڑ دوڑ کی ٹکٹوں پر اضافی ٹیکس لگا کر حاصل کی گئی تھی۔'

ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق زمین سے تقریباً 70 میٹر بلند مینارِ پاکستان کا طرزِ تعمیر ملک کی 'ثقافتی افراط کی علامت' تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مینارِ پاکستان کی تعمیر کے وقت اور اس کے بعد بھی اس پر کئی قسم کے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے۔

'ایک اعتراض یہ تھا کہ پنجاب ہی کیوں؟'

ان میں ایک نقطہ یہ بھی سامنے آتا رہا کہ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کی علامت صوبہ پنجاب ہی میں کیوں تعمیر کی گئی؟ اور پھر اس علامت کو 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد ہی سے منسوب کیوں کیا گیا؟

یعنی مینارِ پاکستان کو پنجاب کے شہر لاہور میں سابق منٹو پارک کے اس مقام پر ہی کیوں تعمیر کیا گیا تھا؟

محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق اس کا انتہائی سیدھا سا جواب یہ تھا کہ 'یہ پنجاب کی طاقت کا مظہر تھا۔'

ان کے خیال میں دیگر وجوہات یہ ہو سکتی تھیں کہ دوسرے کئی شہروں میں کچھ تاریخی علامات پہلے سے موجود تھیں اور 'کچھ جگہوں پر وہ اسے بنانے کے حق میں نہیں تھے جیسا کہ مشرقی پاکستان۔'

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'لاہور نے بہت قربانیاں دیں'

تاہم تاریخ دان اور جامعہ پنجاب لاہور کے شعبہ تاریخ اور مطالعہ پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال چاولا سمجھتے ہیں کہ صوبہ پنجاب ہی پاکستان میں اس قسم کی تاریخی علامت کی تعمیر کے لے موزوں تھا کیونکہ 'پنجاب اور لاہور نے جدوجہدِ آزادی میں بہت قربانیاں دی ہیں۔'

ڈاکٹر اقبال چاولا کے مطابق 'جتنی بھی تعلیمی، ادبی، انقلابی تحریکیں چلیں وہ لاہور سے چلیں۔ انگریزوں کے خلاف بغاوت کا نعرہ لاہور سے بلند ہوا۔ جدوجہدِ آزادی کے بڑے بڑے نام لاہور نے پیدا کیے۔ لاہور جیسا تاریخی شہر صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔'

ان کے خیال میں مینارِ پاکستان جدوجہدِ آزادی کی ایک قومی یادداشت ہے جو اس قرارداد کی یاد دلاتا ہے جس کے نتئجے میں برصغیر تقسیم ہوا اور اس تقسیم کے نتیجے میں پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔

'اب اگر یہ قرارداد ڈھاکہ میں منظور ہوئی ہوتی تو یہ مینار ڈھاکہ میں بنتا، اگر کراچی میں ہوئی ہوتی تو کراچی میں یہ مینار بنایا جاتا۔'

'فائرنگ ہوئی۔۔۔ قائدِ اعظم فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے'

ڈاکٹر محمد اقبال چاولا کے خیال میں مینارِ پاکستان کی تعمیر کا معاملہ بھی متنازعہ تھا نہیں، چند عناصر اسے دانستاً متنازع بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح پنجاب اور لاہور کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔

'انھیں معلوم تھا کہ آگے چل کر پنجاب اور لاہور کا تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود 23 مارچ کے جلسہ کے لیے لاہور ہی کا انتخاب کیا تھا۔'

ڈاکٹر اقبال چاولا کے مطابق جلسے سے چند روز قبل خصادار تحریک کی جانب سے جلسے کے مقام پر فائرنگ کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا تاہم اس کے باوجود قائدِاعظم اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے تھے۔

قائدِ اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد علی جناح نے 23 مارچ کے لیے لاہور کا انتخاب کیوں کیا تھا؟

