بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں اضافے کی وجہ ایف اے ٹی ایف شرائط یا کچھ اور؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
جاپان میں کاروبار کرنے والے ملک اللہ یار خان کبھی حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بھی پاکستان میں اپنے خاندان کے لیے رقم بھیجتے تھے تاہم انھوں نے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجنے کا سلسلہ ترک کر دیا ہے اور اب بینکنگ چینل کے ذریعے وہ پاکستان میں مقیم اپنے خاندان کو اخراجات کے لیے رقم بھیجتے ہیں۔
جاپان میں کاروباری فرم فنانس انٹرنیشنل کے ایم ڈی ملک اللہ یار کے مطابق بینکوں کی جانب سے دی گئی سہولیات کی وجہ سے اب ان کے لیے پاکستان رقم بھجوانا آسان ہو گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق حوالے اور ہنڈی کےذریعے پاکستان رقم بھجوانے کا کام مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوا تاہم اب بڑی تعداد میں جاپان میں مقیم افراد پاکستان قانونی ذرائع سے رقم بھیجتے ہیں۔
ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں گروسری سٹور پر کام کرنے والی کنول عظیم پہلے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے ملک رقم بھیجتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں مقیم کچھ لوگ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجنے کا کام کرتے ہیں تاہم اب اس ذریعے سے پاکستان رقم بھیجنے کا کام کم ہو گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خود حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے رقم پاکستان بھیجتی تھیں تاہم اب انھوں نے بینکنگ چینل کے ذریعے یہ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
کیلیفورنیا (امریکہ) میں کام کرنے والے اعظم شکیل نے کہا کہ 99 فیصد پاکستانی قانونی ذرائع سے رقوم پاکستان بھیج رہے ہیں اور صرف ایک فیصد کے قریب ایسے لوگ ہیں جو حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے یہ رقم بھیجتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے قوانین میں سختی سے زیادہ امریکی قوانین اس سلسلے میں زیادہ سخت ہیں جو غیرقانونی ذرائع سے رقم بھیجنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان میں مقیم اللہ یار خان اور ناروے میں کام کرنے والی کنول عظیم اور امریکہ میں کام کرنے والے اعظم شکیل پاکستان میں مقیم اپنے خاندانوں کو جو رقم بھیجتے ہیں وہ ترسیلات زر کہلاتی ہیں جو پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ میں اہم کردار اد کرتی ہیں۔
پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی ان رقوم میں گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں تسلسل سے ہر مہینے دو ارب ڈالر یا اس سے زائد کی رقم پاکستان میں موصول ہوئی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں مقیم خاتون ہما مجیب بیرون ملک سے آنے والی رقم خود وصول کرتی ہیں۔ ہما کے شوہر جرمنی میں کام کرتے ہیں اور کچھ عرصہ قبل پاکستان سے جرمنی گئے۔
ہما مجیب نے بتایا کہ ان کے شوہر کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم بینک کے ذریعے آتی ہے اور اس بینک کے بھیجے جانے سے لے کر وصول کرنے کا عمل اطمینان بخش ہے اور انھیں بینک میں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی ان کے شوہر کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے آئی یا انھیں کسی نے اس ذریعے سے رقم وصول کرنے کی کوئی پیش کش کی تو انھوں نے کہا ابھی تک ایسی کوئی پیش کش نہیں ہوئی۔
پاکستان میں کرنسی ایکسچینج کے کاروبار اور معاشی امور پر نظر رکھنے والے افراد کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے میں کمی اور بینکنگ چینل کے ذریعے آنے والی رقم میں اضافے کی وجہ سے ترسیلات زر مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
