فون ٹیپنگ: بینظیر بھٹو کے الزامات سے بلاول بھٹو کی جانب سے فون ٹیپ کرنے کے مطالبے تک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ثنا آصف ڈار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وہ شاہ محمود کا فون ٹیپ کریں کیونکہ جب وہ ہمارے وزیر خارجہ تھے تو دنیا بھر میں مہم چلاتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو نہیں بلکہ مجھے وزیر اعظم بنا دو۔ میں آپ کے سامنے سچ لے کر آ رہا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ ان کو وزارت سے فارغ کیا گیا تھا۔‘
دو روز قبل قومی اسملبی کے اجلاس میں ایک سیاسی جماعت کے چیئرمین کا ملک کے وزیراعظم کو اپنے کسی وزیر کی جاسوسی کے لیے آئی ایس آئی کی مدد لینے کا مشورہ دینا کوئی طنز تھا یا مذاق، یہ تو وہ ہی جانتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو کے اس جملے کہ ’وزیراعظم کو آئی ایس آئی کو کہنا چاہیے کہ وہ شاہ محمود کا فون ٹیپ کریں‘ پر خاصی تنقید کی گئی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بات کرنے والے پی پی پی کے رہنما کی والدہ بینظیر بھٹو اپنے سیاسی کریئر کے دوران ایجنسیوں کی جانب سے اسی قسم کی جاسوسی کی شکایت کرتی تھیں۔
لیکن پاکستانی تاریخ میں سیاستدانوں کے فون ٹیپ ہونا کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ ماضی میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اور ریاستی اداروں پر جاسوسی کے الزامات عائد کرتی آئی ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ برس خود ایک ٹی وی پروگرام میں اس حوالے سے بات کی تھی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ’ٹو دا پوائنٹ‘ میں اینکر منصور علی خان کے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا تھا کہ ’کئی وزیر اعظم آتے ہیں اپنی فیکٹریاں لگاتے ہیں، باہر فلیٹس ہوتے ہیں وہ باہر پیسہ بھجواتے ہیں لیکن فوج کو سب پتا ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود بھی جو کچھ کرتے ہیں آئی ایس آئی کو اس کا علم ہوتا ہے۔
’میں جو بھی کرتا ہوں، جو میں ٹیلی فون کرتا ہوں جو بھی مجھے رابطہ کرتا ہے آئی ایس آئی اور آئی بی کو پتہ ہوتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے منسلک پاکستانی صحافی منیر احمد نے نوے کی دہائی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’پاکستان میں ’انٹیلیجنس ایجنسیوں کا سیاسی کردار‘ میں ماضی میں سیاستدانوں کے فون ریکارڈ ہونے کے واقعات کے حوالے سے بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف کی گئی سازش کے بارے میں لکھا ہے کہ کس طرح انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) نے فوج اور آئی ایس آئی کے افسران کے فون ٹیپ کیے۔
منیر احمد کتاب میں ایک جگہ آئی بی کی رپورٹ کو کچھ ایسے پیش کرتے ہیں: ’یہ جاننے کے بعد کہ فوج کے بعض افسران نے (بشمول آئی ایس آئی کے ایسے افسران جو اس خفیہ ادارے میں کام کر چکے ہیں) سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بعض اراکین کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی جس کا مقصد پی پی پی کی حکومت کو ختم کرنا ہے، ’مڈنائٹ جیکال‘ کے نام سے انٹیلی جنس بیورو نے ایک آپریشن مکمل کیا۔ اس آپریشن کے دوران ایسے انتظامات کیے گئے جن کے باعث سازش میں شامل تمام افراد کی گفتگو ٹیپ کر لی گئی اور انھیں اس کا علم بھی نہیں ہو سکا۔‘
منیر احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انٹیلیجنس بیورو کی اس رپورٹ کی روشنی میں بینظیر بھٹو نے بحیثیت وزیراعظم اہم اقدامات کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف مرزا اسلم بیگ نے پی پی پی کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والے فوجی افسران کے خلاف بہت معمولی ایکشن لیا۔
