کوئٹہ میں پاکستانی فوج کے قافلے کے قریب بم دھماکہ، چھ اہلکار زخمی

،تصویر کا ذریعہEdhi Foundation
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں پاکستانی فوج کی گاڑی کے قریب بم دھماکے میں کم از کم چھ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ واقعہ ایئرپورٹ روڈ پر فاطمہ جناح پارک کے قریب پیش آیا ہے۔
صوبائی وزیرِ داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ فوج کے چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ فوج کی چھ گاڑیوں پر مبنی قافلہ ایئرپورٹ کی جانب سے شہر کی طرف آ رہا تھا اور جب یہ پارک کے قریب پہنچا تو موٹرسائیکل میں پہلے سے نصب بم کا دھماکہ ہوا۔
اُنھوں نے بتایا کہ قافلے میں آخری سے دوسرے نمبر پر موجود گاڑی اس دھماکے کی زد میں آئی ہے۔
بعد ازاں اُنھوں نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں چار سے پانچ کلو دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کے بعد موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ایدھی فاؤنڈیشن کے علاوہ کسی اور نجی تنظیم یا فرد کو موقع تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
جائے وقوعہ کے قریب موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ پارک کی ایک کینٹین پر تھے کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ایک گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ دھماکہ خوفناک تھا جس سے قرب و جوار کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
فاطمہ جناح پارک کہاں واقع ہے؟
فاطمہ جناح پارک کوئٹہ شہر میں ایئرپورٹ روڈ پر واقع ہے۔
جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ کوئٹہ چھاﺅنی کا علاقہ ہے تاہم یہ چھاﺅنی کے حساس علاقوں سے کچھ فاصلے پر ہے۔
ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ شہر کی اہم سڑک ہے اور کوئٹہ کے شمالی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے شمالی علاقوں کی ٹریفک کی آمد و رفت اسی علاقے سے ہوتی ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ میں بھی بم دھماکوں اور اس نوعیت کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEdhi Foundation

،تصویر کا ذریعہEdhi foundation

،تصویر کا ذریعہEdhi foundation

،تصویر کا ذریعہEdhi foundation
واضح رہے کہ حالیہ چند مہیںوں میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت آئی ہے۔
گذشتہ ہفتے 25 جون کو ضلع سبی کے علاقے سنگن میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے پر حملے کے نتیجے میں پانچ ایف سی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
مئی کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں 'سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے' کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔













