وقار ذکا کے کرپٹو کرنسی سے پاکستان کا قرض اتارنے والے دعوے پر صارفین کے دلچسپ تبصرے

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’میں کرپٹو (کرنسی) کے ذریعے پاکستان کا قرض ادا کر سکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ عمران خان اپنا عہدہ چھوڑ کر مجھے ملک چلانے دیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بدعنوانی سے نفرت کرنے والے عمران خان پاکستانیوں کو بتائیں کہ آخر حل کیا ہے: آیا زیتون کی کاشت یا سیاحت۔ میں تمام سیاستدانوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی آئیڈیا ہے (تو بتائیں)؟‘

گذشتہ رات یہ دعویٰ وقار ذکا کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا گیا ہے۔ وقار ایک معروف ٹی وی ہوسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ’سوشل میڈیا سینسیشن‘ بھی مانے جاتے ہیں۔

اگرچہ اس سے قبل بھی وقار ذکا کرپٹو کرنسی کے متعلق سوشل میڈیا پر کئی دعوے کرتے آئے ہیں تاہم حالیہ ٹویٹ کو ان کے فالوورز کی جانب سے اب تک کی سب سے ’بولڈ موؤ‘ (جرات مندانہ اقدام) مانا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ماضی میں وقار ذکا تحریکِ انصاف اور وزیرِ اعظم عمران خان کے بڑے حامی کے طور پر سامنے آئے تھے لیکن حالیہ کچھ عرصے سے وہ عمران خان پر مسلسل تنقید کرتے آ رہے ہیں اور اب انھوں نے اپنے ہی پسندیدہ لیڈر کو چیلینج دے دیا ہے کہ ’کرسی چھوڑ کر مجھے ملک چلانے دیا جائے۔‘

وقار ذکا کے اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جس میں تحریکِ انصاف کے حامی اور مخالفین پیش پیش ہیں۔ لیکن اس سے پہلے آئیے جانتے ہیں کہ وقار ذکا ہیں کون اور ان کا پسِ منظر کیا ہے۔

وقار ذکا کون ہیں اور ان کا کرپٹو کرنسی سے کیا تعلق ہے؟

وقار ذکا کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز نجی چینل انڈس میوزک سے کیا تھا اور سب سے پہلے ایک وی جے کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔ بعد میں انھیں لیونگ آن دا ایج، ایسپوزڈ، کنگ آف سٹریٹ میجک، دیسی کڑیاں اور دا کرکٹ چیلنج جیسے شوز سے خاصی پذیرائی ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوشل میڈیا سینسیشن بن گئے۔

انھوں نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں پب جی پر عائد پابندی کے خلاف احتجاجی مہم بھی چلائی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کورونا وائرس کے دوران امتحانات کی منسوخی کے لیے طلبہ کی حمایت کرتے بھی نظر آئے ہیں۔

ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر ان کے تقریباً پانچ، پانچ لاکھ فالوورز ہیں اور فیس بک پر بھی 35 لاکھ سے زائد افراد ان کے مداح ہیں۔ سوشل میڈیا پر پذایرائی ملنے کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر متعدد ایسے پرائیوٹ گروپس بنا رکھے ہیں جہاں وہ گذشتہ چند سال سے لوگوں کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے طریقے بتاتے ہیں اور انھیں اس شعبے کی جانب آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اپنے پبلک اکاؤنٹس پر وہ روزانہ کرپٹو سے ہونے والے مالی فائدوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ آپ بھی میرا گروپ جوائن کریں اور پیسے کمائیں۔

انھی گروپس میں شامل ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان گروپس میں شمولیت، فیس دیے بغیر ممکن نہیں اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ وقار ذکا کا دعویٰ ہے کہ وہ گروپ کے ارکان کو کرپٹو کے متعلق معلومات اور اس کرنسی کے ذریعے پیسے کمانے کے گُر سکھاتے ہیں۔

فیس بک پر وقار ذکا کے مرکزی گروپ میں انٹری فیس 10 ڈالر (تقریباً 1500 روپے) ہے اور اس کے تقریباً 36 ہزار ارکان ہیں۔ یہ وہ گروپ ہے جس میں کرپٹو کے متعلق بنیادی باتیں شئیر کی جاتی ہیں اور صارفین کو کرپٹو ٹریننگ کورس والے گروپ میں داخلے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ کرپٹو ٹریننگ کورس کے گروپ میں انٹری فیس پہلے 17 ہزار روپے سالانہ تھی جسے اب 150 ڈالر یا 24 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

گروپ میں شامل شخص کا کہنا تھا کہ ان گروپس میں کرپٹو کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے افراد کی مثالیں موجود ہیں تاہم لوگوں کو نقصان بھی ہوتا ہے اور چند دن قبل خود وقار ذکا ایک ویڈیو میں بتا رہے تھے کہ کیسے انھیں تقریباً چار لاکھ ڈالر کا نقصان ہو گیا اور ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ رقم جلد واپس لائیں گے۔

