سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہی ہوں گے، الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کی رائے پر عملدرآمد کا اعلامیہ

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا کہنا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث 3 مارچ کو (یعنی کل) ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں آئین اور قانون کے مطابق طریقۂ کار، یعنی خفیہ رائے شماری، اختیار کی جائے گی۔

یکم مارچ کو الیکشن کمیشن کے اجلاس کے حوالے سے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے پر عملدرآمد کے لیے ای سی پی نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سپیشل سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی اور پنجاب کے جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل شامل ہیں۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ تین رکنی کمیٹی آئندہ چار ہفتوں میں تجاویز پیش کرے گی کہ سینیٹ کے انتخابات میں ٹیکنالوجی کیسے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں نادرا، ایف آئی اے، اور آئی ٹی کی وزارت سے بھی مدد لی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پیشہ ورانہ اور تکنیکی اداروں کی معاونت درکار ہوگی۔ 'کمیشن وہ تمام اقدامات کر رہی ہے تاکہ (کل) سینیٹ کے انتخابات میں بدعنوانی کو روکا جاسکے۔'

یاد رہے کہ صدر مملکت نے اوپن بیلٹنگ کے لیے سپریم کورٹ سے رائے مانگی تھی اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط ایک صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا تھا۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ایوان بالا کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری برقرار رکھنے مگر ووٹنگ کا عمل شفاف بنانے کی رائے دی تھی۔

حکومت اور اپوزیشن کی الگ الگ تشریح

سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹنگ کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے گذشتہ روز خفیہ رائے شماری برقرار رکھنے کی رائے دی تھی۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے ہی سپریم کورٹ کی اس ’تاریخی‘ رائے کا خیر مقدم کیا گیا اور دونوں فریق اسے اپنے، اپنے حق میں ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے سے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے جس میں الیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے حکم دیا گیا ہے اور یہ ریمارکس دیے گئے ہیں کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔

جبکہ دوسری طرف حزب مخالف کی جماعتوں نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل اسے حکومت کی ایک بڑی شکست قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے جو سوال بھیجا گیا تھا اس کا جواب نفی میں ملا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کی رائے

یہ فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سنایا ہے اور اس میں جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت ہوں گے اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے شفاف بنایا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہوں گے۔ 'سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔۔۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور کرپٹ باتوں سے الیکشن کو محفوظ بنائے۔'

عدالت نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کے لیے تمام اقدامات کر سکتا ہے اور انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

'تمام ادارے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون کے پابند ہیں۔۔۔ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔'

اس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتا ہے جبکہ تمام ادارے الیکشن کمیشن کے پابند ہیں۔

فیصلے کے مطابق 'بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں ہے۔۔۔ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنا سکتا ہے۔‘

حکومتی ردعمل: ’خفیہ رائے شماری تا قیامت نہیں‘

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ 'سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، خیر مقدم کرتے ہیں۔

'عدالت کی جانب سے بیلٹ کی سیکریسی دائمی نہ ہونے کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تین مارچ کے سینٹ انتخابات کے لیے عدالت نے واضح طور الیکشن کمیشن کو ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے کا کہہ دیا ہے۔'

حکومت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی رائے سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ آئندہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ کی رازداری حتمی نہیں ہوگی۔ اسی طرح حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے سپریم کورٹ کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ رائے شماری تا قیامت نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب اس فیصلے سے 'سینیٹ انتخاب میں ووٹ کی نشاندہی ہو سکے گی، سیاسی جماعتوں کو صوبائی اسمبلیوں میں ان کی سیٹوں کے تناسب سے سینیٹ میں نمائندگی ملے گی اور شفاف الیکشن یقنی بنایا جائے گا۔'

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 'سپریم کورٹ نے کرپشن کے خاتمے، ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی اور اراکین کے لین دین کے معاملات کو ختم کرنے کے مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے۔

'مکمل خفیہ رائے دہی کا اصول نہیں مانا، الیکشن کمیشن کو کہا گیا ہے کہ وہ شفاف انتخابات کے لیے اقدامات کرے جس میں ٹریسیبل بیلٹ شامل ہے۔‘

مریم نواز: ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟

حزب اختلاف کی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی رائے کو سینیٹ الیکشن سے قبل حکومت کی بڑی شکست قرار دیا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ آئین، ووٹ چوروں کی چالبازیوں، بدنیتی پہ مبنی ریفرنسوں اور سازشی آرڈینینسوں سے بہت بالاتر ہے۔

'اب کھمبے نوچتی کھسیانی بلیاں ٹیکنالوجی کا واویلا کر رہی ہیں۔ یاد رکھو کہ کوئی آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند ٹیکنالوجی اب نہیں چلے گی! ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟'

رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’لڑکھڑاتی حکومت کو سینیٹ انتخابات سے قبل بڑی شکست ہوئی ہے۔ حکومت انتخابات سے بھاگنا چاہتی تھی مگر اسے راہ فرار نہیں ملا۔

’سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے جو سوال بھیجا اس کا جواب تو نفی میں ملا ہے۔ کیا سپریم کورٹ نے انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کے حق میں رائے دی، جواب ہے نہیں۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے رائے دی ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوسکتا ہے نہ کہ حکومت کی منشا کے مطابق۔ ’پنجاب میں اکثریت ہونے کے باوجود ہمارا ووٹ چوری کیا گیا۔‘

مسلم لیگ نواز کی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ’بدنیتی پر مبنی درخواست اٹھا کر باہر پھینک دی‘ ہے۔

اب سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

سپریم کورٹ کی رائے کو دونوں فریقین اپنی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں تاہم بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں اب کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کی رائے جاری ہونے کے بعد مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور وفاقی وزیر فواد چوہدری سمیت دیگر حکومتی وزرا کے وفد نے الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی تجویز کے بعد اب سینیٹ الیکشن میں سیاسی جماعتوں کے لیے بیلٹ خفیہ ہوگا لیکن الیکشن کمیشن کے لیے بیلٹ خفیہ نہیں ہوگا اور ہارس ٹریڈنگ یا دھاندلی کے الزامات لگنے پر وہ انکوائری کر سکے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 'سپریم کورٹ کی رائے واضح ہے۔ ووٹ کی شناخت ہوسکے گی۔'

انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں سینیٹرز منتخب ہونے کے بعد اب صرف 1700 کے قریب بیلٹ پیپر چھاپنے ہوں گی اور ملک میں کرنسی نوٹ کی طرح ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے ایسے بیلٹ پیپر تیار کیے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو تجویز دی ہے اور وہ اس کا فیصلہ اپنے اجلاس میں کریں گے، یہ بات فی الحال زیر غور ہے۔

آئینی ماہر اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں ایسے کوئی احکامات الیکشن کمیشن کو نہیں دیے جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ وہ ووٹ کی سیکریسی ختم کی جائے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس فیصلے میں عدالت عظمی نے سنہ 1968 کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا ہے جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ ووٹ کی سیکریسی دائمی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ رائے شماری کا خفیہ ہونا ہی ووٹ کے تقدس کو یقینی بناتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس میں عدالت سے آئین کے آرٹیکل 226 کے بارے میں صرف یہ رائے مانگی گئی تھی کہ کیا سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹنگ سے ہوسکتے ہیں جس کا جواب سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی اکثریت نے نفی میں دیا۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں جسٹس یحیی آفریدی کا اختلافی نوٹ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ جب رائے شماری کے بارے میں آیین میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزرا اعلی کے انتخابات کے علاوہ تمام انتخابات میں رائے شماری خفیہ ہوگی تو پھر صدر کی طرف سے اس طرح کا سوال کرنا بنتا ہی نہیں ہے۔

سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں مبینہ طور پر بدعنوانی کو روکنے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے جدید ٹیکٹالوجی استعمال کرنے کے بارے میں جو تجویز دی ہے الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد کرنے کا پابند نہیں ہے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کو روکنے کا اختیار پہلے ہی الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور سپریم کورٹ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو کوئی حکم نہیں جاری کرسکتی جب تک پارلیمنٹ اس حوالے سے آئین میں ترمیم نہ کرے۔

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دینے میں درمیانی راستہ نکالا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات کی پولنگ میں دو دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ الیکشن کمیشن بارڈ کوڈ بھی لگائے اور رائے شماری کو بھی خفیہ رکھے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے بدعنوانی کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کو کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا اور ایک رائے دی ہے جس پر عمل درآمد کرنا یا نہ کرنا الیکشن کمیشن کا صوابدیدی اختیار ہے تاہم حکمراں جماعت اس عدالتی رائے پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرر ہی ہے کہ سپریم کورٹ نے ووٹ کی جانچ پڑتال کے لیے الیکشن کمیشن کو بارڈ کوڈ یا سریل نمبر لگانے کا کہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’الیکشن کو سلیکشن بنانے کا خواب بھی چکنا چور‘

سیاسی جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر صارفین کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔

صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس رائے سے حکومت کے بجائے الیکشن کمیشن کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔

رائے کی تشریح کرتے ہوئے نیوز اینکر غریدہ فاروقی نے لکھا کہ ’فی الحال سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے مگر ووٹ کی سیکریسی تاقیامت بھی نہیں۔ آخرکار ’کوئی ایسا طریقہ‘ نکل ہی آیا۔ فی الحال معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد۔‘

صارف صدیق جان لکھتے ہیں کہ ’اب الیکشن کمیشن کو سینٹ کا ووٹ قابل شناخت بنانا ہوگا۔‘ جبکہ امداد علی سومرو کے مطابق ’سینیٹ الیکشن کو سلیکشن بنانے کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا۔‘

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی رائے کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ ووٹنگ کو ٹریسیبل بنایا جانا چاہیے۔ ’الیکشن کمیشن ضرورت کے تحت رازداری ختم کر سکے گا۔‘

اینکر کامران خان نے لکھا ہے کہ اس رائے کے تحت اب الیکشن کمیشن کو ’بیلٹ پیپر پر بار کوڈ یا سیریل نمبر‘ لگانا ہوگا ورنہ یہ توہین عدالت کا مرتکب ہوگا۔

مونا عالم نے لکھا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کا سینیٹ الیکشن پر صدارتی آرڈننس کالعدم ہوجاتا ہے۔‘

’عدالت ریفرنس پر رائے دے یا نہ دے اثرات سیاسی ہی ہوں گے‘

جمعرات کی سماعت کے دوران عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 226 جو کہ خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے کے بارے میں رائے مانگی ہے تو عدالت اپنے آپ کو صرف اس حد تک ہی محدود رکھے گی جبکہ متناسب نمائندگی کا معاملہ چونکہ عدالت کے سامنے نہیں آیا اس لیے اس بارے میں کوئی رائے نہیں دے گی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا جائزہ لینے سے سیکریسی ختم نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی شہری پیسہ لے کر ووٹ نہ دے یہ جرم ہوگا لیکن اگر کوئی ایم پی اے ووٹ نہ ڈالنے کے پیسے لے کر ووٹ ڈالے تو جرم نہیں ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ صدارتی ریفرنس سیاسی ہے۔ اُن کے مطابق اصل میں یہ ریفرنس آرٹیکل 226 کی تشریح کے لیے ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے حتمی ہوگی جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت عدالت کی رائے کی پابند ہو گی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا عدالتی رائے پر نظر ثانی درخواست آ سکتی ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ریفرینس پر نظر ثانی درخواستیں نہیں آ سکتی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے پھر یہ سوال کیا کہ کیا ایسا فیصلہ درست ہو گا جس کے اثرات سیاسی ہوں اور نظر ثانی بھی نہ ہو سکے جس پر خالد جاوید کا کہنا تھا کہ عدالت ہر چیز کا تفصیل سے جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کا سیاست سے تعلق نہیں اور وہ صرف آئین کی تشریح کرے گی جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ریفرنس پر رائے دے یا نہ دے اثرات سیاسی ہی ہوں گے۔

اٹارنی جنرل نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس ہرگز سیاسی معاملہ نہیں لیکن اس کے سیاسی نتائج ضرور ہوں گے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت شروع کی تو پاکستان بار کونسل کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سینیٹ کے انتخابات الیکشن ایکٹ سنہ 2017 کے تحت ہی ہوتے ہیں لیکن ان انتخابات کو آئین کے مطابق ہی سمجھا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں کوئی بدعنوانی سامنے آتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 226 کے بارے میں جو رائے مانگی گئی ہے اس میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ تمام انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہوں گے ماسوائے وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رشوت ووٹ سے جڑی ہو تو پھر کیسے اس سے روگردانی کی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ سینیٹ کے انتحابات میں پیسہ چلتا ہے تو پھر اس معاملے کو ٹھیک کیوں نہیں کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس اس مسئلے کو ٹھیک کرنے کا موقع تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ پیسوں کی وصولی کی جو مبینہ ویڈیو سامنے آئی ہے تو کیا دوبارہ ایسا ہی ہونا چاہیے، جس پر پاکستان بار کونسل کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

منصور عثمان نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں بل جمع کروایا جبکہ اوپن رائے شماری سے متعلق آرڈیننس بھی لے آئی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرڈیننس کیوں جاری ہوا یہ معاملہ عدالت کے سامنے نہیں آیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو وہ نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ بات کیسے کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بات خفیہ رائے شماری کی ہو رہی ہے اور وہ کسی رکنِ پارلیمان کی اہلی اور نااہلی کی باتیں کر رہے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ بدعنوانی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن سویا ہوا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کہ اسے مت اٹھاؤ۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخابات کروانا نہیں بلکہ بدعنوانی کو بھی روکنا ہے۔

صدارتی ریفرنس میں کیا ذکر کیا گیا تھا؟

وفاقی حکومت نے اگلے ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹنگ کے ذریعے کروانے سے متعلق سپریم کورٹ میں جو ریفرنس دائر کیا تھا، اس میں بات صرف ایک ہی نقطے کی تھی کہ کیا حکومت ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹنگ کے ذریعے ووٹ ڈلوانے کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے یا نہیں۔

ابھی یہ صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہی تھا کہ حکومت نے اس ضمن میں ایک صدارتی آرڈیننس جاری کردیا۔ چونکہ آئین کے آرٹیکل 226 جو کہ خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے، میں ترمیم کے لیے حکومت کے پاس پارلیمان میں درکار حمایت حاصل نہیں ہے تو اس لیے آرڈیننس جاری کیا گیا جو کہ صرف ایک وقت ہی استعمال ہوگا یعنی اگلے ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں اس کا نفاذ ہوگا۔

حکومت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو حزب مخالف کی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی اور حکومت کے پاس اس میں ترمیم کے لیے دو تہائی کی اکثریت نہیں تھی۔

اس صدارتی آرڈیننس میں سپریم کورٹ سے اس آرٹیکل کے حوالے سے رائے طلب کی گئی تھی۔ اٹارنی جنرل، صوبہ پنجاب، خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے ایڈووکیٹس جنرل نے تو اس صدارتی ریفرنس کی حمایت کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ سینیٹ کے انتخابات میں رشوت کو روکنے کے لیے حکومت کا یہ اقدام اچھا ہے، اس لیے سپریم کورٹ ایسا کرنے کی اجازت دے۔

اس صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان کو بھی طلب کر رکھا تھا اور حکومت کی یہ کوشش تھی کہ الیکشن کمیشن بھی اس مطالبے کی حمایت کرے۔

اس کے علاوہ اس ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ کی طرف سے بھی جو ریمارکس آئے ان میں بھی ساری ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا نہیں ہوا اور چیف الیکشن کمشنر نے تو صاف کہہ دیا کہ سینیٹ کے انتخابات کروانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ ووٹنگ ہی کروائے گا، تاہم انھوں نے کہا کہ بدعنوانی کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کی طرف سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی سمیت حزب مخالف کی جماعتوں اور وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کی طرف سے اس صدارتی ریفرنس اور اس سلسلے میں جاری ہونے والے آرڈیننس کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اگر سینیٹ کے انتخابات میں ارکان پارلیمنٹ کو پیسہ دیا جاتا ہے تو ثبوت سامنے آنے کی صورت میں ہی کسی کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے، محض مفروضوں کو بنیاد بنا کر نہ تو قانون سازی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی آرڈیننس جاری کیا جاسکتا ہے۔

اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن کا مؤقف یہی تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کو دیکھتے ہوئے سینیٹ میں ان کی نشستیں ہونی چاہیے تبھی متناسب نمائندگی کی تعریف پوری ہوتی ہے تاہم سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل، رضا ربانی اور حزب مخالف کی جماعتوں کے وکلا نے اس نکتے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت اوپن بیلٹنگ نہیں بلکہ 'خفیہ رائے شماری' ہی ہوسکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر سینیٹ کے انتحابات اوپن بیلٹنگ سے کروانے کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا گیا تو پھر پارلیمان کے ارکان 'ڈیپ سٹیٹ کے رحم وکرم پر ہوں گے'۔

اٹارنی جنرل نے سماعت کے دوران یہاں تک کہہ دیا تھا کہ لوگ اسلام آباد میں نوٹوں کے بیگ لیے پھر رہے ہیں اور تمام کی نظریں اس صدارتی ارڈیننس کے بارے میں عدالتی فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اٹارنی جنرل کے اس بیان کا نوٹس لیا اور ان سے شواہد مانگے لیکن ابھی تک اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے کوئی ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروایا گیا۔

ایک مہینے تک اس ریفرنس کی سماعت ہونے پر اٹارنی جنرل نے بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ عدالت اس ریفرنس پر رائے جلد دے کیونکہ سینیٹ کے انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔

پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل کی طرف سے اس صدارتی ریفرنس میں فریق بننے پر بھی اٹارنی جنرل خوش نہیں تھے اور انھوں نے اس پانچ رکنی بینچ سے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس میں چونکہ عدالت سے رائے مانگی گئی ہے اس لیے عدالت کو کسی فریق کو سننے کی ضرورت نہیں ہے اور عدالت ان کے یعنی اٹارنی جنرل کے دلائل سننے کے بعد اپنی رائے دے۔

سینیٹ کے انتخابات کے لیے ووٹنگ 3 مارچ کو ہونی ہے۔