کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والا دھماکہ خودکش حملہ تھا: وزیر داخلہ شیخ رشید

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ گذشتہ روز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نجی ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والا حملہ خودکش تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’خودکش حملہ آور ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی کے اندر ہی بیٹھا رہا۔ حملہ آور کی فی الحال شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم فرانزک کے لیے رپورٹس بھیج دی گئی ہیں۔‘

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے زور دار دھماکے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ گیارہ کے زخمی ہوئے تھے۔ وزیر داخلہ کے مطابق فی الحال زخمی ہونے والے چھ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو مزید کارروائی کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے مگر پاکستان کی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل طور پر چاق و چوبند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ’دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں تھا۔‘ سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے ابتدا میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی تاہم بعدازاں ایک زخمی بھی دم توڑ گیا تھا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے پانچوں افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں سرینا ہوٹل کے فرنٹ آفس مینیجر اور پولیس کے ایک کانسٹیبل بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں سی فور کیٹیگری کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ چین کے سفیر کوئٹہ میں کئی دنوں سے موجود ہیں اور محفوظ ہیں۔ ’آج انھوں نے سٹاف کالج سے خطاب بھی کیاگ ہے۔

یہ دھماکہ ایک ایسے موقع پر ہوا تھا جب چین کے سفیر کوئٹہ میں موجود ہیں تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت چین کے سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے بلکہ کوئٹہ کلب میں تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ ان کی چینی سفیر سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کے عزائم بلند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چینی سفیر نے بتایا ہے کہ وہ اپنا کوئٹہ کا دورہ مکمل کر کے جائیں گے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اظہر اکرام نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرینا ہوٹل میں پولیس کی سکیورٹی بھی موجود ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کا ایس ایچ او بھی دھماکے کے وقت ہوٹل کے اندر موجود تھا۔ ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

سرینا ہوٹل کوئٹہ کا واحد فائیو سٹار ہوٹل

سرینا ہوٹل کوئٹہ کا واحد فائیو سٹار ہوٹل ہے اور جو ملکی اور غیر ملکی مہمان کوئٹہ آتے ہیں ان کی بڑی تعداد سرینا ہوٹل میں رہائش اختیار کرتی ہے۔

سیرینا ہوٹل کوئٹہ کے ہائی سکیورٹی زون میں واقع ہے جس کے سامنے کوئٹہ کینٹونمنٹ، ساتھ میں بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان ہائی کورٹ واقع ہے۔

وزیر اعلیٰ کی مذمت

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے اپنی بزدلانہ کارروائیوں کے لیے مقامی ہوٹل کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