انھوں نے بی بی سی کے ساتھ اوپر دیا گیا سکرین شاٹ بھی شیئر کیا جو اب سے چند گھنٹے قبل ایک گروپ میں خود وقار کی جانب سے پوسٹ کیا گیا ہے، اس پوسٹ میں وہ اپنے فالوورز کو کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’جس جس کو کرپٹو سے فائدہ ہوا وہ یہاں فیس بک گروپ میں لکھنے کے بجائے ٹویٹر پر #waqarzaka کو استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرے۔‘

اگرچہ وقار ذکا اکثر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں اپنی مہارت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں تاہم اس حوالے سے ان کی مہارت کے متعلق اب تک کوئی تصدیق شدہ معلومات موجود نہیں ہیں۔

کرپٹو کرنسی کا کاروبار دنیا بھر میں ہو رہا ہے جس میں اب تک چار ہزار سے زیادہ کرنسیاں آ چکی ہیں لیکن اس وقت ٹاپ پر بٹ کوائن ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سنہ 2018 میں تمام بینکوں کو تنبیہ کی تھی کہ بٹ کوائن سمیت تمام ورچوئل کرنسیوں کی مدد سے ہونے والے کسی بھی لین دین میں شامل ہونے سے گریز کریں اور اس سلسلے میں اپنے کھاتہ داروں کی بھی مدد نہ کریں کیونکہ اس قسم کے لین دین میں بہت زیادہ گمنامی ہوتی ہے اور اسے غیرقانونی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس قسم کے انتباہ کے باوجود پاکستان میں اس کرنسی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

رواں برس جنوری میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں کرپٹو کرنسی کے 'مائیننگ فارم' کو قبضے میں لے کر دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ مائیننگ فارم پہاڑی علاقے میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ اس سارے نظام کو اوکاڑہ سے آن لائن کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

اس کے علاوہ گذشتہ ماہ لاہور میں پولیس کی کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) نے دو غیر ملکیوں، میگرون ماریہ سپاری اور سٹیفن کے اغوا اور بٹ کوائن میں تاوان وصول کرنے کے کیس میں ملوث ملزم رانا عرفان کے علاوہ ان کے چھ ساتھیوں کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس کے مطابق رانا عرفان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے غیر ملکی جوڑے کو فلمی انداز میں اغوا کرنے کے بعد گن پوائنٹ پر ان سے بٹ کوائن میں ڈیڑھ کروڑ روپے کے قریب رقم تاوان کی صورت میں چھین لیے تھے اور واردات کی اگلی صبح اسلام آباد سے بذریعہ ترکی یورپ فرار ہو گیا تھا۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ سنہ 2013 کے الیکشن میں وقار ذکا نے کراچی کے حلقے این اے 253 سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی نشست کے لیے بھی انتخاب لڑا تھا، جس میں انھیں بری طرح شکست ہوئی۔

اس حلقے سے ڈالے گئے کل 211768 ووٹوں میں سے وقار کو صرف 31 ووٹ ملے تھے اور ان کی ضمانت ضبط کر لی گئی تھی۔

(یاد رہے پاکستان میں الیکشن کی شرائط کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے حلقے کے کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد میں سے 12 فیصد یا 12 سے کم ووٹ لے تو الیکشن کمیشن اس کی ضمانت ضبط کر لیتا ہے۔ یہ ضمانت الیکشن کمیشن کے پاس بطور فیس کے جمع کرائی جاتی ہے۔)

گذشتہ برس وقار نے ایک بار پھر سے سیاست کے میدان کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور ’ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان‘ کے نام سے اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل:

پاکستان میں اس وقت وقار ذکا #waqarzaka کا نام ٹاپ ٹرینڈ ہے اور ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر کافی دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ جیسا کے اوپر دیے گئے سکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے وقار ذکا کے پرائیوٹ گروپس کا حصہ بیشتر افراد کرپٹو کے ذریعے ہونے والے مالی فوائد کا ذکر کرتے نظر آ رہے ہیں۔

چونکہ ذکا وبا کے دوران امتحانات کی منسوخی کے لیے آواز بلند کرتے آئے ہیں، لہذا پاکستانی طلبا کی ایک بڑی اکثریت بھی ان کی حمایت میں ٹویٹس کر رہی ہے۔

تاہم کچھ افراد ذکا پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں چیلنج بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹویٹر پر موجود ایک ڈیٹا سائنسدان نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آپ کو کرپٹو کی الف ب بھی پتا نہیں ہو گی۔ اور آپ فیس بک پر مہینے کے پندرہ سو، دو ہزار لے کر بچوں کو چونا لگا رہے ہیں۔‘

انھوں نے وقار کو چیلنج کیا کہ آئیے کرپٹو کرنسی کے تکنیکی تجزیہ پر سپیس سیشن کرتے ہیں۔