تاہم پاکستان کے سویلین انٹیلیجنس کے ادارے اینٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے آپریشن مڈ نائٹ جیکال کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے ایم این ایز کو کہا جا رہا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں بینظیر بھٹو کو ووٹ نہ دیں۔ ایک جگہ بیٹھ کر یہ بات چیت ہو رہی تھی اور پھر اس کی ویڈیو اور ٹیپس سامنے آئیں جن کو بینظیر بھٹو نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کو پیش کیا اور پھر فوج نے اس کے خلاف ایکشن بھی لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک جانب کئی تجزیہ نگار تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کی والدہ بینظیر بھٹو بھی اپنی زندگی میں ایجنسیوں پر اپنے فون کالز کی ٹیپنگ کا الزام عائد کرتی رہی ہیں لیکن 70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا تھا اور پھر تقریباً تین دہائی بعد پی پی پی کی 2008 میں آنے والی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سیاسی وِنگ کو اب ختم کیا جا رہا ہے۔
تاہم بینظیر بھٹو کے ایجنسیوں پر اپنے فون کالز کی ٹیپنگ کے الزام سے متعلق مسعود شریف خٹک نے خاصے پُراعتماد انداز میں کہا کہ ’محترمہ کی سکیورٹی بڑی حد تک میری ذمہ داری تھی اور ان کی ٹیلی فون کالز بہت زیادہ محفوظ تھیں اور انھیں کافی حد تک ان چیزوں سے محفوظ رکھا گیا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ماضی میں یہ ایک عام رواج تھا کہ اکثر ٹیپس مخالفین کے پاس آ جاتی تھیں اور اُن کا غلط استعمال کیا جاتا تھا۔
’پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اس زمانے میں جھگڑا تھا، تو یہ چلتا رہا۔ کبھی تصاویر آ جاتی تھیں۔ ایک بینکر کے ساتھ (فاروق) لغاری صاحب کی تصویریں آ گئی تھیں، پھر اراضی کا کیس آ گیا۔ تو اس طرح کے معاملات چلتے رہتے تھے جو ایک بری روایت تھی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’سب سے مشہور آڈیو ٹیپ جو لیک ہوئی تھی وہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قیوم، احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمان، (اس وقت کے) وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف کی ان ججز کے ساتھ گفتگو تھی جنھوں نے بینظیر بھٹو کو ایک کیس میں سزا سنائی تھی۔‘
’وہ آڈیو بین الاقوامی میڈیا میں بھی نشر ہوئی۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو کے خلاف جو فیصلہ سُنایا گیا تھا وہ واپس ہوا اور سپریم کورٹ کے دو ججز کو بھی مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
تاہم یہ خفیہ کیسٹس سیاسی جماعتوں کے پاس کہاں سے آتی ہیں، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس ایسے ذرائع نہیں ہو سکتے کہ وہ ان ٹیپس کو حاصل کریں۔
’یہ کیسٹس ایجنسیوں کی بدولت ہی حاصل کی جاتی تھیں اور شاید ایجنسیوں کا کوئی نہ کوئی بندہ ان کو لیک کر دیتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایجنسیاں کس کی اجازت سے سیاستدانوں کے فون ریکارڈ کرتی ہیں؟
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کئی مواقعوں پر ایک دوسرے کے خلاف خفیہ ریکارڈنگ سامنے لائی ہیں جنھوں نے بعد میں بڑے سکینڈلز کا رُخ بھی اختیار کیا۔
صحافی اور تجزیہ کار عمر فاروق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 1993 میں نواز شریف کی حکومت کے تحلیل ہونے کے بعد (جو بعد میں بحال بھی ہو گئی تھی) جب سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت کر رہی تھی تو عدالت کے سامنے ججز کے فون ریکارڈ کرنے کا معاملہ بھی آیا تھا۔
’عدالت میں بند کمرے میں ہونے والی سماعت کے دوران ججوں اور سیاستدانوں کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگ کے مواد کا تحریری ریکارڈ بھی پیش کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے گیارہ ججز کے فون ریکارڈ کیے گئے جو وزیر اعظم کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ کچھ ایسی بھی اطلاعات آئیں کہ انٹیلیجنس بیورو آرمی چیف کے فون بھی ریکارڈ کرتی تھی۔‘
’وزیراعظم اور پارلیمان کا یہ کام ہے کہ وہ تمام سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔ دنیا بھر میں جہاں پارلیمانی جمہوریت ہے وہاں پر انٹیلیجنس ایجنسیوں سے پارلیمان میں سوال جواب ہوتا ہے۔‘
