آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سینیٹ انتخابات: وزیرِ اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب، الیکشن کمیشن پر تنقید، اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے اپوزیشن کی کوشش تھی کہ سینیٹ الیکشن میں حکومت کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور یہ ثابت کریں کہ اسمبلی میں تحریکِ انصاف اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔
جمعرات کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد یہ تھا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کو استعمال کرتے ہوئے اُن کی حکومت پر ’عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن اس سے ’مجھے بلیک میل کرنا چاہتی تھی تا کہ میں انھیں این آر او دوں۔‘
اپنے خطاب میں انھوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سیکریٹ بیلٹ کروا کر ’مجرموں کو بچا لیا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ وہ سنیچر کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔
اُنھوں نے اپنے ارکانِ اسمبلی سے کہا کہ وہ اس ووٹنگ کے دوران اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر حکومت کے امیدوار اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں شکست ہوئی۔
بظاہر پاکستان تحریکِ انصاف کے اپنے کئی ارکانِ قومی اسمبلی نے حفیظ شیخ کو ووٹ دینے سے گریز کیا ہے جس پر حکمران جماعت میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے سینیٹ میں اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے ووٹ خریدے ہیں۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج اپنے اپنے بیانات میں اس الزام کی بالواسطہ طور پر تردید کی ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید کیا کہا؟
عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کو دیکھ کر معلوم ہو سکتا ہے کہ ملک کے مسئلے ادھر سے آتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک شخص رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکانِ اسمبلی اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں، تو یہ کیسی جمہوریت ہے۔
انھوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت میں دونوں جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے مگر جب پی ٹی آئی نے یہ بیڑا اٹھایا تو اس کا ساتھ نہیں دیا گیا۔
انھوں نے براہِ راست الزام عائد کیا کہ سینیٹ کی اسلام آباد سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کو جتوانے کے لیے پیسہ چلایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی پوری کوشش تھی کہ پیسے دے کر ہمارے لوگوں کو ساتھ لائیں۔
’ان کو خوف ہے کہ عمران خان ہماری کرپشن پر آگے نہ بڑھے۔ یہ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے تھے کہ مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹکا دیں۔‘
وزیرِ اعظم عمران خان نے کسی رکنِ قومی اسمبلی کا نام لیے بغیر کہا کہ انھیں ان کے ارکانِ اسمبلی نے بتایا ہے کہ انھیں فون کر کے (سینیٹ میں ووٹ فروخت کرنے کے لیے) رقومات کی پیشکش کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید
وزیرِ اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ ادارے نے ملک کی جمہوریت اور اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے۔
’جب آپ کو عدالت نے موقع دیا تھا تو آپ نے کیوں سیکریٹ بیلٹ کی حمایت کی۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ آج پتا لگانا چاہتے ہیں کہ ہمارے کون لوگ بکے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپر ناقابلِ شناخت رکھنے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے صدر عارف علوی کی جانب سے دائر کیے گئے مشاورتی ریفرینس پر رائے دی تھی کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کروانے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹ مروجہ قوانین کے تحت سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے ہی کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔
’کیا وجہ تھی کہ 1500 بیلٹ پیپرز پر بارکوڈ نہیں لگایا گیا۔ آپ نے ملک کی جمہوریت اور اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے ان مجرموں کو بچا لیا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو معلوم نہیں کہ اس کی تحقیقات کرنا اُن کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئین چوری کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
بظاہر اُن کا اشارہ الیکشن کمیشن کے اس مؤقف کی جانب تھا کہ آئین سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی اجازت نہیں دیتا۔
’حکومت کو شکست نظر آ رہی تھی‘
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ نہیں چلا بلکہ مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ چلا ہے۔
انھوں نے نوشہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اوپن بیلٹ اور تمام بھاگ دوڑ اس لیے تھی کہ ان کو اپنی شکست نظر آ رہی تھی۔
اُنھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بل بوتے پر سینیٹ کی ایک نشست بھی نہیں جیت سکے۔
مریم نواز کا کہنا تھا ان کی پارٹی کے تمام ارکان نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی جانتے ہیں کہ عمران خان کی یہ حکومت کی پہلی اور آخری مرتبہ ہے۔
’پہلے پنجاب کو بچانا ہے‘
اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ میں پی ڈی ایم کے کامیاب امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم نے الیکشن پیسوں کی بنیاد پر نہیں لڑا۔
انھوں نے کہا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا وہ یہ نہیں بتا سکتے اور کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کے خلاف ووٹ دینے والوں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اب پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی کہ عدم اعتماد کی تحریک کب اور کہاں لانی ہے۔
اُنھوں نے اشارہ دیا کہ بظاہر عدم اعتماد کی تحریک پنجاب میں بھی لائی جا سکتی ہے، جس کے بارے میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں ہمیں پہلے پنجاب کو بچانا ہے۔'
بلاول کا کہنا تھا کہ انھیں پتا ہے کہ کس نے ضمیر کے مطابق اور کس نے عمران خان اور حفیظ شیخ کے 'بغض' میں ووٹ دیا ہے۔
'آپ کو نہیں پتا کہ کون آپ کے ساتھ بیٹھا ہے اور اُن کا دل ہمارے ساتھ ہے۔'
بعد ازاں اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ چیئرمین کے مشترکہ امیدوار کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ چیئرمین کے لیے امیدوار ہوں گے، تاہم آج جب یہ سوال مریم نواز کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے سوال پوچھنے والے صحافی سے کہا کہ وہ اس حوالے سے جلد ہی جان جائیں گے۔