اس سے اگلی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ’الف ب سے ان کی مراد ٹیکنیکل ورک فلو پر بات کرنا ہے کہ الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں. ٹرانزیکشنز مکمل کرنے کے لیے ہیش ریٹ کیا ہونی چاہیے اور نوڈز کو آپس میں کس لیول کی نیٹ ورکنگ چاہیے ہو گی اور الیکٹرسٹی کا ROIکیا ہو گا۔۔۔۔ لیکن موصوف قرضہ اتارنے کی بات کر رہے ہیں۔‘

ایک اور صارف کو جواب دیتے ہوئے انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’پوٹینشنل ہے، لیکن کرپٹو ٹریڈنگ کا ٹوٹل مارکیٹ کپیٹل تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر ہے اور ہمارا قرضہ 235 بلین ڈالر کے قریب ہے۔ جو کہ سارے کرپٹو کیپٹل کا دس، گیارہ فیصد بنتا ہے۔‘

تاہم ایسے افراد بھی ہیں جو وقار زکا کی حمایت کرتے اور کرپٹو کے ذریعے ہونے والے مالی فوائد کی تفصیلات ٹویٹ کر رہے ہیں۔

اور چونکہ ذکا تحریکِ انصاف کے حامی مانے جاتے ہیں لہذا پی ٹی آئی کے حامی اور اپوزیشن جماعتوں کے حمایتی بھی اس بحث میں پیش پیش ہیں۔

محسن نامی صارف نے لکھا ’میں تیزاب کا استعمال کرکے ہائیڈروجن بم بنا سکتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ تمام سائنس دانوں اور محققین کو عہدہ چھوڑ کر مجھے ٹیسٹ کرنے دینا ہو گا۔‘

صحافی اویس سلیم نے لکھا ’ایک چانس تو ان کو بھی دینا بنتا ہے۔ اگر ہم ملک ریاض اور وقار ذکا دونوں کو معاشی میدان میں اتار دیں، تو کیا عجب کہ ہم دوسرے ملکوں کو قرضے دینے کے قابل ہو جائیں؟‘

حمید بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ’بیشک ہمیں ایسے عظیم لوگوں کو آزماتے رہنا چاہیے۔ کبھی تو تُکہ لگ ہی جائے گا۔‘

تاہم اس ساری صورتحال سے لطف اندوز ہونے والوں کی بھی کمی نہیں۔

کامران بشیر نے لکھا ’آغا وقار کی پانی والی گاڑی کے بعد وقار زکا کی پاکستان کا قرض اتارنے کی سائنس۔‘

جہاں ایک صارف نے لکھا کہ 'ملک کی خدمت کرنے کے لیے وزیراعظم ہونا ضروری نہیں ہوتا‘ وہیں ایک اور کہتے نظر آئے کہ ’زکا بھائی آپ نے امریکہ والوں کو یہ آفر کی ہوتی تو انھوں نے آپ کو بنا بھی دینا تھا‘۔

جبکہ کچھ افراد یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ ’یہ کچھ زیادہ نہیں ہو گیا وقار بھائی؟‘

ڈیجیٹل کرنسی کیا ہے اور کہاں استعمال ہوتی ہے؟

ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی یا پےمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔

تاہم بٹ کوائن میں سنہ 2009 میں اس کے متعارف کرائے جانے کے بعد سے قیمتوں کا شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

کرپٹو کرنسی کی نیوز سائٹ کوائن ڈیسک کے اعدادوشمار کے مطابق بٹ کوائن نے رواں سال کا آغاز تقریباً 28 ہزار نو سو ڈالر سے کیا تھا۔

پھر جنوری میں ہی اس کی قمیت 40 ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ لیکن جنوری کے آخر میں اس میں گراوٹ شروع ہوئی اور مہینے کے اختتام پر اس کی قمیت گر کر 30 ہزار امریکی ڈالر پر جا پہنچی۔

اس میں پھر تیزی آئی اور 16 فروری کو اس نے 50 ہزار کا ہندسہ عبور کر لیا اور ترقی کی رفتار پر گامزن رہتے ہوئے فروری میں ہی بٹ کوائن نے 58 ہزار امریکی ڈالر کی ریکارڈ قیمت حاصل کر لی۔ اور اس وقت ایک بٹ کوائن کی قیمت 55000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

شانگلہ میں جس مائیننگ فارم کو قبضے میں لیا گیا اس فارم میں ڈیجیٹل مشینیں نصب تھیں۔ یہاں ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی کے 65 یونٹس نصب تھے اور ہر یونٹ کے بارہ چینل تھے۔

یعنی اس فارم سے 780 چینلز کام کر رہے تھے جن کے لیے درکار بجلی مقامی سطح پر نصب ٹربائن سے حاصل کی جا رہی تھی۔

ان مشینوں پر ڈیجیٹل کرنسی بنائی جاتی ہے اور پھر ویب سائٹس پر فروخت کے لیے رکھ دی جاتی ہے۔ اس میں ملوث افراد یہ فروخت بھی کرتے ہیں اور پھر اس پر کمیشن بھی وصول کرتے ہیں۔