عامر لیاقت کی ہندو برادری سے معافی، ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور

پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر عامر لیاقت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ہندو دیوی کی تصویر پوسٹ کرنے پر ہندو برادری سے معامی مانگتے ہوئے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی ہے۔

عامر لیاقت حسین نے مریم نواز پر تنقید کی غرض سے اس تصویر کا استعمال کیا تھا۔

عامر لیاقت نے بظاہر ہندو دیوی کالی ماتا کی تصویر کو پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے ایک بیان کے ٹی وی سے لیے گئے عکس کے ساتھ 'دوسرا روپ' کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ ’یہ اب میرا دوسرا روپ دیکھیں گے، مریم نواز‘۔

عامر لیاقت نے ٹویٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہندو کمیونٹی کے جذبات مجروح ہوئے معافی کا خواست گار ہوں مقصد ہر گز ایسا نہیں تھا، ٹویٹ ہٹا دیا ہے، میں تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں یہی میرے دین کی تعلیمات ہیں، ایک بار پھر معذدت۔‘

عامر لیاقت کی ٹویت پر تنقید

عامر لیاقت کی اس ٹویٹ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا جہاں زیادہ تر صارفین کا مؤقف تھا کہ اس طرح انھوں نے ہندو برادری کے افراد کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

بعض صارفین نے پاکستان تحریک انصاف اور وزیرِ اعظم عمران خان سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے جبکہ کئی افراد نے خود عامر لیاقت کو یہ ٹویٹ ہٹانے کا کہا تھا۔ کئی صارفین یہ سوال اٹھاتے بھی نظر آئے کہ کیا اس پر پاکستان میں لاگو توہینِ مذہب کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

بی بی سی نے اس بارے میں عامر لیاقت حسین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ عامر لیاقت مذہبی عالم کے طور پر بھی کئی مقامی ٹی وی چینلز پر پروگرام کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن کپل دیو نے لکھا کہ 'یہ ایک موجودہ ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن ہیں جو ایک ہندو دیوی کی تصویر کو ن لیگ کی رہنما مریم نواز کے خلاف محض سیاسی نکتہ چینی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔'

کپل دیو نے مزید لکھا کہ 'اس طرح یہ دوسرے مذاہب اور اپنے ہی ملک کے 50 لاکھ ہندو شہریوں کا احترام کرتے ہیں جن میں ان کی جماعت کے ہندو ارکان اور ووٹر بھی شامل ہیں۔'

نیرج سنیل نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'توہینِ مذہب نہیں کیونکہ آپ مراعات یافتہ ہیں۔ یہ ایک نامور مذہی عالم کی طرف سے آ رہا ہے جنھیں مذاہب کے درمیان برداشت پیدا کرنی چاہیے لیکن افسوس۔'

آرتی کماری نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ 'ایسے کوئی قوانین نہیں ہوتے جب بات ہندوؤں کے جذبات مجروح کرنے کی ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں اس (ٹویٹ) کو فوری ہٹایا جائے اور عامر لیاقت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔'

انسانی حقوق کی وکیل اور قانونی ماہر ربیعہ باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں لاگو توہینِ مذہب کے قوانین کے اندر ہر مذہب کے افراد کے مذہبی احساسات اور جذبات کو مجروح کرنے کے خلاف سزا موجود ہے۔

'تعزیراتِ پاکستان کے قانون 295 اے کے مطابق اگر کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے مذہبی جذبات کر مجروح کیا جائے یا ان کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑایا جائے تو اس کے خلاف توہینِ مذہب کے قوانین کے تحت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے الزامات کی صورت میں مجسٹریٹ کو شکایت درج کروانا ہوتی ہے جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عملی طور پر توہینِ مذہب کے قوانین پر زیادہ سختی سے عملدرآمد دو صورتوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ ’اگر الزامات توہینِ رسالت یا توہینِ قرآن کے حوالے سے ہوں تو ان کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔‘

ونود مہیشوری نامی ایک صارف نے پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس ٹویٹ کو فوری طور پر ہٹایا جائے ’ورنہ دوسری صورت میں احتجاج کے لیے تیار رہیں۔‘

ٹوئٹر پر عامر لیاقت کی طرف سے اس ٹویٹ کے سامنے آنے کے ساتھ اس پر کیے جانے والے تبصرے میں زیادہ تر افراد کی رائے تھی کہ انھیں 'کسی کے مذہب کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔‘

ٹوئٹر پر ایک صارف شمائلہ اسماعیل نے عامر لیاقت کے ٹویٹ کے نیچے لکھا کہ ’کسی کے خدا کو برا نہ کہو کوئی آپ کے خدا کو برا نہیں کہے گا۔ آپ خود کو مذہبی سکالر کہتے ہیں، کسی کے مذہب کا مذاق اڑانا کہاں لکھا ہے۔‘

شہزاد احمد نامی دوسرے صارف کا کہنا تھا کہ ’سر، یہ آپ کی طرف سے انتہائی قابلِ شرم اظہار ہے۔ ہم اپنے ہندو بھائی بہنوں کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں جنھیں آپ نے رسوا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’امید ہے کہ آپ جلد اسے ہٹا دیں گے اور ان لوگوں سے معافی مانگیں گے جن کی آپ نے تضحیک کی ہے۔‘