ملالہ یوسفزئی: معاشرتی علوم کی کتاب مبینہ طور پر ملالہ یوسفزئی کی تصویر ہونے کے باعث ضبط، سوشل میڈیا پر بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی خود کوئی متنازع بات کریں نہ کریں، ان کے بارے میں آئے روز کسی نہ کسی بنا پر تنازع کھڑا ہوتا رہتا ہے۔
چاہے وہ ان کا کسی غیر ملکی جریدے کو دیا گیا انٹرویو ہو یا اسرائیل فلسطین تنازع پر دیا گیا بیان۔
ایسا ہی کچھ پیر کے روز (ان کی سالگرہ کے دن) بھی ہوا جب پنجاب نصاب اور ٹیکسٹ بک بورڈ (پی سی ٹی بی) نے معاشرتی علوم کی کتابوں کا سٹاک مبینہ طور پر ان کی تصویر شامل ہونے کے باعث قبضے میں لینا شروع کر دیا ہے۔
اس کتاب میں پاکستان کی اہم شخصیات کی فہرست میں جہاں 1965 کی جنگ میں نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے میجر عزیز بھٹی سمیت دیگر نامور افراد کی تصاویر موجود ہیں وہیں سنہ 2014 میں نوبل انعام پانے والی ملالہ یوسفزئی کی تصویر بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی ہفتوں سے اس صفحے کی تصویر شیئر کی جا رہی تھی۔
یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع کی گئی تھی تاہم ترجمان پی سی ٹی بی طارق محمود کے مطابق ’اس کتاب کو این او سی نہیں دیا گیا تھا جو پی سی ٹی بی ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی ہے جس کے بعد اب اسے مختلف کتب فروشوں سے قبضے میں لینا معمول کی بات ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی کتابوں کو اس این او سی نہ ہونے پر ضبط کیا جا چکا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘
ترجمان پی سی ٹی بی کی جانب سے دوبارہ رابطہ کرنے پر بتایا گیا تھا کہ یہ ساتویں جماعت کی بجائے پرائمری کی ہے تاہم اس بارے میں تصدیق نہیں کی جا سکی۔
ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر راحیلہ بقائی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ کتاب پرائمری سے پہلے کی جماعتوں کے لیے اور سپلمنٹری(اضافی) کتاب ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راحیلہ بقائی نے بتایا کہ کتاب میں ملالہ یوسفزئی کی تصویر ’مشہور افراد‘ کے عنوان میں شامل کی گئی ہے کیونکہ وہ دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ شخصیت ہیں۔
کتاب کے این او سی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے یہ کہا کہ این او سی کے حصول کے لیے وہ تمام صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈز کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HassanJavid_
'اس معاشرے کو سوال کرنے والی خاتون سے ڈر لگتا ہے'
کتاب قبضے میں لیے جانے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر اکثر افراد اس حوالے سے سخت ردِ عمل دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
لمز یونیورسٹی کے معلم حسن جاوید نے ٹویٹ کیا کہ 'جب آپ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ ایکٹ 2015 اور نئے سنگل نیشنل کریکولم کو ملائیں تو یہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ یعنی ایسے حکام جن کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو اور وہ نصابی کتب کوریاستی نظریے کے مطابق سنسر کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
'یہ سب نیا نہیں ہے، اب اسے صرف قانونی حیثیت حاصل ہو گئی اور یہ مسلسل ہو رہا ہے۔'
ایک صارف نے لکھا کہ 'یہ عورت دشمن معاشرہ ہے، اسے خود مختار، پڑھی لکھی، سمجھدار، سوال کرنے والی خاتون سے ڈر لگتا ہے، اس تشدد پسند و منافق معاشرے کو امن سے، تعلیم سے، روشنی سے ڈر لگتا ہے۔‘
پریشے نامی صارف کا کہنا تھا کہ 'ملالہ سے مجھے کوئی خار نہیں پر اس قوم نے ڈاکٹر عبدالسلام جیسے ہیرو کو ریجیکٹ کیا اور ملالہ کو بغیر ایفرٹ کے نوبل انعام مل گیا تو اس پہ فخر کرنے کی بجائے شرمندہ کیوں ہوتے ہیں آخر پاکستانی مسلم نوبل انعام یافتہ ہے منہ کیوں چھپاتے ہو۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی پاکستان کے دو نوبل انعام یافتہ اشخاص میں سے ایک ہیں۔ سنہ 1979 میں فزکس میں خدمات کے عوض ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام دیا گیا تھا۔
صارف رطابہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ایک جوہری طاقت ایک لڑکی سے اس قدر خوفزدہ ہے جسے طالبان نے 15 سال کی عمر میں گولی ماری تھی۔ یہ ملک صحیح معنوں میں متاثرہ افراد کے خلاف ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ افراد کی جانب سے اس فیصلے کی تعریف بھی کی گئی۔ صارف محمد اسحاق نامی صارف نے لکھا کہ 'ملالہ کی تصویر نہیں ہونی چاہیے، اس نے کون سی قربانی دی ہے ملک کے لیے؟'
جبکہ وکی بھائی نامی صارف نے لکھا کہ 'شکر ہے کسی ادارے کو ہوش آیا ورنہ یہ تصویر تو کئی ماہ سے گردش کر رہی تھی اور عوام کا شدید ردِ عمل دیکھ کر کارروائی ہوئی۔'











