آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عورت مارچ 2021: رنگا رنگ پلے کارڈز، پوسٹرز اور فلک شگاف نعروں میں خواتین کی ریلیاں
پاکستان کے مختلف شہروں میں پیر کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ پریس کلب سے شروع ہو کر ڈی چوک پہنچا اور شام کے وقت اختتام پذیر ہوگیا۔
اس کے علاوہ کراچی میں فریئر ہال سے میٹروپول تک اور لاہور میں پریس کلب سے پی آئی اے کی عمارت تک مارچ منعقد کیے گئے۔
کراچی میں میٹروپول کے مقام پر مارچ کے شرکا کی جانب سے مختصر دھرنا دیا گیا جو بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوگیا۔
نامہ نگار سارہ عتیق کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے عورت آزادی مارچ میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے علاوہ مرد بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
گذشتہ سال کے مارچ کے دوران ہونے والے تصادم کے واقعے کے بعد اس بار سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ منتظمین کی جانب سے رضا کار تعینات کیے گئے اور ہدایات آویزاں کی گئیں کہ 'غیر متعلقہ افراد کو مارچ کا حصہ بننے کی اجازت نہیں۔۔۔ صرف بیج والے میڈیا نمائندے اس کی کوریج کر سکتے ہیں اور شرکا سے بات کرسکتے ہیں۔'
بارش کی وجہ سے مارچ کے شرکا کی تعداد میں کمی دیکھی گئی لیکن جوں جوں مارچ ڈی چوک کی طرف بڑھتا گیا، شرکا کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے زیر اہتمام خواتین واک کا مقام پریس کلب روڈ سے تبدیل کر کے میلوڈی فوڈ سٹریٹ کر لیا گیا جس کی وجہ پریس کلب روڈ کی بندش بتائی گئی۔
لاہور میں عورت مارچ کے شرکا پریس کلب سے پی آئی اے کی عمارت تک پہنچے جبکہ سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں عورت مارچ کا آغاز تین بجے فریئر ہال پر ہوا جہاں سے شرکا نے میٹروپول تک مارچ کیا۔
کراچی سے بی بی سی کے محمد نبیل کے مطابق منتظمین نے شرکا سے آپس میں چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ میں وزیر برائے ترقی نسواں شہلا رضا کے زیر اہتمام سندھ اسمبلی میں چھوٹے پیمانے پر ایک مارچ کیا گیا جس میں اراکین اور سرکاری ملازمین نے شرکت کی۔
محمد نبیل کے مطابق اس مارچ میں منتظمین کی تاخیر سے شرکت کے باعث زیادہ لوگ جمع نہ ہوسکے۔
اسلام آباد میں عورت مارچ کے لیے این او سی کیوں نہیں جاری ہوا؟
اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ شروع ہونے سے قبل بھی منتظمین کو پریس کلب کے باہر ریلی منعقد کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔
البتہ انتظامیہ کے مطابق ان کی جانب سے عورت مارچ کا این او سی مسترد نہیں کیا گیا اور کہا گیا تھا کہ وہ مارچ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔
اسلام آباد میں عورت مارچ کی منتظم طوبیٰ سید کے مطابق اسلام آباد میں عورت مارچ منعقد کرنے کے لیے انھوں نے چھ ہفتے قبل نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے لیے درخواست دی تھی تاہم باضابطہ طور پر کوئی این او سی جاری نہیں ہوا۔
انھوں نے گذشتہ برس عورت مارچ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’پچھلے سال ملک کے دارالحکومت میں دن دہاڑے ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔ بتائے یہ ملک کس کا ہے؟‘
تاہم اجازت نامہ نہ ملنے کے باوجود اسلام آباد عورت مارچ کی منتظمین نے مارچ کے شرکا کو دوپہر ایک بجے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پہنچنے کی ہدایت کی تھی اور شرکا نے وہیں پر عورت مارچ کا انعقاد کیا۔
یاد رہے کہ پیر کو اسی مقام پر کئی دیگر مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا تھا جن میں جماعتِ اسلامی حلقہ خواتین کی جانب سے خواتین واک قابلِ ذکر تھی۔
دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ’اسلام آباد عورت مارچ کے منتظمین کو تین بار این او سی دینے کی پیشکش کی گئی تاہم انھوں نے شرائط و ضوابط مسترد کرنے کے ساتھ ان مقامات (جناح سٹیڈیم اور ایکسپریس چوک) پر بھی آمادگی ظاہر نہیں کی جس کی انھیں پیشکش کی گئی تھی۔‘
انھوں نے بی بی سی کی آسیہ انصر کو بتایا کہ ’وہ جس جگہ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں وہ جامعہ محمدیہ کے بالکل سامنے ہے۔ پچھلی مرتبہ بھی یہاں پر ہنگامہ آرائی ہو چکی ہے اور تین اور گروپس نے بھی اسی جگہ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اس لیے مکمل سکیورٹی دینا مشکل ہے۔ لہٰذا ہم نے اس مقام کے علاوہ ان کی پسند کے کسی اور مقام کی پیش کش بھی کی تھی تاہم انھوں نے اسی جگہ پر اصرار کیا۔‘
عہدیدار کے مطابق جن تین دیگر گروپوں نے اسی مقام پر مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے ان میں سے کسی کو بھی این او سی نہیں دیا گیا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’یہ نہیں کہہ سکتے کہ این او سی مسترد کر دیا گیا ہے۔ ہم سے سکیورٹی اور انتظامات کی درخواست کی گئی ہے جو ہم فراہم کر رہے ہیں اور پولیس، مجسٹریٹ اور رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔‘
پاکستان میں سوشل میڈیا پر اسلام آباد میں عورت مارچ کا اجازت نامہ نہ ملنے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا اور بیشتر صارفین اسلام آباد کی انتظامیہ اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری پر بھی تنقید کرتے نظر آئے تاہم کئی افراد اس فیصلے سے خوش بھی نظر آئے۔
مصنفہ ماریہ رشید نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 16 اور 19 میں خواتین کو پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کی اجازت دی گئی ہے۔
انھوں نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک این او سی کیوں نہیں دیا گیا؟ ’کیا اسلام آباد میں رہنے والی عورتیں اس ملک کی شہری نہیں ہیں؟‘
انھوں نے مزید پوچھا کہ بتایا جائے کہ ’حکومت کو کون بلیک میل کر رہا ہے؟‘
مقصود عاصی نے ڈی سی اسلام آباد کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’کسی کا حق کیسے مار کے بیٹھ سکتے ہیں آپ؟؟‘
انوشے اشرف نے لکھا کہ ہر سال عورت مارچ منعقد کرنے کے لیے انتظامیہ کو اسی طرح جوتیاں رگڑنی پڑتی ہیں۔
کئی افراد انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ اسی شہر میں مذہبی جماعتوں کو تو باآسانی مظاہروں اور احتجاج کی اجازت مل جاتی ہے لیکن پرامن عورت مارچ کو اجازت نہیں دی جا رہی۔
صحافی ابصا کومل نے لکھا ’افسوس! لگتا ہے حیا مارچ والی خواتین کی دھمکیوں کے آگے اسلام آباد انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، اسی لیے عورت مارچ انتظامیہ کو این او سی جاری نہیں کیا جارہا۔‘
ابصا کا کہنا تھا ’جہاں سال میں ایک بار اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنا بھی ممکن نہ ہو وہ گھٹن زدہ معاشرہ نہیں ہے تو کیا ہے؟‘
دوسری جانب کئی افراد اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے عورت مارچ کی اجازت نہ ملنے پر خوش دکھائی دیتے ہیں اور اس کے خلاف #ForeignFundedAuratMarch کا ٹرینڈ کر رہا ہے۔
کئی افراد اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو عورت مارچ کا این او سی جاری نہ کرنے پر شاباش دیتے نظر آ رہے ہیں۔
اسی حوالے سے محمد شہریار نے لکھا کہ ’میں ڈی سی اسلام آباد کی تعریف کرتا ہوں کہ انھوں نے عورت مارچ کا این او سی جاری نہیں کیا کیونکہ وہ (عورت مارچ کے حمایتی) صرف ’فتنہ‘ ہیں اور بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ حقوق نسواں کا ایجنڈا آزادی کے نام پر مسلمان خواتین کی سوچ کو گمراہ کرنا ہے، لیکن ہمیں ان کے اصلی چہروں اور ان ’فارن فنڈڈ مارچ‘ کے پیچھے لوگوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