انھوں نے اسے حکومتی قوانین میں سختی سے منسلک کیا ہے جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے متعارف کی گئی ہے تاکہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکے۔
پاکستان میں بیرون ملک سے رقوم بھیجے جانے میں کتنا اضافہ ہوا
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں رقوم بھیجنے میں اس سال کے شروع سے ہی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عارف حبیب لمٹیڈ میں معاشی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے بتایا کہ ترسیلات زر میں اضافہ موجودہ مالی سال کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا اور گزشتہ مالی سال کے آخری مہینے میں بھی دو ارب ڈالر سے زائد کے ترسیلات زر پاکستان میں آئے تھے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر مسلسل نویں مہینے میں فروری 2021 میں 2 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔
فروری 2021 میں کارکنوں کی ترسیلات 2.266 ارب ڈالر رہیں، جو کہ لگ بھگ گذشتہ مہینے کی ترسیلات کے برابر ہے جبکہ فروری 2020 کے مقابلے میں یہ 24.2 فیصد زائد ہے۔
جولائی تا فروری مالی سال 21 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات 18.7 ارب ڈالر تک جا پہنچیں جو گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24.1 فیصد زائد ہے۔
جولائی تا فروری مالی سال 21 کے دوران کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ سعودی عرب (5.0 ارب ڈالر)، متحدہ عرب امارات (3.9 ارب ڈالر)، برطانیہ (2.5 ارب ڈالر) اور امریکہ (1.6 ارب ڈالر) سے موصول ہوا۔
ترسیلات زر میں اضافے کی کیا وجہ ہے؟

،تصویر کا ذریعہSana Taufiq
پاکستان کے مرکزی بینک نے ملک میں آنے والی ترسیلات زر میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے اس متواتر اضافے میں جن چیزوں نے مدد دی ان میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی آمد کی حوصلہ افزائی کی خاطر حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے کیے گئے پالیسی اقدامات، کورونا کی وبا کے باعث سرحد پار سفر کا محدود ہونا، وبا کے دوران طبّی اخراجات اور بہبودی رقوم کی پاکستان کو منتقلی، اور بازارِ مبادلہ میں استحکام کی صورتِ حال شامل ہیں۔
تجزیہ کار ثنا توفیق نے اس سلسلے میں بتایا کہ غیر قانونی چینل کے خلاف اقدامات کی وجہ سے قانونی چینل سے ترسیلات زر کے آنے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
انھوں نے کہا اس کے ساتھ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحت بند ہوئی تو بیرون ملک پاکستانی جو پیسے سیر و تفریح پر خرچ کرتے تھے وہ بھی انھوں نے پاکستان بھیجے۔ ثنا کا کہنا ہے کہ ’شروع شروع میں یہ تاثر تو ٹھیک تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اپنی بچتیں اور نوکریوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جمع پونچی پاکستان بھیجی جس نے ترسیلات زر میں اضافہ کیا اور ایسا ہوا بھی تھا تاہم تسلسل سے اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے علاوہ دوسرے اقدامات نے ترسیلات زر میں اضافے کو سہارا دیا۔‘
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ حکومتی اور سٹیٹ بینک کے اقدامات نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے ترسیلات زر بینکنگ چینل کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا ’جب بھی قانونی چینل کے علاوہ کسی دوسرے چینل سے پیسہ آتا ہے تو جب اسے استعمال کرنے جاتے ہیں تو اس پیسے کا ذریعہ پوچھا جاتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔‘
’اس سلسلے میں فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ فعال ہے اور اس حوالے سے کام کر رہا ہے اور ٹرانزیکشنز کی نگرانی کرتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے سوچا کہ قانونی جواب دہی سے بچنے کے لیے بیکنگ چینل کی طرف چلے جانا بہتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف اے ٹی ایف کی شرائط نے کتنی مدد فراہم کی؟