تاریخ دان ڈاکٹر طاہر کامران کے خیال میں قائدِاعظم محمد علی جناح نے 23 مارچ کا جلسہ لاہور میں منٹو پارک کے مقام پر کرنے کا فیصلہ عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے کیا۔

ان دنوں پنجاب کے اندر یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی اور اس کے سربراہ سر سکندر حیات پنجاب کے وزیرِاعظم تھے۔ کچھ ہی عرصہ قبل قائدِاعظم اور سر سکندر حیات کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق سر سکندر حیات نے اپنی پارٹی کے عہدیداران کو آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کی تجویز دینا تھی۔

'اس طرح سر سکندر حیات اور ان کے یونینسٹ پارٹی پر اثر و رسوخ کے حوالے سے قائدِاعظم کو اعتماد تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کی حمایت سے وہ پنجاب میں بڑا شو آف پاور کر سکتے تھے۔'

ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق دوسری جنگِ عظیم شروع ہو چکی تھی اور برصغیر میں بھی سیاسی جماعتوں کا نظر آ رہا تھا تاج برطانیہ کے برصغیر سے جانے کا وقت آ گیا تھا۔

'ایسی صورت میں خصوصاً مسلم جماعتوں کے رہنماؤں کو معلوم ہو گیا تھا کہ قدرتی طور پر وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ چلنے یا اس میں شامل ہونے پر ہی فائدے میں رہ سکتے تھے۔'

مینارِ پاکستان کا ڈیزائن کس نے تیار کیا؟

ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق جب سنہ 1960 میں مینارِ پاکستان کا خاکہ تیار کرنے اور اس کی تعمیر کی ذمہ داری لینے کا وقت آیا تو اس کے لیے روسی نژاد پاکستانی نصرالدین مورت خان کے نام کا انتخاب کیا گیا۔ وہ ان دنوں مغربی پاکستان کی حکومت کے مشیر برائے فنِ تعمیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق نصرالدین کا تعلق وسطی ایشیائی ممالک سے تھا اور ان کے فنِ تعمیر پر ان علاقوں کے طرزِ تعمیر کا اثر واضح طور ہر نظر آتا تھا۔

'یہی وجہ ہے کہ مینارِ پاکستان کی تعمیر میں مغل اور وسطی ایشیائی طرز تعمیر نظر آتا ہے۔ اس سے قبل برصغیر میں جو مینار بنائے گئے تھے وہ زیادہ تر مسجدوں کے ساتھ ہوتے تھے اور ان کا طرزِ تعمیر قدرے مختلف تھا۔'

مینار پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آج بھی سیاسی جماعتیں مینارِ پاکستان کا رخ کیوں کرتی ہیں؟

مینارِ پاکستان کی تعمیر میں چار حصوں میں خام پتھر سے لے کر سنگِ مرمر کے تراشے ہوئے نفیس پتھر کا استعمال کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق 'یہ اس بات کی علامت تھی کہ پاکستان کی آزادی کی تحریک کس طرح چھوٹے پیمانے سے شروع ہوئی اور کیسے کامیابی کی طرف بڑھتی گئی۔'

مینارِ پاکستان کے پتھروں پر 'قراردادِ پاکستان' اور قراددادِ دہلی اردو اور بنگالی زبان میں نقش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کے ارشادات اور علامہ محمد اقبال کے اشعار بھی اس پر لکھے گئے ہیں۔ مینار کے ارد گرد وسیع و عریض گراؤنڈ موجود ہیں۔

جس پارک میں مینار واقع ہے اس کو گریٹر اقبال پارک کہا جاتا ہے اور حالیہ دور میں بھی مینارِ پاکستان پر کئی سیاسی جماعتیں جلسے اور سیاسی اجتماعات کر چکی ہیں۔ اس کے وسیع و عریض سبزہ زاروں میں ہزاروں افراد کو سمیٹنے کی گنجائش موجود ہے۔

ان میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو سنہ 2011 میں کیا جانے والا وہ جلسہ بھی شامل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس نے وزیرِاعظم عمران خان کی جماعت کی سیاست کو ایک نیا موڑ دیا تھا۔ اس جلسے میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