لیکن پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے فون ریکارڈ کیے جانے والے بیان پر عمر فاروق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وزیر اعظم کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم اور پارلیمان کے بجائے انٹیلیجنس ایجنسی خود وزیر اعظم کی نگرانی کر رہی ہے جو کہ دنیا کی دیگر جمہوریتوں میں رائج روایت کے برعکس ہے۔
مغربی ممالک کی مثال دیتے ہوئے عمر فاروق نے کہا کہ ساری دنیا میں ریاست کے اندر ہونے والے واقعات کی جاسوسی کے لیے انٹیلیجنس کو ریاست کی باضابطہ اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔
’اگر آپ امریکہ میں کسی سینیٹر کے فون کو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو عدالت سے اجازت لینا ہو گی، جج کے سامنے جانا ہو گا، اس کے سامنے دستاویزات رکھنا ہوں گی کہ ہم اس شخص کا پیچھا کیوں کر رہے ہیں، اس کی نگرانی کیوں کر رہے ہیں، اور کیسے اس کے فون ٹیپ ریکارڈ کرنا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ جج دستاویزات کو دیکھے گا، آپ کے دلائل سُنے گا، اس کے بعد یا تو اجازت دے گا یا آپ کی درخواست مسترد کر دے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ کسی بھی سیاستدان یا انفرادی شخص کی فون کالز کو ٹیپ کرنے کا مغربی جمہوریتوں میں یہ ہی طریقہ رائج ہے، لیکن پاکستان میں ’پارلیمانی یا عدالتی نگرانی ہے ہی نہیں اور ایجنسیاں اس بارے میں خودمختار ہیں۔‘
عمر فاروق کے مطابق ان ریاستی اداروں کو پارلیمان یا عدلیہ کی جانب سے نگرانی یا سوال جواب کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔
’وہ خود فیصلہ کرتے ہیں، خود اسے نافذ کرتے ہیں، وہ خود ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ قومی سلامتی کو کس سے خطرہ ہے اور کس سے نہیں۔‘
تاہم اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایجنسیز سے ان کی مراد آئی ایس آئی اور آئی بی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت 27 یا 28 انٹیلیجنس ایجنسیاں قومی سطح پر کام کر رہی ہیں۔
تو پاکستان میں سیاستدانوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
پاکستان کے سویلین انٹیلیجنس کے ادارے اینٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے پاکستان میں فون ٹیپ کرنے کے سوال اور ماضی کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کام کرنے والی مختلف ایجنسیز ہیں جن کے اپنے اپنے اہداف ہوتے ہیں اور وہ ان کی اپنے اپنے حساب سے نگرانی کرتے ہیں۔
’قانونی طور پر ’سول ایکسچینجز‘ کو مانیٹر کرنے کا اختیار صرف آئی بی کے پاس ہے اور کسی اور ادارے کے پاس ایسا کرنے کا حق نہیں ہے اور یہ بھی صرف وزیر اعظم کی اجازت کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے اور یہی قانون ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات چیزیں بہت تیزی سے ہوتی ہیں اور کبھی کبھی صورتحال ایسے بھی ہو جاتی ہے کہ روزمرہ کے واقعات پر آئی بی کا ڈائریکٹر جنرل خود فیصلہ کر لیتا ہے تاہم اس کی توثیق وزیراعظم ہی کرتا ہے۔
فون ٹیپنگ کے بارے میں مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’آپ لینڈ لائن سے مجھ سے بات کر رہی ہیں۔ ہم ریکارڈنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن مجھے یہ جان کر بالکل بھی حیرت نہیں ہو گی اگر کوئی اور بھی اسے ریکارڈ کر رہا ہو۔‘
مسعود شریف کہتے ہیں کہ جہاں تک فوج، فضائیہ اور بحریہ کا تعلق ہے تو اُن کی اپنی اپنی انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں۔
پاکستانی سیاست کے منظرنامے کو دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ خفیہ ادارے یا اپنی مرضی سے یا حکومت وقت کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے سیاستدانوں کے فون ریکارڈ کرتے ہیں لیکن کیا اس سے ان اداروں کی اپنی کارروائی متاثر نہیں ہوتی؟
شاید اس کا جواب ہمیں صحافی منیر احمد کی کتاب ’پاکستان میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کا سیاسی کردار‘ سے مل جائے، جس میں وہ لکھتے ہیں: ’خفیہ سروس کے ادارے ریاست کی آنکھ اور کان ہیں لیکن جب ان اداروں کو سیاسی مخالفین کی جاسوسی پر لگا دیا جائے تو لامحالہ اداروں کی کارکردگی متاثر ہو گی۔‘