ترسیلات زر میں متواتر اضافے کی کیا ایک وجہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط ہیں جنھیں پورا کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ثنا توفیق نے کہا ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے ایسے اقدامات لیے تاکہ اس کے ذریعے غیر قانونی ذرائع سے پاکستان سے باہر اور ملک میں آنے والی رقم پر نظر رکھی جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے تحت غیرقانونی ذرائع یعنی حوالہ اور ہنڈی اور سے آنے والی رقم کی حوصلہ شکنی ہوئی کیونکہ حکومتی اداروں کی نگرانی میں اب یہ ممکن نہیں رہا۔
انھوں نے بتایا کہ ’ان شرائط کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ اور ’نو یور کسٹمر‘ کے تحت رقم کہاں سے اور کس طرح آ رہی ہے اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ثنا نے کہا پاکستان کی جانب سے اب تک جتنی شرائط پوری کی گئی ہیں اس میں منی لانڈرنگ روکنا بھی شامل رہا ہے جس نے ترسیلات زر کو قانونی چینل پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔
ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ حوالہ اور ہنڈی آج سے چالیس پچاس برس پہلے غیر قانونی ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا تاہم گزشتہ بیس پچیس برس میں اس پر نگرانی شروع کی گئی اور اسے غیر قانونی ذریعہ قرار دیا گیا۔
انھوں نے کی ایف اے ٹی ایف کی شرائط میں یہی تجویز کیا گیا کہ رقوم کے ذرائع کی نشاندہی کی جائے اور اس پر پاکستان نے عمل کیا تاکہ گرے لسٹ سے نکلا جا سکے۔
ظفر پراچہ نے کہا انھوں نے ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں یہ کہا کہ لوگوں کو آگاہی نہیں تھی کہ حوالہ اور ہنڈی سے رقم بھیجنا ایک جرم ہے جب آگاہی بڑھی اور پھر ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی وجہ سے سختیاں بڑھیں تو اب لوگوں نے قانونی ذرائع یعنی بینکنگ چینل کے ذریعے بیرون ملک سے پاکستان رقم بجھوانا شروع کر دی ہے۔
بیرون ملک سے آنے والی رقوم کے بارے میں ظفر پراچہ نے کہا کہ حکومتی ادارے تو بعد میں فعال ہوتے ہیں اس سے پہلے ایکسچنیج کمپنیاں خود مشکوک ٹرانزیکشن پر متحرک ہوتی ہیں اور وہ متعلقہ حکومتی اداروں کو بتاتی ہیں کہ فلاں ٹرانزیکشن مشکوک ہے۔
ترسیلات زر میں اضافے کا رجحان کیا برقرار رہے گا؟
ترسیلات زر میں آنے والے مہینوں میں اضافے پر بات کرتے ہوئے ثنا توفیق نے ان میں اضافے کی امید ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا اس مالی سال کے باقی چار مہینوں میں بھی یہ اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے جس کی وجہ رمضان اور عید ہے۔
انھوں نے کہا اب تک ملک اٹھارہ ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر وصول کر چکا ہے اور اگر یہی رجحان برقرار رہتا ہے تو انھیں امید ہے کہ ترسیلات زر پورے سال 28 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو ملک کے کرنٹ اکاونٹ کے لیے بہت بہتر رہے گا کیونکہ برآمدات اور درآمدات میں فرق سے پیدا ہونے والا تجارتی خسارہ کرنٹ اکاونٹ کو متاثر کر سکتا ہے جو ترسیلات زر کے ذریعے آنے والے ڈالرز کے ذریعے مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔
ثنا نے کہا یہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو بھی استحکام فراہم کرے گا تو اس کے ساتھ آنے والے دنوں میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درآمد کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بھی کسی حد قابو میں رکھنے میں مدد فراہم کریں گا۔
ظفر پراچہ نے بھی آنے والے دنوں میں ترسیلات زر میں اضافے کے رجحان کے برقرار رہنے کی امید کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا اب ایسے حالات نہیں ہیں کہ لوگ غیر قانونی ذرائع سے رقوم پاکستان بھیجیں۔ جب قانونی چینل سے رقم آئے گی تو لازمی طور پر وہ ریکارڈ کا حصہ ہو گی جو اضافہ کا سبب بنے گی۔










