بحریہ ٹاؤن کراچی: ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی اور پاکستانی جھنڈے کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمات درج

،تصویر کا ذریعہAajiz Jamali
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں سندھ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں سمیت بحریہ ٹاؤن کے خلاف سرگرم مقامی لوگوں اور ادیبوں پر دہشت گردی اور پاکستان کے جھنڈے کی توہین کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں۔
مقدمات کے اندراج کے بعد جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما صنعان قریشی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز کراچی میں تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں۔
سرکار کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں ایس ایچ او گڈاپ پولیس سٹیشن انسپکٹر اشرف جان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں سندھ یونائیٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، جئے سندھ محاذ، جئے سندھ قوم پرست پارٹی، قومی عوامی تحریک و دیگر قوم پرست تنظیموں نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا اور چھ جون کو پارٹی رہنما اور کارکن گاڑیوں میں ٹولیوں کی صورت میں بحریہ ٹاؤن کے سامنے ایم نائن پر دن ساڑھے بارہ بجے کے قریب پہنچا شروع ہوئے۔
مدعی کے مطابق مقررین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ’پاکستان نہ کھپے‘ کے نعرے لگوائے اور سرکاری اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، جو قابل گرفت جرم ہے۔
پولیس نے ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی سیکشن سات، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی (پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کرنا) اور کارِ سرکار میں مداخلت ڈالنے کے الزامات کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔
گذشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد کراچی پولیس نے 80 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی تھے۔ پولیس نے آج انھیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے بھی پولیس کے موقف سے ملتے جلتے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بحریہ میں بحیثیت سکیورٹی مینیجر تعینات ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، جلال محمود شاہ، صنعان قریشی، جان محمد جونیجو اور دیگر رہنما اپنے آٹھ سے دس ہزار کارکنوں کے ساتھ پہنچے اور اپنی تقاریر میں بحریہ کی زمین پر قبضہ کی دھمکیاں اور اپنے کارکنوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہے۔
مدعی کے مطابق مشتعل لوگوں نے بحریہ کے مین گیٹ کے باہر کنٹینروں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی اور خار دار تاروں کو کاٹ کر سکیورٹی سٹاف کو زد وکوب کیا اور آتش گیر مادہ پھینک کر مین گیٹ کو آگ لگا دی، اس دوران ہوائی فائرنگ کر کے دہشت پھیلائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAajiz Jamali
درخواست کے مطابق 400 سے 500 کے قریب لوگ اندر داخل ہو گئے جن میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، شیر لاشاری، جان شیر جوکھیو، مراد گبول، علی حسن جوکھیو، داد کریم، گل حسن کلمتی( کراچی کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف) ،جھانزیب کلمتی، جلال محمود شاہ، ریاض چانڈیو، سجاد چانڈیو، اسلم خیرپوری، ظفر حسین، زین شاہ، صنعان قریشی، یعقوب خاصخیلی، سلام سولنگی قدوس شیخ اندر داخل ہوئے اور کمرشل ایریا میں توحید اسکوائر کے نزدیک توڑ پھوڑ کی، آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگا دی اور سٹور روم اور اس کے اندر موجود گاڑیوں کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔
دوسری جانب جئے سندھ قومی محاذ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے چیئرمین صنعان قریشی کو گلشن حدید میں واقع گھر سے رینجرز اور سادہ کپڑے میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لے لیا ہے اور اس مبینہ گرفتاری کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں اختجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ہم ہر شخص کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن پرتشدد احتجاج برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ملک اور ریاست کے خلاف کوئی بیان دے گا تو وہ غلط ہے۔
پیر کے روز پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ہر کسی کو اختلاف کا حق ہے لیکن کسی کی ذاتی املاک کو نقصان پہچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ہنگامہ آرائی کب اور کیسے شروع ہوئی؟
اتوار کو بحریہ ٹاؤن کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران نامعلوم افراد نے مرکزی دروازے کے باہر اور اندر واقع تعمیرات کے علاوہ چند موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی تھی جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید شیلنگ کی تھی۔
یہ ہنگامہ آرائی احتجاجی دھرنا سپر ہائی وے سے بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے باہر منتقل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔
مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج سے قبل مظاہرین نے سپر ہائی وے پر دھرنا دیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی۔ بعدازاں سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما قادر مگسی نے پولیس حکام سے بات کی اور انھیں کہا کہ ’مظاہرین کو گیٹ کے سامنے دھرنا دینے دیا جائے تو وہ سپر ہائی کھول دیں گے‘ جس کے بعد انھیں دھرنے کی اجازت دے دی گئی۔
مرکزی دروازے کے سامنے احتجاج کے دوران نامعلوم افراد بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہو گئے اور وہاں توڑ پھوڑ شروع کر دی جس کے بعد جلسہ گاہ سے اعلان کیا گیا کہ ’شرپسندوں کا تعلق ان سے نہیں ہے اور پولیس انھیں حراست میں لے۔‘
توڑ پھوڑ کرنے والے ان افراد نے نہ صرف رکاوٹوں کو نذر آتش کیا بلکہ موقع پر موجود گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران بحریہ ٹاؤن کے اندر واقع کم از کم دو عمارتوں سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا تھا۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہنگامہ آرائی کرنے والوں کا تعلق سندھ ایکشن کمیٹی سے نہیں ہے۔ وہ پُرامن لوگ ہیں اور پُرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAajiz Jamali
انھوں نے کہا کہ ’اس پرامن احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے کچھ عناصر نے یہ اقدام کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ سندھ ایکشن کمیٹی نے ہی سپر ہائی وے پر واقع بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے سامنے اتوار کو آٹھ گھنٹے کے لیے دھرنے کا اعلان کیا تھا جس میں دیگر سیاسی جماعتوں اور علاقائی تنظیموں نے شرکت کی حامی بھری تھی۔
اس احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے جگہ جگہ چوکیاں بھی قائم کیں جبکہ احتجاج میں شامل تنظیموں کا الزام ہے کہ بعض مقامات پر قافلوں کو روکا بھی گیا، جس کی صوبائی حکومت نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی کے انتظامات کیے تھے۔
سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت رکاوٹیں پیدا کرتی تو یہ قوم پرست دوست یہاں تک کیسے پہنچتے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد کراچی پولیس نے بحریہ ٹاؤن کے سکیورٹی انچارج سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جبکہ ایک ایس ایچ او کو معطل کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن نے موقف دیا تھا کہ ’مقامی بااثر سیاسی افراد اور لینڈ مافیا مل کر‘ انھیں ’سیاسی و مالی مفادات کی خاطر‘ بلیک میل کر رہے ہیں۔
دھرنے میں کون شامل تھے اور احتجاج کا مقصد کیا تھا؟
اس دھرنے میں جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی، قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی، ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی تحریک، خالق جونیجو کی جئے سندھ محاذ سمیت عوامی ورکرز پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی، سندھ مزاحمت تحریک، ہاری کمیٹی، انڈجنس رائٹس اور دیگر جماعتیں شامل تھیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے قیام سے لے کر یہ سب سے بڑا احتجاج تھا، جس میں سندھ بھر سے سیاسی کارکنان کے علاوہ ادیب، شاعر و دانشور بھی شریک تھے۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’بحریہ ٹاؤن انتظامیہ مقامی گوٹھوں اور آس پاس کی زمینوں پر قبضہ گیری بند کرے اور سپریم کورٹ نے اس کو جتنی زمین دی ہے اس پر اپنا منصوبہ محدود کرے۔ باقی اس کی تمام کارروائی غیر قانونی و غیر آئینی ہے جس میں پیپلز پارٹی کی حکومت ان کی مدد گار ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ کہ ’آصف زرداری دیکھ لیں ایک طرف سندھ کا قومی و سیاسی کارکن، ادیب و دانشور ہے دوسری جانب ملک ریاض ہیں۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAtif Hussain
یاد رہے کہ مئی 2021 میں بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے ہیوی مشینری کے ہمراہ گبول گوٹھ سمیت دیگر آبادیوں کو مسمار کرنے کی کوشش کی تھی جس پر مقامی لوگوں نے مزاحمت کی اور اس دوران فائرنگ کی ویڈیوز سوشل میڈیل پر وائرل ہوئیں۔
سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ایک پریس کانفرنس میں اس صورتحال پر سوال کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیراعلیٰ کو تحقیقات کے لیے کہا ہے۔
حکومت سندھ کے احکامات پر تحصیل دار عبدالحق چاوڑ، پٹواری انور حسین، پٹواری حبیب اللہ ہوت اور ایس ایچ او گڈاپ شعور احمد بنگش کو معطل کیا گیا تھا۔
اس سارے معاملے پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے گذشتہ ماہ کہا گیا تھا کہ انھوں نے کوئی بھی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’کچھ بلیک میلرز یہ معاملات پیدا کر رہے ہیں‘ جبکہ ’بحریہ ٹاؤن نے اپنے قریب کے گوٹھوں میں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔‘
بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف عدالتوں میں ماضی کے مقدمات
سنہ 2019 میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی طرف سے زمین کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے پر اس کی انتظامیہ کو 460 ارب روپے قسط وار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
اہم بعد میں بحریہ ٹاؤن نے عدالت سے درخواست کی کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث انھیں ادائیگی میں مہلت دی جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ معشیت میں بہتری آ رہی ہے اور بحریہ ہاؤسنگ میں پلاٹوں اور مکانات کی پہلے سے بکنگ ہوچکی ہے۔
اسی طرح سندھ ہائی کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایک مدعی فیض محد گبول کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔











